مصر کا وہ شہر جو عظیم فاتح صحابیؓ نے تعمیر کرایا مگر ایک خاص وجہ سے اسکو جلادیا گیا توآگ 45دن تک جلتی رہی

مصر کا وہ شہر جو عظیم فاتح صحابیؓ نے تعمیر کرایا مگر ایک خاص وجہ سے اسکو ...
مصر کا وہ شہر جو عظیم فاتح صحابیؓ نے تعمیر کرایا مگر ایک خاص وجہ سے اسکو جلادیا گیا توآگ 45دن تک جلتی رہی

  

لاہور (نظام الدولہ)مدینہ سے مصر تک مسلمان فاتحین نے بہت سے نئے شہر آباد کئے جو آج بھی تہذیب وثقافت کے آئینہ دار ہیں ۔اگرچہ کچھ شہروں اورملکوں کے نام تبدیل کردئےے گئے اور امتداد زمانہ کے بعد ان پر کڑا وقت بھی آیا لیکن ابھی تک ان شہروں میں قدیم مسلمانوں کے آثار نظر آتے ہیں ۔آج کے مصری شہر قاہرہ سے ملحقہ ایک پراناقاہرہ بھی موجود ہے جس کو عظیم القدر صحابی رسولؓ فاتح فاتح اسکندریہ حضرت عمرو بن عاصؓ نے تعمیر کرایا تھا ۔یہ شہر مسلم مصر میں الفسطاط کے نام سے معروف تھا ۔مسلمانوں کے عہد میں یہ مصر کا دارلحکومت تھا۔تاریخ بتاتی ہے کہ فتح اسکندریہ کے بعد حضرت عمروؓ نے حضرت عمر فاروقؓ کو لکھا کہ کیا ہم یہاں رہائش رکھ سکتے ہیں؟امیر المومنین نے جواب بھیجا ”مسلمانوں کو ایسی جگہ مت ٹھہراﺅ کہ میرے اور ان کے درمیان کوئی دریا یا سمندر حائل ہوتا ہو“،حضرت عمروؓ نے ساتھیوں سے مشورہ کیا تو انہوں نے کہا ”اے امیر!آپ کے خیمے (فسطاط)کے پاس ہی ٹھہرانا چاہیے،وہاں پانی بھی ہے اور صحرا بھی ہے“

عمروؓنے لشکر کو حکم دیا اور وہ دریائے نیل کے مشرقی کنارے فسطاط (خیمے)کی جگہ آگئے اور وہ آپس میں کہتے تھے ”میں فسطاط کے دائیں جانب ہوں“اور ”میں فسطاط کے بائیں جانب ہوں۔“ اسی سے اس شہر کا نام فسطاط پڑ گیا۔ فتح مصر کے بعد نیا صدر مقام بابلیون کے نزدیک بسایا گیا جس کی نوعیت خالص عسکری تھی۔یہ نیا شہر دریائے نیل کے ساتھ ساتھ تقریباً تین میل تک پھیلا ہوا تھا۔ بابلیون کے شمال میں گورنر مصرحضرت عمروبن عاصؓ کی قیام گاہ تھی جس کی نشان دہی مسجد عمروؓ کرتی ہے۔254ھ/868ءمیں احمد بن طولون کی خود مختاری سے تاریخ مصر کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا جس کی یادگار جامع ابن طولون آج بھی موجود ہے۔آخری فاطمی خلیفہ العاضد کے عہد(555ھ۔567ھ)میں صلیبی جنگجو مصر آئے تو مورچہ بند قاہرہ کے برعکس فسطاط کی حفاظت کا کوئی انتظام نہ تھا، لہٰذا اس پر عیسائیوں کے ممکنہ قبضے کے پیش نظر وزیر شاور نے19صفر567ھ/22نومبر1168ءکو اسے نذر آتش کرنے کاحکم دیا۔20ہزار سے زائد نقطہ(آتش گیر مادہ ،یعنی پٹرولیم وغیرہ)کے ظروف سارے شہر میں جگہ جگہ رکھوا دیئے گئے اور آگ45دن جلتی رہی۔اس کے بعد قاہرہ(تعمیر شدہ358ھ/969ئ)تجارت کا مرکز بن گیا۔ بچے کھچے فسطاط کو اب مصر العتیقہ یا قدیم قاہرہ کہا جانے لگا،چنانچہ اٹھارھویں صدی عیسوی کے اواخر میں حملہ آور فرانسیسیوں نے اسےLe Vieux Kaireکا نام دیا۔

خلیج امیر المومنین نہر فسطاط کے شمال میں دریائے نیل سے نکلتی اور قدیم عین الشمس (Heliopils)میں سے گزرتی تھی اور (شرقی ) میدان عبور کرکے .... سویس (سویز)کے قریب سمندر(خلیج قلزم)میں جاگرتی تھی۔یہ نہر گاد اور مٹی سے اٹ گئی تھی۔اسے عمرو بن عاصؓ نے صاف کرایا تاکہ اس کے ذریعے سے فسطاط اور حجاز کے درمیان مقامات مقدسہ کو اناج کی رسد پہنچائی جائے۔اب اسے”خلیج امیر المومنین“کا نام ملا۔ بعد میں اس کے مختلف قطعوں کے الگ الگ نام ہو گئے۔آخری صدیوں میں سمندر تک جانے کے بجائے یہ نہر قاہرہ کے شمال میں برکة الجب پر ختم ہو گئی تھی۔اس کی گزر گاہ اب تک قابل شناخت ہے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس