صبح روشن منتظر ہے

صبح روشن منتظر ہے
صبح روشن منتظر ہے

  

اس بات میں کوئی شک نہیں کہ قوموں کی زندگی میں بحران آتے رہتے ہیں اور کوئی بحران آخری نہیں ہوتا۔مگر جہاں قومیں زندہ اور قیادت با شعور ہوتی ہے وہاں ہراندھیری رات کے بعد اک صبح روشن منتظر ہوتی ہے۔زوال کے بعد ایک عروج خم ٹھونکتا دکھائی دیتا ہے۔

قوم کا ہر زخم مندمل ہو جاتا ہے۔

دوسری جنگ عظیم کیا کہانی سناتی ہے؟ کیا تباہ ہونے والی جاپانی، جرمن اور دیگر قوموں نے آئندہ چند برسوں میں اپنی بے مثل ترقی سے دنیا کو ورطۂ حیرت میں نہیں ڈالا؟ مسائل پر قابو پانے سے ہی قوموں کی شناخت بنتی ہے۔بدقسمتی ، خوش قسمتی کی آمد کا اعلان کرتی ہے۔قیادت کے جوابی اقدامات طے کرتے ہیں کہ بحران جلد حل ہوگا یا قوم کے کئی قیمتی ماہ وسال اس کی نذر ہوں گے۔کسی بھی بحران کے عوامل اندرونی، بیرونی یا پھر دونوں ہو سکتے ہیں۔ان عوامل کی درست شناخت کرنا اور ان کا بہترین حل نکالناہی قومی رہنماؤں کی بصیرت کا اصل امتحان ہوتا ہے۔

تاریخ گواہ ہے جتنی بڑی اٹکل اتنی بڑی کامیابی۔کیا آج ہم ایک طوفان کے سنگدل تھپیڑوں کے سامنے نہیں کھڑے؟ کیا اندرونی اور بیرونی دشمن ہمیں منہ کے بل گرانے کی کوشش میں نہیں ہیں۔کیا ’’ففتھ جنریشن وار‘‘ نامی منہ زور طوفان کا رخ ہماری قومی سلامتی ، ملی یکجہتی، نیوکلیائی اثاثہ جات، سیاسی ،سماجی و معاشی نظام اور دفاعی صلاحیت کی طرف نہیں ہے۔

کیا اس بحران کے سامنے ہم تاش کے پتوں کی طرح بکھر جائیں گے یا پھر سیسہ پلائی دیوار ثابت ہوں گے؟یقین کر لیں اگر قومی قیادت ذاتی انا کی جنگ لڑے گی تو تاش کے پتے، قومی مفاد مد نظر رکھے گی تو سیسہ پلائی دیوارثابت ہوں گے۔

تاریخ عالم شاہد ہے کہ ذی شعوراقوام اور ان کے رہنماؤں نے مشکل حالات میں نہ صرف اپنی غلطیوں کو سدھارا بلکہ بد ترین حالات کو ایک موقعہ گردانتے ہوئے نئی قومی سمت کا تعین کرتے ہوئے ترقی کی ایسی مثالیں قائم کیں کہ دنیا مبہوت ہو گئی ۔

ہر بحران کی کوکھ سے کئی نعمتیں جنم لیتی ہیں تو کیوں نہ ہم بھی اس بحران کو ترقی کا ایک زینہ سمجھیں اور سازشوں کے مقابلے کے لیے پوری قوت سے کھڑے ہو جائیں۔ ایک دوسرے کو غدار قرار دینے کی بجائے اپنی حب الوطنی پر توجہ دیں۔اگر ہم نے اپنی اندرونی گروہی طاقتوں کو اجتمائی طاقت میں نہ بدلا توبیرونی دشمن بغلیں بجائے گا اور ہمارے زوال کی داستانوں کا مورخ بنے گا۔تحریک پاکستان سے قیام پاکستان تک کا سفر اس امر کا مظہر ہے کہ یہ عظیم قوم سیاسی عمل کی طاقت پر یقین رکھتی ہے۔

دشمنوں کی کسی بھی مہم جوئی کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے اس قوم نے اپنے سپوت بلا جھجک پاک فوج میں قربانیوں کے لیے پیش کیے اور وطن عزیز کے دفاع کے لیے عسکری قوت کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑے ہوئے اور ملکی ترقی کے لیے اپنی آمدن کا ایک خطیر حصہ بطورٹیکس ادا کرکے وطن سے اپنی لازوال محبت کا ثبوت دیا ہے۔ ہمارے عوام تو اپنے سیاسی و عسکری اکابربن کے ساتھ اپنی لازوال اور والہانہ محبت کا اظہار نعرۂ مستانہ بلند کر کے کرتے رہتے ہیں ۔

تو پھر کیا ایسے ایسی عوام کو ترقی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے اہل اقتدار کو اپنی انا کو پس پشت ڈال کر اپنے اصولی اور آئینی کردارکو بطریق احسن اد ا نہیں کرنا چاہیے تاکہ اندرونی و بیرونی بحرانوں کا راستہ کامیابی سے روکا جا سکے۔

یہاں یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ بحرانوں کا پیدا ہونا ہمیں اپنی غلطیوں کا ادراک کرنے اور انہیں سدھارنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔کیا ہمارے رہنماؤں کا اپنے آپ سے یہ سوال کرنا نہیں بنتا ہے کہ ہم کون ہیں؟ ہمارا مقصد حیات کیا ہے؟ کیا ہم درست سمت میں جا رہے ہیں؟ کیا ہم اپنی موجودہ حکمت عملی سے اپنی منزل پر پہنچ پائیں گے؟ کیا ہمارا موجودہ طرز عمل ہمارے ملک و ملت کے لیے سود مند ہے؟ اگر جواب نفی میں ہے تو پھر رک کر دوبارہ سوچنا ہو گا۔ منزل کا تعین دوبارہ کرنا ہوگا۔

اپنی شناخت بارے دوبارہ سوچنا ہوگا اور پھر نئی قوت کے ساتھ، نئے عہد کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔

بلا شبہ ہمارے دشمن ہماری سرحدوں کے اندر اور باہر موجود ہیں،مگر ہم متحد ہونے کی بجائے منتشر ہیں۔اس انتشار کی ذمہ داری تقریباتمام آئینی اداروں پر عائد ہوتی ہے۔

تاریخ گواہی دے گی کہ اس نازک دور میں کس نے کیا کردار کیا؟کیا قوم کو رہنماؤں نے تباہ کر دیا ، بچا لیا، یا پھر ایک نئی بلند منزل تک پہنچا دیا؟۔۔۔اس وقت یقیناایک نئے قومی عمرانی معاہدے کی ضرورت ہے جس میں کوئی بھی قانون سے بالا نہ رہے۔

تمام قومی اداروں اور سول قیادت سب کا برابر احتساب ہو سکے۔ تمام ادارے پارلیمنٹ کے سامنے اور پارلیمنٹ عوام کے سامنے جواب دہ ہوں۔

مزید : رائے /کالم