چاند گروپ سے جیپ گروپ تک

چاند گروپ سے جیپ گروپ تک
چاند گروپ سے جیپ گروپ تک

  

لیجئے جناب وہ شاہکار آگیا، جس کا تھا انتظار ۔۔۔جیپ گروپ۔ اس آزاد (یا غلام) گروپ کے امیدواروں نے ایک پارٹی کی طرز پر جیپ کا انتخابی نشان لیا ہے، یہی وہ لوگ ہوں گے جو سیر کو سوا سیر بنانے میں استعمال ہوں گے، البتہ کہیں سے نکال لئے گئے تو ڈیڑھ سیر بھی صرف ڈیڑھ پاؤ ہی رہ جائے گا۔ میرے نزدیک یہ بات اتنی اہم نہیں ہے کہ جیپ میں کون کون سا مسافر بیٹھا ہے،اہم بات یہ ہے کہ جیپ کا ریموٹ کنٹرول کس کے ہاتھ میں ہے، جس طرح ہم بچپن سے کارٹونوں میں آنکھوں میں ڈالر گرتے دیکھ رہے ہیں، اسی طرح ہمارے بہت سے انصافین دوستوں کی آنکھوں میں ڈھیر ساری سیٹیں گرتی رہتی ہیں۔

ظاہر ہے خواب دیکھنے پر کوئی پابندی نہیں ہوتی،پورے الیکشن پراسیس کو موم کی ناک بنانے کے لئے ضروری تھاکہ تیس چالیس سیٹوں کی موم اکٹھی کی جائے۔ اس دفعہ یہ ٹاسک چودھری نثار اینڈ کمپنی پورا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

چودھری صاحب کی پے درپے بے مقصد پریس کانفرنسوں کے بعد ہم نے زعیم قادری اور چوہدری عبدالغفور میو کی مزید بے مقصد پریس کانفرنسیں بھی دیکھیں۔۔۔ اور اس کے بعد جیپ گروپ بنانے کا آپریشن شروع ہو گیا۔

چوہدری عبدالغفور میو نے پریس کانفرنس میں مسلم لیگ (ن) سے اپنی اٹھائیس سالہ رفاقت ختم کرنے کا اعلان کیا تو حیرانی کے ساتھ ساتھ بہت افسوس بھی ہوا۔ اٹھائیس سال ایک طویل عرصہ ہوتا ہے اور یہ پورا عرصہ وفاداری کی ایک طویل داستان ہے، جب میاں صاحبان کو جلا وطن کیا گیا تو لاہور کی سڑکوں پر سب سے زیادہ ماریں بھی ڈپٹی اپوزیشن لیڈر چوہدری عبدالغفور میو نے کھائیں، لیکن وفاداری تبدیل نہیں کی بلکہ خود بھی جلا وطنی کاٹی۔ جب مسلم لیگ نواز کی پنجاب میں دوبارہ حکومت آئی تو ایک سے زیادہ محکموں کے صوبائی وزیر رہے، اس کے بعد اگلی مدت میں جب ٹکٹ نہ ملی تو صبر کر لیا، لیکن بعد میں پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے ایم ڈی بنا دئیے گئے اور یوں کچھ ازالہ ہو سکا۔

اب اچانک یوں پارٹی چھوڑ جانے سے مجھے افسوس تو ہوا، لیکن جب میں اس پریس کانفرنس کو مجموعی ماحول کے تناظر میں دیکھتا ہوں تو حیرانی میں کمی ہو جاتی ہے، بلکہ زیادہ حیرانی مجھے اس بات پر ہوتی ہے کہ انہوں نے کاغذاتِ نامزدگی کیوں جمع نہیں کروائے ورنہ وہ بھی جیپ کے نشان پر یہ الیکشن لڑ رہے ہوتے۔

بہتر ہوتا کہ اگر انہیں مسلم لیگ نواز کی قیادت بری لگنی شروع ہو گئی ہے تو وہ پہلے عہدہ سے استعفی دیتے اور پھر یہ پریس کانفرنس کرتے۔ بتایا جا رہا ہے کہ عمران خان نے چودھری عبدالغفور میو کو پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہونے کی دعوت دی ہے، لیکن میرا خیال ہے جیپ والے جیپ میں ہی بیٹھیں گے، کرکٹ کھیلنے کو کوشش نہیں کریں گے۔

زعیم قادری چونکہ کاغذات نامزدگی جمع کروا چکے تھے، اس لئے جیپ کے نشان پر الیکشن لڑنے جا رہے ہیں۔زعیم قادری پنجاب اسمبلی کے رکن رہے ہیں، لیکن وہ مسلم لیگ (ن) کے ووٹوں سے ہی اسمبلی میں پہنچے تھے۔ پارٹی سے ہٹ کر تو ان کا کوئی ووٹ بینک نہیں ہے، اب وہ آزاد الیکشن لڑیں گے تو پتہ چل جائے گا کتنے ووٹ لے سکتے ہیں، جیپ گروپ بنانے والوں نے اگر یہ توقعات باندھ رکھی ہیں کہ زعیم قادری اپنی سیٹ جیت سکیں گے تو ایسا نہیں ہو سکے گا، کیونکہ لاہور سے قومی اسمبلی کی سیٹ جیتنے کے لئے ایک لاکھ سے زیادہ ووٹ چاہئے ہوتے ہیں جو جیپ تو کیا، ٹرک اور ہوائی جہاز بھی آزادانہ حیثیت میں نہیں لے سکتے۔ لاہور جیسے بڑے شہروں میں پارٹی کا ووٹ ہوتا ہے ، کسی شخص کا اگر اپنا کوئی ووٹ بینک ہو بھی تو پندرہ بیس ہزار سے زیادہ نہیں ہوتا۔ الیکشن بہر حال پارٹی ہی جیتتی ہے۔

یہ تو زعیم قادری ہی جانتے ہیں کہ ان پر دباؤ تھا یا وہ کسی خوش فہمی میں مبتلا ہو گئے تھے۔ہماری انتخابی تاریخ میں پہلے بھی ایسی مثالیں موجود ہیں، جب بہت سے آزاد امیدواروں کا ایک بڑا جتھہ تیار کیا گیا اور پھر پراسرار طریقہ سے سب کو ایک ہی انتخابی نشان ملا اور ان آزاد امیدواروں نے منتخب ہو کر اپنا گروپ تشکیل دے دیا۔ ایک ایسا ہی گروپ چاند گروپ بھی بنا تھا اور اب جیپ گروپ بن رہا ہے، جس کے بارے میں لوگوں کو معلوم ہی ہے کہ اس جیپ کا ریموٹ کنٹرول کسی اور کے ہاتھ میں ہے۔کچھ لوگوں کو یاد ہو گا شیخ رشید نے بھی جب ڈیڑھ اینٹ کی الگ مسجد بنائی تھی تو سب سے پہلے چاند گروپ میں شامل ہوئے تھے، اس گروپ میں زیادہ تر جنوبی پنجاب کے وہ الیکٹیبلز ہوتے ہیں، جن کی دمیں ہلنے کے لئے ہمیشہ کسی اشارے کی منتظر ہوتی ہیں۔

چودھری نثار علی خان پریس کانفرنس کرتے رہتے ہیں اس لئے بہت سے لوگ ان کی پریس کانفرنس کو اہمیت اس لئے نہیں دیتے کہ یہ ان کا معمول ہے اور جس میں عام طور پر کوئی قابلِ ذکر بات ہوتی بھی نہیں۔

عام طور پر چودھری نثار کی پریس کانفرنس یہ بتانے کے لئے ہوتی ہے کہ وہ ایک پریس کانفرنس کریں گے، ان کی زیادہ تر پریس کانفرنسوں کا لب لباب یہ ہوتا ہے کہ کسی بھی ایشو کے متعلق وہ یہ کہتے پائے جاتے ہیں کہ اس میں تین باتیں اہم ہیں، پہلی وہ بتا نہیں سکتے، دوسری وہ مناسب وقت پر بتائیں گے اور تیسری وہ بتانا نہیں چاہتے،اس کے علاوہ ہر پریس کانفرنس میں مسلم لیگ (ن) کے ساتھ اپنی چونتیس سالہ رفاقت کا ذکر ہوتا ہے، جس میں ساری قربانیاں چودھری نثار صاحب کی جانب سے ہوتی ہیں اور پھر آخر میں ایک اعلان کہ باقی باتیں وہ اگلی پریس کانفرنس میں بتائیں گے، اس کے بعد کی بھی تمام پریس کانفرنسوں میں یہی سب کچھ ہوتا ہے اور یہ سلسلہ چلتا رہتا ہے، اب جبکہ چودھری نثار علی خان کی راہیں مسلم لیگ(ن) سے حتمی طور پر جدا ہو چکی ہیں، جیسا کہ بہت سے لوگ توقع کر رہے تھے کہ ان کی طرف سے ایک سیاسی گروپ تشکیل پانے کے مراحل میں ہے اور یہ سب کچھ اس حد تک طے شدہ ہے کہ ان سارے ’’آزاد‘‘ امیدواروں نے جیپ کا انتخابی نشان لیا ہے، تاکہ ایک گروپ کے طورپر اسمبلی میں جا سکیں۔

کل کا یہ چاند گروپ آج کا جیپ گروپ ہے۔ جیپ گروپ کی رونمائی ہوئی تو پہلے دن اس میں چودھری نثار علی خان، زعیم قادری اور جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے گیارہ ایسے ٹکٹ ہولڈر ہیں، جنہوں نے مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ واپس کرکے جیپ کے نشان پر آزاد الیکشن لڑنا ہے۔

ٹکٹ واپس کرنے والوں میں پنجاب اسمبلی کے سابق ڈپٹی سپیکر شیر علی گورچانی اور ان کے والد سمیت دریشک خاندان کے دو ٹکٹ ہولڈراور عطا محسن کھوسہ سمیت کھوسہ خاندان کے دو تین لوگ بھی شامل ہیں، اسی طرح سلطان ہنجرا اور نعیم بھابھہ وغیرہ بھی جیپ پر بیٹھ گئے ہیں۔ بات نکل ہی گئی ہے تو دیکھیں کتنی دور تک جاتی ہے۔

یہ آزاد امیدوار کتنے آزاد ہوتے ہیں، ہماری سیاسی تاریخ سے واقف لوگ بخوبی جانتے ہیں۔ کسی اشارے، ٹیلی فون، خوف، جبر یا دھمکیوں کے نتیجہ میں وفاداری تبدیل کرکے آزاد الیکشن لڑنے والے درحقیقت آزاد نہیں بلکہ غلام امیدوار ہوتے ہیں، جب ملتان سے تعلق رکھنے والے رانا اقبال سراج بتاتے ہیں کہ انہیں وفاداریاں تبدیل کرنے کے لئے دباؤ ڈالا گیا اور جب انہوں نے انکار کیا تو انہیں مارا پیٹا گیا اور خطرناک نتائج کی دھمکیاں دی گئیں۔

شائد میں ان کی بات کو اتنا درست نہ سمجھتا لیکن جب اسی دن میں نے جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے گیارہ ٹکٹ ہولڈرز کو ٹکٹ واپس کرتے ہوئے کان پکڑتے اور پھر سب کو جیپ کا نشان لیتے دیکھا تو نہ چاہتے ہوئے بھی رانا سراج کی باتوں میں وزن محسوس ہوا، جہاں دھواں اٹھتا ہے، نیچے کچھ نہ کچھ تو سلگ رہا ہوتا ہے، خواہ مخواہ تو دھواں کہیں سے نہیں اٹھتا، جب مجھے کسی نے بتایا کہ فلاں فلاں (ن) لیگی اب آزاد الیکشن لڑنے جا رہے ہیں تو میں نے فورا انہیں کہا کہ وہ آزاد نہیں،غلام الیکشن لڑنے جا رہے ہیں کہ انہیں اپنا فیصلہ خود کرنے کی آزادی نہیں ہے۔

زیادہ تر تجزیہ کاروں کا تخمینہ ہے کہ جیپ گروپ کے امیدواروں کی تعداد چالیس سے بھی تجاوز کر سکتی ہے، اور اگر نہ بھی کرے تو اگلی حکومت بننے میں ان کا فیصلہ کن کردار ہوگا، بہر حال یہ تو تجزیہ کاروں کے اندازے ہیں جو 25 جولائی کو صحیح یا غلط ہو جائیں گے، لیکن آیندہ انتخابات کے بارے میں اگر یہ تاثر عام ہو رہا ہے کہ یہ شفاف نہیں ہوں گے تو اس میں بہت وزن نظر آتا ہے۔ لگتا ہے تمام توپوں کا رخ مسلم لیگ (ن) کی طرف موڑ دیا گیا ہے اور اس کے ہاتھ پاؤں باندھنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

ایسی صورتِ حال میں مسلم لیگ نواز کی طرف سے مارو یا مر جاؤ ٹائپ مطالبات آنے کی توقع بھی کی جا سکتی ہے۔ فرسٹریشن بہت بڑھ گئی تو کسی جانب سے الیکشن کے بائیکاٹ کی آواز بھی اٹھ سکتی ہے۔

میرے خیال میں حالات کو اس شدت تک نہیں جانے دیا جائے گا، کیونکہ ایسی صورت میں دنیا ان انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کرے گی۔ فی الحال تو میں صرف یہ دیکھنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ جیپ کا ریموٹ کس کے ہاتھ میں ہے۔

مزید : رائے /کالم