انتخابی مہم کو تشدد سے پاک رکھیں

انتخابی مہم کو تشدد سے پاک رکھیں

کراچی کے علاقے لیاری میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے قافلے پر پتھراؤ کیا گیا اور ڈنڈے برسائے گئے جس سے ایک گاڑی اور پولیس موبائل کے شیشے ٹوٹ گئے۔ پتھراؤ کے دوران بلاول بھٹو کا قافلہ پھنس گیا، پولیس نے مظاہرین پر لاٹھی چارج اور آنسو گیس کی شیلنگ کی، پیپلز پارٹی کے جیالوں اور مظاہرین نے ایک دوسرے پر پتھراؤ کیا جس سے متعدد افراد زخمی ہوگئے کہا گیا ہے، مظاہرین پانی کی قِلت پر احتجاج کررہے تھے اور ’’گو بلاول گو‘‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ خواتین بھی چھتوں پر چڑھ کر مٹکے بجاتی رہیں، فیصل آباد میں تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے کارکنوں کے درمیان فائرنگ سے 5 افراد زخمی ہوگئے بہاول پور میں مسلم لیگی رہنما کو ووٹروں نے نرغے میں لے لیا جبکہ سابق وزیر مملکت رانا افضل کو کارنرمیٹنگ کے دوران ووٹروں نے گھیر لیا ابھی انتخابی مہم شروع ہی ہوئی ہے اور مختلف مقامات سے تشدد کی اطلاعات آرہی ہیں جو اس لحاظ سے تشویش ناک ہیں کہ اگر یہ سلسلہ بڑھ اور پھیل گیا اور اس کے اثرات مختلف شہروں میں مرتب ہونے لگے تو یہ پُر امن فضا کو خراب کرنے کا باعث بنیں گے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ انتخابی امیدوار، پارٹیوں کے حامی اور مخالف سب انتخابی ضابطۂ اخلاق کو مدِ نظر رکھیں اور کوئی ایسی بات نہ کریں جو امن و امان کی خرابی کا باعث بنے۔

گزشتہ چند دن میں یہ دیکھا گیا ہے کہ اگر کوئی امیدوار کسی حلقے میں جاتا ہے تو چند لوگ اس کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے لئے سامنے آجاتے ہیں پھر اس کی وڈیو پھیلائی جاتی ہے اور یہ تاثر دینے کی کوشش کی جاتی ہے کہ پورے حلقے میں ہی کسی مخصوص امیدوار کے خلاف جذبات کا وسیع پیمانے پر اظہار کیا جارہا ہے حالانکہ لاکھوں ووٹروں کے حلقے میں چند درجن لوگ نہ تو اس حلقے کے لوگوں کی اکثریتی رائے کے ترجمان ہوتے ہیں اور نہ ہی اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کوئی مخصوص امیدوار کسی حلقے میں مقبول یا غیرمقبول ہے، احتجاج کا حق چند شرائط کے ساتھ مشروط ہے اگر کسی حلقے کے ووٹروں کو یہ شکایت ہے کہ اس کا سابق نمائندہ اُن کی توقعات پر پورا نہیں اُترا یا ان کے مسائل حل کرانے میں کامیاب نہیں ہوا، ووٹروں کا گلہ شکوہ اپنی جگہ سو فیصد درست بھی ہوسکتا ہے اور اس میں مبالغہ آرائی بھی ممکن ہے کیونکہ حلقوں کی اپنی سیاست ہوتی ہے اور کوئی بھی رکن پورے حلقے کو مطمئن نہیں کرسکتا تاہم اگر کوئی ایسا امیدوار دوبارہ الیکشن کے لئے میدان میں آتا ہے اور ووٹر اپنا احتجاج ریکارڈ کرانا ضروری سمجھتے ہیں تو قرینے اور سلیقے سے ایسا کیا جاسکتا ہے اس کے لئے تشدد کا سہارا لینا کسی طور پر مناسب نہیں کیونکہ اگر یہ سلسلہ حل نکلا تو کہیں کا کہیں پہنچ سکتا ہے، احتجاج کا ایک بہتر اور شریفانہ انداز یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ووٹر اپنے ووٹوں کی طاقت سے اپنا نمائندہ بدل لیں اور اس رُکن کو دوبارہ منتخب نہ کریں جس کے متعلق ان کا خیال ہے کہ اس نے اُن کے مطالبات منوانے میں پہلو تہی کی ہے۔

لیاری میں بلاول بھٹو زرداری پہلی مرتبہ ریلی نکال رہے تھے اس حلقے کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے کہ یہ پیپلز پارٹی کا گڑھ ہے اور ماضی میں یہاں سے پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے لوگ جیتتے رہے ہیں، اب بھی پیپلز پارٹی اس حلقے سے جیت کی امید لگائے بیٹھی ہے، تاہم حلقے کے لوگوں کو اگر پیپلز پارٹی کی صوبائی حکومت سے شکایت ہے تو اس کا اظہار زیادہ بہتر طریقے سے ہوسکتا تھا پتھراؤ اور ڈنڈے برسانے یا پولیس کے لاٹھی چارج کی نوبت نہیںآنی چاہئے تھی، کیونکہ آج اگر کراچی کے ایک حلقے میں بلاول کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آیا ہے تو کل کو کسی دوسرے سیاست دان کے ساتھ کہیں اور اسی طرح کا واقعہ پیش آسکتا ہے، اس لئے یہ بہت ضروری ہے کہ سیاسی جماعتیں اور امیدوار ضابطۂ اخلاق کی پابندی کریں۔ ووٹر بھی احتجاج کو اخلاقی حدود میں رکھیں اور اس میں تشدد کا عنصرنہ آنے دیں۔

فیصل آباد میں بھی تحریک انصاف اور مسلم لیگ (ن) کے ورکروں کے درمیان فائرنگ کا افسوس ناک واقعہ پیش آیا ہے اس سلسلے کو یہیں روکنے کی ضرورت ہے، خدشہ ہے کہ یہ سلسلہ پھیل گیا تو یہ کسی بھی سیاسی جماعت کے لئے اچھا نہیں ہوگا، امیدواروں اور جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ اپنا اپنا پیغام عوام تک پرامن طور پر پہنچائیں، مخالفین پر نکتہ چینی کرتے وقت وہ اخلاقیات کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں اور نہ ہی مخالف سیاست دانوں اور امیدواروں کے خلاف ایسے القابات کا استعمال کریں جس سے مشتعل ہو کر مخالفین بھی ایسے ہی الفاظ کا سہارا لینے لگیں، انتخابی مہم کو پُر امن رکھنا ہر امیدوار اور ہر سیاسی جماعت کے اپنے مفاد میں اس لئے بھی ہے کہ اگر اشتعال انگیزیوں کا سلسلہ بڑھ کر قابو سے باہر ہوگیا تو اس کا نتیجہ کچھ بھی نکل سکتا ہے اور اس کے اثرات کسی ایک حلقے سے نکل کر دوسرے حلقے یا کسی صوبے یا پھر پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔

جہاں تک ووٹروں کا تعلق ہے انہیں متاثر کرنے کے لئے پارٹیوں کا منشور اُن کے سامنے رکھنا ضروری ہے اور انہیں یہ بتانا چاہئے کہ آئندہ وہ کس انداز میں خدمت کریں گے اور اگر ماضی میں کوئی کوتاہیاں ہوچکی ہیں تو اس پر معذرت بھی کی جاسکتی ہے لیکن انتخابی مہم کو تشدد کی راہ پر لے جانا کسی کے لئے بھی اچھا نہیں ہوگا اُن لوگوں کے لئے بھی نہیں جو اپنی جیت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ اگر کوئی واقعی یہ سمجھتا ہے کہ وہ الیکشن جیت رہا ہے اور جیت کی صورت میں اس کی حکومت بننے کے امکانات بھی ہیں تو اس کے لئے یہ اور بھی ضروری ہے کہ وہ انتخابی مہم کو پُر تشدد ہونے سے بچانے کے لئے اپنا کردار ادا کرے کیونکہ اگر یہ سلسلہ دراز تر ہوگیا تو جیتنے اور ہارنے کی امید لگانے والوں کے لئے یکساں نقصان دہ ہوگا۔جو حضرات ٹی وی چینلوں پر آکر اپنی اپنی جماعتوں کا موقف بیان کرتے ہیں اُن کے لئے بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے جذبات کو قابو میں رکھ کر بات کریں، دلیل کا سہارا لیں الفاظ کے تشدد سے گریز کریں، مخالفین کو صلواتیں سنانے کی بجائے ٹی وی چینل کے ذریعے ووٹروں کو بتائیں کہ اُن کے پاس اُن کی فلاح و بہبود کے کیا منصوبے ہیں اور وہ ملک وقوم کی بہتری کے لئے کیا کرسکتے ہیں؟ مخالفوں کو چوروں اور ڈاکوؤں کے نام سے یاد کیا جائے گا تو لوگ یہ سمجھنے پرمجبور ہوں گے کہ آپ کے پاس کوئی مثبت پروگرام نہیں ہے اور آپ صرف دوسروں کوچور ڈاکو کہہ کر اپنا وقت گزارنا چاہتے ہیں، عام جلسوں یا ریلیوں میں مخالفین کو نشانے پر رکھنے سے ضروری نہیں کہ آپ ووٹر تک اپنا مثبت پیغام پہنچانے میں بھی کامیاب ہوں۔

مزید : رائے /اداریہ