نوگو ایریا کی سیاست، جمہوریت کے لئے زہر قاتل

نوگو ایریا کی سیاست، جمہوریت کے لئے زہر قاتل
نوگو ایریا کی سیاست، جمہوریت کے لئے زہر قاتل

  

لیاری کراچی میں بلاول بھٹو زرداری کے قافلے پر پتھر پھینکنے والوں نے یقیناً غلطی کی ہے، وہ نہیں جانتے کہ ان واقعات سے بلاول بھٹو زرداری کا قد بڑھے گا۔ انہوں نے بالکل درست کہا کہ میں تو ایسے شہیدوں کا وارث ہوں جو گولیوں اور پھانسیوں سے نہیں ڈرے مجھے پتھروں سے کیسے ڈرایا جاسکتا ہے؟ میں نے دورۂ لیاری کی جو وڈیوز سوشل میڈیا پر دیکھی ہیں، ان میں واضح ہے کہ لیاری میں بلاول بھٹو زرداری کا بھرپور استقبال ہوا ہے، ایک خاص جگہ پر کچھ لوگوں نے ان کے قافلے کا راستہ روکا اور پتھراؤ کیا، جس کی وجہ سے ان کی گاڑی کو پیچھے ہٹانا پڑا۔ اب اس واقعہ کو لے کر یہ کہا جارہا ہے کہ لیاری میں بھٹو مرگیا ہے، بلاول بھٹو زرداری کو لوگوں نے مسترد کردیا ہے، پیپلز پارٹی کی کراچی سے مقبولیت ختم ہوچکی ہے، وغیرہ وغیرہ۔۔۔ ایسا ہرگز نہیں، اچھی بات یہ ہے کہ بلاول بھٹو زرداری نے اپنی انتخابی مہم شروع کردی ہے، اور عوام کے درمیان آ کھڑے ہوئے ہیں۔ قوموں کو لیڈروں کی ضرورت ہوتی ہے اور لیڈر کبھی حادثتاً بن جاتے ہیں اور کبھی انہیں بڑی محنت اور ریاضت کرنا پڑتی ہے۔ بلاول کو اگرچہ سیاسی وراثت خود بخود مل گئی ہے، تاہم انہیں سیاست کرنے کے لئے جدوجہد خود کرنا پڑے گی، انہیں سیکیورٹی کے شدید خطرات بھی لاحق ہیں، ان کے سامنے اپنی والدہ کی شہادت کا واقعہ بھی یقیناً ہر وقت رہتا ہوگا، کچھ عرصہ پہلے تک یہ کہا جاتا تھا کہ بلاول بھٹو زرداری الیکشن مہم چلانے کے لئے میدان میں نہیں آئیں گے، کیونکہ یہ بہت جان جوکھم کا کام ہے، مگر اب لگتا ہے کہ بلاول بھٹو زرداری تمام خدشات کو جھٹلا کر میدان میں آچکے ہیں۔

ان کا ایک ریلی کی صورت میں لیاری جانا معمولی بات نہیں ہے، پھر جس طرح ان کا جگہ جگہ استقبال ہوا، وہ ان کے روشن سیاسی مستقبل کو ظاہر کرتا ہے، ان کی سب سے اچھی بات یہ رہی کہ انہوں نے پتھراؤ اور لوگوں کی طرف سے مزاحمت کے بعد ریلی کو ختم نہیں کیا، بلکہ جگہ جگہ خطاب کرتے رہے، اس لئے ان کے سیاسی امیج میں بہت بہتری آئی ہے، اوریہ تاثر کہ بلاول بھٹو زرداری میں سختیاں جھیلنے کی صلاحیت نہیں، زائل ہوتا نظر آرہا ہے۔

سب سیاسی جماعتوں نے تسلیم کیا ہے کہ انتخابی مہم میں تشدد کی آمیزش، سیاسی عمل کو نا ممکن بنادے گی۔ پیپلز پارٹی نے بلاول بھٹو زرداری کی ریلی پر پتھراؤ کرنے والوں کے خلاف مقدمہ درج کرا دیا ہے۔پارٹی کے رہنماؤں نے پریس کانفرنس میں نگران وزیر اطلاعات سندھ جمیل یوسف کے اس بیان پر سخت رد عمل کا اظہار کیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ جنہوں نے اپنے دورِ حکومت میں کارکردگی نہیں دکھائی، ان کے خلاف ایسا ہی رد عمل آئے گا، ہم انہیں روکنے کے لئے گولی نہیں مار سکتے۔

یہ درست ہے کہ عوام کو باز پرس کا حق حاصل ہے، لیکن اجتماعی پر تشدد عمل کی تو اجازت نہیں دی جاسکتی، یہ تو لاء اینڈ آرڈر کا مسئلہ ہے۔ بالفرض پیپلز پارٹی کے کارکن مشتعل ہوکر جوابی پتھراؤ شروع کردیتے اور بات بڑھتے بڑھتے مار کٹائی اور اسلحہ کے استعمال تک آجاتی، تو نقصان کس کا ہوتا؟ سب کو عوام کے پاس جانے کا حق ملناچاہیے، اور عوام کو بھی اپنا فیصلہ ووٹ کی پرچی سے کرنا چاہئے، صرف یہی جمہوری اور مہذب راستہ ہے، باقی سب راستے جمہوریت کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

آج بلاول بھٹو زرداری کا راستہ روکا گیا ہے، تو کل ایم کیو ایم کا روکا جائے گا، پرسوں عمران خان کی باری آجائے گی اور اس سے اگلے روز شہباز شریف کے جلوس پر حملہ ہوگا، کوئی علاقہ کسی سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں، سب کو ہر جگہ پہنچنے اور سیاست کرنے کا حق ہے۔ یہ جو دو چار لوگ درمیان میں کھڑے ہوکر سوال کرتے ہیں، اور الیکٹرانک میڈیا انہیں اتنا بڑھا چڑھا کر پیش کرتا ہے، جیسے پورا شہر ہی احتجاج کے لئے آگیا ہو، یہ غلط ہے، یہی رجحان بڑھتے بڑھتے لیاری جیسے واقعات میں تبدیل ہورہا ہے۔

یہ بات تو کبھی دیکھنے میں نہیں آئی، مجھے تو ذوالفقار علی بھٹو کے خلاف تحریک یاد آگئی ہے، جو اس قدر شدت اختیار کرگئی تھی کہ حالات کنٹرول سے باہر ہو چلے تھے، مگر ان حالات میں بھی پیپلز پارٹی کے کارکن نہ تو تحریک نظام مصطفےٰ والوں کا راستہ روکتے تھے اور نہ ہی پیپلز پارٹی کے جلوس پر دوسری طرف سے پتھراؤ ہوتا تھا، اگر کارکن آمنے سامنے آ بھی جاتے تو لیڈر درمیان میں آکر معاملہ ٹھنڈا کر دیتے۔

اب تو زمانہ بہت آگے جا چکا ہے، سیاسی حوالے سے ہم خاصے بالغ نظر ہوچکے ہیں، پھر یہ سب کیوں ہورہا ہے؟ کہا یہ جا رہا ہے کہ لیاری کے لوگ پانی نہ ملنے پر احتجاج کررہے تھے، اور اس احتجاج کے دوران انہوں نے بلاول بھٹو زرداری کی گاڑی پر پتھر برسائے۔

یہ نہ ماننے والی بات ہے، کیونکہ لیاری کے تو سبھی لوگ پانی نہ ملنے پر نالاں ہیں، لیکن ہزاروں لوگوں نے بلاول بھٹو زرداری کا استقبال بھی کیا، بوڑھی عورتوں نے فرطِ جذبات سے ان کے ہاتھ بھی چومے، سر پر پیار بھی دیا، اگر معاملہ پانی پر احتجاج کا تھا تو انہیں بھی وہی سلوک کرنا چاہئے تھا، مگر ایسا نہیں تھا۔

یہ صرف کچھ لوگوں کا مشن تھا جنہوں نے ماحول کو کشیدہ بنا دیا۔ اس سے صاف لگ رہا ہے کہ کچھ لوگوں نے سیاست میں تشدد کا عنصر شامل کرنے کے لئے ایسا کیا۔

یہ بھی ممکن ہے کہ وہ بلاول بھٹو زرداری کو خوفزدہ کرنا چاہتے ہوں۔ یہ امکان بھی ہے کہ ان کا مقصد یہ تاثر دینا ہو کہ آصف علی زرداری کی طرح بلاول بھٹو زرداری کو بھی عوام نے مسترد کردیا ہے، اس واقعہ کو کراچی کی سیاست کے تناظر میں بھی دیکھا جاسکتا ہے اور ملکی سیاست کے منظر نامے میں بھی۔

یہ جو کچھ بھی ہے پاکستانی سیاست میں اس کی ہرگز گنجائش موجود نہیں۔ سندھ حکومت کو اسے ٹیسٹ کیس بنا کر ملزموں کو گرفتار کرنا چاہئے، تاکہ پیپلز پارٹی کے کارکنوں کو بھی یہ پیغام ملے کہ وہ رد عمل میں کوئی ایسا قدم نہ اٹھائیں جو قانون شکنی کے زمرے میں آئے۔ کراچی میں ایسے اقدامات کی اس لئے بھی اشد ضرورت ہے کہ بڑی مشکل سے اس شہر کو قانون شکنوں، قتل و غارت گری کرنے والوں سے چھڑایا گیا ہے، یہاں پُرامن سیاسی فضا بہت ضروری ہے۔ بلاول بھٹو زرداری کے ساتھ پیش آنے والے واقعہ سے پہلے عامر لیاقت حسین کے ساتھ بھی ایک حادثہ پیش آچکا ہے، جب وہ ایک مسجد میں علاقے کے لوگوں سے مل رہے تھے تو بقول ان کے تحریک لبیک والوں نے ان کے حامیوں پر حملہ کردیا، بڑی مشکل سے ان کے چنگل سے نکلنے میں کامیاب ہوئے۔

ابھی تو اس شہر میں بڑے بڑے جلسے بھی ہونے ہیں۔ تحریک انصاف، جماعت اسلامی، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ن)، متحدہ قومی موومنٹ، پاک سر زمین پارٹی، اے این پی اور نجانے کتنی جماعتیں پاکستان کے اس سب سے بڑے شہر میں سیاست کا رنگ جمائیں گی۔

اگر عدم برداشت کا یہی عالم رہا جو لیاری میں دیکھنے کو ملا اور جس میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی تو پھر کچھ بھی ہوسکتا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ تمام سیاسی جماعتوں نے لیاری واقعہ کی مذمت کی ہے اور اسے جمہوریت کے خلاف سازش قرار دیا ہے۔

امید کرنی چاہئے کہ تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین بشمول مقامی رہنما اس بات کو یقینی بنائیں گے کہ آئندہ ایسا کوئی واقعہ پیش نہ آئے اور انتخابی مہم کے دوران امن و بھائی چارے کی فضا قائم رہے۔ اس میں کسی ایک جماعت کا فائدہ نہیں بلکہ پُرامن ماحول سب کے لئے ضروری ہے۔ کراچی اس بار ایک کھلا شہر ہے، پچھلے تیس برسوں سے اس پر جبر کی جو فضا مسلط رہی ہے، اب اس کا خاتمہ ہوگیا ہے۔

جس طرح کراچی کا ایک عام ووٹر یہ محسوس کررہا ہے کہ اسے آزادانہ ماحول میں اپنے حق رائے دہی کے اظہار کا موقع ملے گا، اسی طرح تمام سیاسی جماعتوں کو بھی شہر میں نو گو ایریا بنانے کی بجائے سب کو الیکشن مہم چلانے کے یکساں مواقع دینے چاہئیں۔ گزشتہ دنوں شہباز شریف کراچی گئے تو ایم کیو ایم اور پیپلز پارٹی نے انہیں اس لئے تنقید کا نشانہ بنایا کہ ان کا سندھ سے کیا تعلق ہے؟ انہوں نے ازراہ تفنن پان کے حوالے سے ایک جملہ کہہ دیا تو اس پر ہا ہا کار پڑ گئی، حالانکہ ایسی باتیں ماحول کو خوشگوار بنانے کے لئے کی جاتی ہیں۔

اب اس بیانیے کو بھی بدلنے کی ضرورت ہے کہ فلاں صوبہ، شہر، یا علاقہ فلاں جماعت کا گڑھ ہے، گویا سیاسی جماعتوں نے اپنے مفتوحہ علاقے آپس میں بانٹے ہوئے ہیں، حالانکہ وہاں عوام رہتے ہیں اور ان کی رائے بدلتی رہتی ہے۔

لاہور جو مسلم لیگ (ن) کا گڑھ ہوا کرتا تھا، آج وہاں اسے سخت مقابلے کا سامنا ہے۔ جنوبی پنجاب کے حوالے سے کہا جاتا تھا پیپلز پارٹی کا گڑھ ہے، آج اسے وہاں کھڑے کرنے کے لئے نمائندے نہیں ملے، اسی طرح لیاری بھی ایک آزاد علاقہ ہے، عوام کسی کے حق میں بھی فیصلہ کرسکتے ہیں، سب کو اس کے لئے تیار رہنا چاہئے، تاہم یہ فیصلہ صرف ووٹ کی پرچی سے کیا جائے، اس طرح نہیں جیسے بلاول بھٹو زرداری کی حالیہ ریلی کو روکنے کے لئے کیا گیا۔ تشدد سیاست کی نفی ہے، اس لئے تشدد کی ہر سطح پر مذمت کی جانی چاہئے۔

مزید : رائے /کالم