انتخابی امیدواروں کو ہراساں کرنے کی شکایات

انتخابی امیدواروں کو ہراساں کرنے کی شکایات

ایک خصوصی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بعض علاقوں میں انتخابی امیدواروں کو ہراساں کرنے کی شکایات کا نوٹس لیا گیا ہے اور پاکستان الیکشن کمیشن کی طرف سے نیب اور صوبوں کی اعلیٰ انتظامیہ سے رابطہ کرتے ہوئے امیدواروں کو ہراساں کرنے کی شکایات کے خاتمے کو یقینی بنانے کے لئے کہا گیا ہے۔ صوبائی چیف سیکرٹری اور آئی جی پولیس کو ہدایت جاری کی گئی ہے کہ انتظامیہ کو چوکس رکھا جائے ملتان ، نارووال اور دیگر علاقوں میں ہونے والے واقعات کی روک تھام کے لئے موثر اقدامات کئے جائیں۔ اس سلسلے میں نگران وزیر اعلیٰ پنجاب کو پاکستان الیکشن کمیشن کی طرف سے مراسلہ بھی لکھا گیا ہے۔ انتخابی مہم میں تیزی آچکی ہے اور امیدوار ہر جگہ سرگرم دکھائی دیتے ہیں۔ بعض علاقوں میں کچھ امیدواروں کو ہراساں کرنے اور دھمکیاں دینے کی شکایات پر سیاسی اور عوامی حلقوں میں تشویش پائی جارہی ہے، ان شکایات کے ازالے اور آئندہ ایسے واقعات کی روک تھام کے لئے پاکستان الیکشن کمیشن کا نوٹس لینا ایک اچھا قدم ہے، خاص طور پر سابق حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے دو امیدواروں پر تشدد اور انہیں ہراساں کرنے کی شکایت کا ازالہ ضروری ہے، اسی طرح قصور میں ایک افسرکی طرف سے ڈسٹرکٹ ریٹرننگ آفیسر اور دیگر یٹرننگ افسران کو جس انداز سے ایک کانفرنس میں شرکت کی ہدایت جاری کی گئی، اسے توہین آمیز قرار دیا گیا، لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے پاکستان الیکشن کمیشن کو مراسلہ لکھنے پر جی ایچ کیو سے رابطہ ہونے پر متذکرہ ہدایات کوافسر کی غلطی قرار دیا گیا۔ نیب کے بعض اقدامات کا بھی نوٹس لیا گیا ہے۔ مسلم لیگ (ن) کے امیدوار قمر الاسلام کو نیب حکام نے دو ہفتے پہلے انکوائری میں کلیئر قرار دے دیا تھا لیکن راولپنڈی میں انتخابی امیدوار بنتے ہی اُسے گرفتار کر لیا گیا۔ اس گرفتاری کو الیکشن پر اثر انداز ہونے کی کوشش قرار دیا جارہا ہے۔ ایسی شکایات کا نوٹس لینا پاکستان الیکشن کمیشن کا بنیادی فریضہ ہے۔ یہ امر اطمینان بخش ہے کہ چاروں صوبوں کی انتظامیہ کو ایسے واقعات کی فوری روک تھام کے لئے ہدایات جاری کی گئی ہیں۔ پاکستان الیکشن کمیشن کی طرف سے جاری کی گئی تازہ ہدایات کے بعد صوبوں کی اعلیٰ انتظامیہ کی ذمے داری ہے کہ خبردار رہتے ہوئے امیدواروں کو ہراساں کرنے دھمکیاں دینے یا تشدد کا نشانہ بنانے کے واقعات نہ ہونے دیئے جائیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ پہلے سے کئے گئے فیصلے کے مطابق الیکشن امیدواروں کو فول پروف سیکیورٹی مہیا کی جائے۔ ایسی سیکیورٹی میں ہراساں کرنے، دھمکیاں دینے یا دیگر غیر قانونی کوششوں کے امکانات میں یقینی طور پر کمی ہوگی۔ اب تک جو شکایات بعض سیاسی جماعتوں یا امیدواروں کی جانب سے سامنے آ چکی ہیں، ان کی انکوائری بھی ضروری ہے شکایات درست ثابت ہوں تو ذمے داران کے خلاف باقاعدہ ایکشن لیا جانا چاہیے۔ ایسے اقدامات ہی سے ملتان، نارروال، قصور اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے واقعات کی روک تھام کو یقینی بنایا جا سکے گا۔ پاکستان الیکشن کمیشن کو اس سلسلے میں سخت پالیسی اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید : رائے /اداریہ