آزاد قوم، آزاد ٹریفک ،آزاد سیاست

آزاد قوم، آزاد ٹریفک ،آزاد سیاست
آزاد قوم، آزاد ٹریفک ،آزاد سیاست

  

پاکستان میں ٹریفک بہت ہی بے ہنگم ہے اور ہر کوئی اللہ اور دوسروں کے رحم و کرم پر گاڑی چلا رہا ہوتا ہے۔ پورے ملک میں کہیں بھی وقت کی پابندی کا کوئی احساس تک نہیں لیکن ٹریفک میں ہر بندہ جلدی میں ہوتا ہے اور کسی بھی حال میں دوسروں کو راستہ دینے کی بجائے خود آگے نکلنے کی تگ و دو میں ہوتا ہے جیسے اسی نے جا کر آزادکشمیر کے جنگلوں میں لگائی گئی آگ پر پانی برسانا ہے۔

اور اسی کوشش میں کسی غلط جگہ گاڑی پھنسا کر ساری ٹریفک بند کر کے پھر خود بھی آرام سے بیٹھ جاتے ہیں۔ ٹریفک کی بے قاعدگیوں کا ریکارڈ سیاسی ٹریفک کی قلابازیوں نے توڑ دیا ہے۔ جتنی گندی اور بے ہنگم سیاسی ٹریفک اس الیکشن سے پہلے دیکھنے میں آرہی ہے اتنی دنیا کے کسی ملک میں ہوگی نہ اس سے پہلے پاکستان میں اس کی کوئی مثال ملتی ہے۔

پچھلے چند ہفتوں میں سیاستدانوں کا جو کردار سامنے آیا ہے اسے دیکھتے ہوئے اداروں کی سیاست میں مداخلت اور چیف جسٹس صاحب کے مختلف اداروں میں چھاپے بالکل بھی عجیب نہیں لگتے۔

دراصل پاکستان دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو بعض حوالوں سے صحیح معنوں میں آزاد ہے اسکی آزادی کی اس سے بڑی کیا مثال ہوگی کہ پاکستان کے قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے 75% حلقوں میں آزاد امیدوار انتخاب میں حصہ لے رہے ہیں جن میں کئی جیتنے کی پوزیشن میں ہیں۔ تمام سیاستدانوں کو یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ بغیر آئین و منشور پڑھے،یہ جب چاہیں جس جماعت سے نکل کر جس جماعت میں چاہیں شامل ہو جائیں۔

ہمارے بعض راہنما ایسے بھی ہیں جنہوں نے چوبیس گھنٹے میں 3 بار پارٹی تبدیل کی ہے۔ وہ بھی ہیں جو ایک ہفتہ پہلے تک اپنے لیڈر کے دفاع میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے تھے اور آج اسی راہنما کو غدار کہہ رہے ہیں۔

ایسی آزادی یا ایسی عیاشی دنیا کے کسی دوسرے ملک کے باشندوں کو حاصل نہیں۔ دوسرے ممالک میں تو لوگ کسی اصول کی بنیاد پر جماعت چھوڑ دیں تو پھر سیاست ہی چھوڑ دیتے ہیں مگر کسی دوسری جماعت میں شمولیت اختیار نہیں کرتے کیونکہ دوسری جماعتوں کا اپنا اپنا نظریہ ہوتا ہے جس سے اختلاف کی وجہ سے بندہ اپنی جماعت میں تھا۔ناروے کی موجودہ پارلیمنٹ کے اندر جس اتحاد کی حکومت ہے اس حکومت کی اتحادی ایک جماعت( کرسچین ڈیموکریٹک پارٹی ) چند معاملات پر اختلاف کے سبب حکومت میں شامل نہیں ہے اور اگر کرسچین ڈیموکریٹک پارٹی دوسرے اتحاد کی طرف چلی جائے تو ان کی حکومت بن سکتی ہے ، وہ ناراض بیٹھے ہیں لیکن اپنے نظریات کی وجہ سے دوسری طرف نہیں گئے حالانکہ دوسری طرف سے وزارتوں کی پیشکش موجود ہے۔

اس سے پچھلی حکومت بھی اسی دائیں بازو کے اتحاد کی تھی اور اس میں بھی دو جماعتیں اختلافات کے سبب دو سال تک حکومت میں شامل ہوئے بغیر حکومت کی مدد کرتی رہیں۔ در اصل وہاں جماعتیں کسی نظریے پر وجود میں آتی ہیں اور ان کا نظریہ ان کے ایمان کا حصہ ہوتا ہے۔

وہ صادق اور امین ہیں ۔ اب کسی کو کوئی شک نہیں ہونا چاہیے کہ پاکستان دنیا کا واحد آزاد ملک ہے۔ اس کی آزادی ہر گلی، محلے اور چوک میں نمایاں نظر آتی ہے۔ آپ جہاں چاہیں پان یا نسوار تھوک سکتے ہیں، جس دیوار یا کھمبے پر جس چیز کا چاہیں اشتہار آویزاں کر سکتے ہیں۔ کسی بھی جگہ وقت کی پابندی ہے نہ قطار کی۔

کسی بازار میں آپ جس طرح کی اور جس چیز کی چاہیں دکان کھولیں، کوئی ترتیب ہے نہ پلاننگ۔ ایک دودھ دہی کی دکان ہے تو اگلی گاڑیوں کی ورکشاپ ہے اس کے ساتھ ہی حجام اور اس کے آگے سبزی کی دکان ہے۔ جس کا جب جی چاہے محلے میں شامیانے لگا کر گلی بند کر لے،۔

ابھی کل کی بات ہے میں ایک دو رویہ سڑک پر اپنے ہاتھ گاڑی چلا کر آرہا تھا تو آگے شادی ہال کے باہر شاید رخصتی کا وقت تھا باراتی سڑک بلاک کر کے کھڑے تھے ان کی بلا سے کہ ٹریفک کدھر کو جائے۔ لوگ میری طرح مجبور ہو کر ریورس گیئر لگا کر اپنی مخالف سمت جانے پر مجبور تھے۔ لاہور کے صدر بازار میں انتخابات کے سلسلے میں ایک کارنر میٹنگ ہو رہی ہے جس کی وجہ سے سڑک بند کی گئی ہے۔اس ملک میں جس کا جی چاہتا ہے وہ کہیں بھی جا کر ٹانگ اڑا لے کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔اس آزادی سے ہمارے ایک سپاہی سے لیکر اداروں کے سربراہان تک اور ایک عام آدمی سے لیکر قومی سیاسی جماعتوں کے سربراہان تک سب ہی مستفید ہو رہے ہیں۔ اسی لیے تو کسی بھی سیاسی جماعت کا سربراہ جب چاہے تاحیات چیئرپرسن بن جائے اور اپنی جماعت کو فیملی کی لمیٹڈ کمپنی بنا لے۔

ہمارے افسران کی تربیت اس طرح کی جاتی ہے کہ وہ بین الاقوامی حالات سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔ ہمارے سیاستدان حکومت سے فراغت ملتے ہی سیدھا یورپ کا رخ کرتے ہیں اور اس وقت تک وہیں آباد رہتے ہیں جب تک ان کو خلا سے بلاوا نہیں آتا کہ واپس آجاو اب آپ سے زیادہ کرپٹ لوگوں کو فارغ کیا جانا ہے لہذا عوام کو آپ جیسے صاف ستھرے سیاستدانوں کی ضرورت ہے۔

لیکن حرام ہے جو اس عرصے میں ہمارے سیاستدان اس ترقی یافتہ ممالک سے جن میں ان کا قیام رہتا ہے کچھ سیکھ لیں اور اپنے حالات بدلنے کی کوشش کریں۔

اب ہم ایک نئی تبدیلی کا راستہ دیکھ رہے ہیں اس امید کے ساتھ کہ پاکستان پر بہت جلد صبح سہانی طلوع ہونے والی ہے اور اب دو نہیں ایک پاکستان بننے جا رہا ہے تو ہمارے سیاستدانوں اور گاڑی ڈرائیوروں کو نئے سرے سے تربیت ملے گی۔ ایسے قوانین متعارف کروائے جائیں گے کہ دونوں طرح کی ٹریفک میں روانی بھی آئے اور ترتیب بھی۔

مزید :

رائے -کالم -