ناراض کیو ں ہوتے ہیں حضور

ناراض کیو ں ہوتے ہیں حضور
ناراض کیو ں ہوتے ہیں حضور

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

بلاول زرداری ہوں یا سابق قومی اسمبلی کے اسپیکر ایازا صادق یا سندھ اور پنجاب کے بعض سابق اراکین اسمبلی یا وزراء ، سب ہی اپنے اپنے حلقوں میں عوام کے عتاب کا شکار ہو چکے ہیں۔ بلاول کو لیاری سے فرار کرایا گیا، ایاز صادق کو لاہور میں موٹر سائیکل پر سورا ہو کر فرار ہونا پڑا۔

سندھ کے کئی انتخابی حلقوں میں پیپلز پارٹی اور ایم کیو ایم کے سابق اراکین کو اپنے حلقوں کے دورے کے دوران ایک بنیادی سوال کا سامنا رہا کہ ’’ آپ پانچ سال کہاں رہے ‘‘۔

یہ ایسا سوال ہے جس کا ان لوگوں کے پاس جواب اس لئے نہیں ہے کہ گزشتہ پولنگ کے بعد سے یہ لوگ اپنے اپنے حلقوں میں اپنے اپنے ووٹروں سے رابطہ میں نہیں رہے۔

سندھ کے سابق وزیر اعلی مراد علی شاہ اس بات پر برہم ہوگئے کہ سوال جواب کے دوران کوئی شخص موبائل فون پر فلم کیوں بنا رہا تھا۔ ملک بھر میں سیاست دانوں کا وطیرہ ایک جیسا ہی رہا ہے۔ دور دور سے ہاتھ ہلادیا۔

اپنی چمکتی ہوئی بڑی مہنگی گاڑیوں سے گزرتے ہوئے عام لوگوں سے ہاتھ ملانا بھی گوارا نہیں تھا اب جب ووٹ لینے کا وقت آیا ہے تو حلقوں کے دوروں کے دوران تلخ باتیں سننے کو مل رہی ہیں تو بھنویں تن جاتی ہیں کہ ان سے ایسے سوالات کیوں کئے جارہے ہیں۔

یہ ابتدا ہے ، نہ جانے انتہا کیا ہوگی۔ ووٹروں کو اپنی رعایا سمجھنے والے سیاست داں کیوں نہیں سمجھتے کہ سیاست عوام سے رابطہ کا بھی نام ہے۔ رابطہ جسے انٹر ایکشن کہا جاتا ہے، بلا کی فائدہ مند چیز ہوتی ہے۔ بر صغیر میں قائداعظمؒ ، گاندھی اور نہرو سے زیادہ مصروف سیاستداں کون تھے، یہ حضرات بھی کسی تعطل کے بغیر عوام سے ملاقاتیں کیا کرتے تھے ۔

سندھ میں یوں تو کئی ایسے سیاست داں گزرے ہیں جو عام لوگوں سے تعلق اور رابطہ کو معیوب نہیں سمجھتے تھے ۔ وہ ہمہ وقت لوگوں کے لئے حاضر رہتے تھے ۔ پنجاب میں بھی ایسے سیاست داں گزرے ہیں۔

سندھ میں سائیں جی ایم سید تو کمال ہی کیا کرتے تھے کہ اپنے گھر آئے ہوئے ہر شخص کو کھانا کھلائے بغیر جانے نہیں دیا کرتے تھے اور کھانے پر بیٹھنے والے ملاقاتی کا ہاتھ خود دھلایا کرتے تھے ۔ تھرپارکر کے مرحوم ارباب امیر حسن کے بارے میں تو مشہور تھا کہ ان کے گھر آنے والے ہر ملاقاتی کو روٹی، رلی اور روپیہ ضرور ملتا تھا۔ روٹی اس لئے کہ کھانا ضرور کھلانا ہے۔

رلی سے مراد رات کو قیام کے دوران سونے کے لئے بستر فراہم کیا جاتا تھا اور واپسی کے لئے ملاقاتی کی جیب میں واپسی کا کرایہ ڈال دیا جاتا تھا۔ میر رسول بخش خان تالپور عوام سے رابطہ کے معاملے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے ۔ وہ کسی ناغے کے بغیر اپنی رہائش گاہ میں قائم ایک چھوٹے سے دفتر میں صبح سے دوپہر تک موجود رہتے تھے ۔

یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ وہ حیدرآباد میں اپنی رہائش گاہ پر موجود ہوں اور لوگوں سے ملاقاتیں نہ کریں ۔ ان ملاقاتوں سے انہیں یہ فائدہ ہوتا تھا کہ انہیں گھر بیٹھے پورے شہر کی سرگرمیوں سے آگاہی حاصل ہوجاتی تھی اور لوگوں کو یہ فائدہ ہوتا تھا کہ ان کے روز مرہ کے وہ معاملات جن میں انہیں مشکل درپیش ہوتی تھی، میر صاحب کے فون یا خط یا پرچی سے وہ مشکل دور ہوجاتی تھی۔

لوگ طرح طرح کے مسائل لے کر آتے تھے اور میر صاحب اپنے دفتر میں موجود سیکریٹری یار محمد سولنگی کو ہدایت دیا کرتے تھے کہ فون ملاؤ، خط لکھو یا پرچی لکھو۔ نواب یامین خان جب رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تو کہا کرتے تھے کہ لوگوں سے ملاقات کا ایک فائدہ تو لوگوں کو یہ ہوتا کہ کہ اگر دس آدمیوں کی سفارش کی تو ایک دو کا تو کام ہو ہی جاتا ہے۔

عام لوگوں سے ملاقات کے معاملے میں بنگال کے ممتاز سیاست داں اے کے فضل الحق جو شیر بنگال مشہور تھے اور جنہوں نے قرار داد پاکستان بھی پیش کی تھی، قیام پاکستان سے قبل کلکتہ میں رہائش رکھتے تھے ۔ دن بھر کی مصروفیات سے فارغ ہو کر رات کو اپنے گھر کے سامنے والی فٹ پاتھ پر بیٹھ جایا کرتے تھے اور لوگوں کی محفل لگائے رکھتے تھے ۔

اس محفل کا عام لوگوں کو فائدہ یہ ہوتا تھا کہ ایک جلوس ہر وقت تیار رہتا تھا ۔ ایک مرتبہ لوگ شکایت کرنے آئے کہ تھانے میں کسی شخص کو پولیس نے ان لوگوں کے مطابق بلا جواز بند کیا ہوا ہے۔ شیر بنگال بنڈی اور دھوتی پہنے بیٹھے تھے۔ کھڑے ہوئے اور لوگوں سے کہا کہ تھانہ چلتے ہیں۔ یہ تھا سیاست دانوں کا عمومی رویہ۔

ذوالفقار علی بھٹو ایوب کابینہ میں وزیر تھے ، لاڑکانہ کی حد تک موقع ملنے پر لوگوں سے ملاقاتیں کیا کرتے تھے ، جب خود وزیر اعظم بنے تو مختلف شہروں میں کھلی کچہری لگایا کرتے تھے ۔ حیدرآباد میں تو ایک بار نیاز اسٹیڈیم میں بھی کھلی کچہری لگائی گئی تھی۔

عیدین پر لاڑکانہ میں اپنی رہائش گاہ پر دن بھر بیٹھا کرتے تھے ۔ اسی دوران ہر درخواست دہندہ کو سنا کرتے تھے اور احکامات صادر کیا کرتے تھے ۔

سینکڑوں ایسے لوگ موجود ہیں جن کی درخواستوں پر ان ملاقاتوں کے دوران احکامات جاری کئے گئے تھے اور وہ لوگ بر سر روز گار ہو گئے تھے ۔ اور بھی کئی سیاست دانوں کے قصے موجود ہیں۔

اس تماش گاہ میں اب صورت حال ایسی ہے کہ وزیر اعلی ، وزراء تو دور کی بات ہے، لوگ اپنے حلقے کے رکن اسمبلی سے ان کی رہائش گاہ جانے کے باوجود ملاقات نہیں کرپاتے ہیں۔ سیٹیزن آرکائیو پاکستان سے تعلق رکھنے والے چار لوگوں کے ساتھ میں بیٹھا ہوا تھا ۔ میں نے ان سے سوال کیا کہ آپ ضرورت کے وقت اپنے وزیر اعلی یا وزیر سے ملاقات کر سکتے ہیں، چاروں نے نفی میں جواب دیا۔ پاکستان میں یہ ممکن ہی نہیں رہا ہے کہ کوئی شخص اپنے مسلہ کے حل کے لئے یا کسی مدد کے لئے حکومت میں موجود اعلی عہدیداروں سے ملاقات کر سکے۔

سرکاری منصب پر فائز لوگ بھی ملاقات نہیں کرتے حالانکہ ان کے دروازوں پر نمائشی تختیاں لٹکی ہوئی ہوتی ہیں جن پر عام ملاقات کا وقت درج ہوتا ہے۔ ملاقاتی کو ٹرخا دیا جاتا ہے کہ ’’ صاحب میٹنگ میں ہے‘‘۔ حیدرآباد میں ایک ڈپٹی کمشنر ایسا بھی آیا جو دفتر میں موجود ہونے کے باوجو د دفتر کے دروازے پر باہر سے تالا لگوا دیا کرتا تھا ۔

ویسے بھی ڈپٹی کمشنر یا ایس ایس پی پابند ہیں کہ دفتری اوقات کے دوران لوگوں سے ملاقاتیں کیا کریں ، لیکن افسران کی اکثریت ایسا نہیں کرتی ہے۔ ایسی صورت میں لوگ شکایت نہ کریں تو کیا کریں۔ ملاقاتوں کو دو طرفہ فائدہ ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا پر کسی صاحب نے یہ شعر رکھ دیا ہے۔ ’’ قتل ہوئے ہم اس طرح قسطوں میں ، کبھی خنجر بدل گئے، کبھی قاتل بدل گئے‘‘۔

پاکستان میں تو دولت مند لوگوں یا موروثی سیاست دانوں نے سیاست کے طور طریقوں کو ہی بدل دیا ہے۔ قومی انتخابات ہو رہے ہیں، سیاست دانوں میں کہیں بھی جلسہ عام کرنے کی ہمت نہیں ہے ۔

دہشت گردی کے علاوہ ان کے دلوں میں لوگوں کی ’’ شرپسندی‘‘ کا خوف گھر کر گیا ہے۔ اس بدلے ہوئے رویہ اور بدلی ہوئی دنیا میں تو بلاول زرداری ہوں یا کوئی اور سیاستداں ، انہیں عوام کے غضب سے محفوظ رہنے کے لئے فرار ہی ہونا پڑے گا۔

مزید : رائے /کالم