کارگل پر ایک تازہ تصنیف (1)

کارگل پر ایک تازہ تصنیف (1)
کارگل پر ایک تازہ تصنیف (1)

  

پچھلے دنوں کارگل وار پر ایک تازہ کتاب شائع ہوئی جس کی رونمائی 25مئی کو اسلام آباد اور 30مئی کو لاہور میں ہوئی۔ لیکن میڈیا پر اس کی کوریج وہ سماں نہ باندھ سکی جو جنرل اسد درانی اور دلت کی سپائی کرانیکلز (Spy Chronicles) نے باندھا تھا یا ریحام خان کی اس کتاب نے جو ہنوز شائع نہیں ہوئی اور بے نام ہونے کے باوجود کافی نام آور یا بدنام ہوچکی ہے۔

تاہم ان دونوں کتابوں کی اشاعت اور ان کے منظرِ عام پر آنے کی ٹائمنگ قابل توجہ رہی۔ بعض لوگوں نے اسے کچھ سمجھا اور بعض نے کچھ۔ اور ابھی اس ’’کچھ‘‘ کی گرد بھی نہ بیٹھی تھی کہ یہ تیسری کتاب منظر عام پر آ گئی ہے۔ اس کا نام ہے: ’’کارگل سے فوجی انقلاب تک۔۔۔جس نے پاکستان کو ہلاک کر رکھ دیا‘‘ ۔ چونکہ یہ انگریزی زبان میں ہے اس لئے اس کا انگریزی ٹائٹل بھی دیکھئے:

From Kargil to Coup: Events Which Shook Pakistan

اس کی مصنفہ نسیم زہرہ صاحبہ ہیں جو میڈیا کے حلقوں میں کسی تعاوف کی محتاج نہیں۔ ان کے سیاسی اور سماجی موضوعات پر تبصرے تو ہم اکثر سنتے رہتے ہیں لیکن ان کے قلم سے ایک سراسر عسکری پس منظر کی کتاب کا اس وقت شائع ہونا جب 2018ء کے انتخابات سر پر ہیں اور ایک ایسے موضوع پر شائع ہونا جو ماضی میں سول ملٹری تعلقات کی خلیج بڑھانے میں پیش پیش رہا، محل نظر ہے بلکہ بعض لوگ تو یہ بھی کہتے ہیں کہ 12اکتوبر 1999ء کا فوجی انقلاب (Coup) درحقیقت اسی کارگل وار پر سویلین اور ملٹری حلقوں میں اختلاف کی وجہ سے برپا ہوا۔تاہم اس کتاب میں اس نقطۂ نظر سے اتفاق نہیں کیا گیا اور کہا گیا ہے کہ اس انقلاب کی وجوہات دوسری تھیں، کارگل وار نہ تھی۔

ایک اور قدرِ مشترک جو ان تینوں کتابوں (سپائی کرانیکلز، ریحام خان کی بے نام کاوش اور نسیم زہرہ کی یہ کارگل وار) میں پائی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ یہ تینوں تصانیف مارکیٹ میں آنے سے پہلے انٹرنیٹ پر ڈال دی گئی ہیں اور ان کو PDF بھی کردیا گیا ہے یعنی جس کسی کے پاس سمارٹ فون ہو وہ اسے ڈاؤن لوڈ کرکے پڑھ سکتا ہے۔بازار جانے اور خواہ مخواہ جیب پر بوجھ ڈالنے کی ضرورت نہیں۔

مجھے ریحام خان کی کتاب دیکھنے کا موقع تو نہیں ملا البتہ باقی دونوں کتابیں میرے پاس ہیں۔ کارگل وار پر اس کتاب کے 532 صفحات ہیں اور اس کی قیمت 1500 روپے رکھی گئی ہے۔ (اس پر تبصرہ کرنے کا بھی یہ محل نہیں۔ اسے کسی اور وقت پر اٹھارکھتا ہوں۔)

اب تو میں قارئین کی خدمت میں وہ اقتباسات پیش کرنا چاہتا ہوں جو یکم جولائی کو روزنامہ ڈان میں شائع ہوئے ہیں۔ ان اقتباسات سے معلوم ہوتا ہے کہ نواز شریف صاحب اس کارگل آپریشن کے اصل ’’موجد‘‘ تھے۔ ان کی خواہش اور ایما ہی پر یہ آپریشن پلان کیا گیا تھا۔

اور اس کی باقاعدہ منظوری انہوں نے ہی دی تھی۔ اس ساری تفصیل کو ’’ڈان‘‘ کی اس تلخیص میں واضح اور واشگاف طریقے سے پڑھا اور دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے علی الرغم ’’ہندوستان ٹائمز‘‘ نے 2 جون کو اس پر جو تبصرہ شائع کیا اس کا عنوان تھا:’’ نواز شریف کارگل آپریشن سے بے خبر تھے!‘‘۔۔۔

ذیل میں ڈان میں شائع ہونے والے ان اقتباسات کا اردو ترجمہ نذرِ قارئین ہے ۔اس کو پڑھنے کے بعد آپ خود اندازہ لگا سکیں گے کہ اس کارگل آپریشن (کوہ پیما) کی پیشگی خبر وزیر اعظم نواز شریف کو تھی یا نہیں۔۔۔ میرا خیال ہے یہ ترجمہ کئی اقساط پر پھیل جائے گا۔۔۔۔ پہلی قسط پیشِ خدمت ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

17مئی 1999ء کو وزیراعظم کو آپریشن ’’کوہ پیما‘‘ پر تفصیلی بریفنگ دی گئی جو آئی ایس آئی کے ایک ذیلی دفتر میں دی گئی۔ یہ دفتر اوجڑی کیمپ میں واقع تھا جو اسلام آباد سے چند میل کی مسافت پر ہے۔انڈین پریس میڈیا میں یہ خبریں آ رہی تھیں کہ پاکستان آرمی کے ریگولر سولجرز کے فائر کی آڑ میں یہ مجاہدین ہیں جو لائن آف کنٹرول عبور کرکے بھارتی علاقے میں گھس آئے ہیں۔

یہ تفصیلی بریفنگ اس وقت کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز، لیفٹیننٹ جنرل توقیر ضیاء نے دی۔ اس بریفنگ میں کارگل آپریشن سے متعلق تمام کا تمام ملٹری طائفہ موجود تھا جس میں آرمی چیف جنرل پرویز مشرف، چیف آف جنرل سٹاف لیفٹیننٹ جنرل عزیز خان، کمانڈر 10کور لیفٹیننٹ جنرل محمود احمد اور کمانڈر فورس کمانڈ ناردرن ایریاز (FCNA) بریگیڈیر جاوید حسن شامل تھے۔

آئی ایس آئی کے چند اہم اور کلیدی افسران بھی موجود تھے جن میں ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل ضیاء الدین بٹ، ڈائریکٹر انیلے سز ونگ میجر جنرل شاہد عزیز اور آئی ایس آئی کے افغانستان اور کشمیر پر خاص نمائندے، میجر جنرل جمشید گلزار شامل تھے۔

دوسری طرف وزیراعظم نواز شریف کے ہمراہ وزیر خارجہ سرتاج عزیز، وزیرخزانہ، وزیر امور کشمیر و شمالی علاقہ جات لیفٹیننٹ جنرل (ر) مجید ملک، سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد اور وزیراعظم کے پرنسپل سیکرٹری سعید مہدی موجود تھے۔کارگل کے منصوبہ سازوں (Planners) کا وزیراعظم اور ان کی کابینہ کے اراکین سے یہ پہلا ٹاکرا تھا!

ڈی جی ایم او ضیا نے ان الفاظ سے بریفنگ کا آغاز کیا: ’’سر! آپ کی خواہش کے مطابق ہم نے تحریک آزادیء کشمیر کو آگے بڑھانے کے لئے ایک پلان تیار کیا ہے‘‘۔۔۔ اس آپریشن کے پانچ مراحل بتائے گئے اور وضاحت کی گئی کہ پہلا مرحلہ مکمل کیا جا چکا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے نقشوں پر بیسیوں پوزیشنوں کو دکھایا جن پر قبضہ کیا جا چکا تھا۔ تاہم ان سارے نقشوں پر کوئی عبارت تحریر نہیں تھی۔

ان پر صرف ملٹری نشانات (Symbols) بنے ہوئے تھے۔ عموماً ہوتا یہ ہے کہ جب فوجی لوگوں کو بھی ایسے نقشوں پر بریفنگ دی جاتی ہے کہ جن پر صرف ملٹری نشانات (Symbols) دیئے ہوتے ہیں تو ان کو بھی صورتِ حال سے آگہی دینے کے لئے وضاحتوں کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ان کو سمجھ آ سکے کہ ان اشارات و علامات سے کیا مراد ہے۔

مثال کے طور پر کسی نقشے پر ایل او سی (LOC) کسی نمایاں مارکنگ کے ذریعے ظاہر نہیں کی گئی تھی۔ چنانچہ بریفنگ کے دوران جب وزیراعظم کو انڈین اور پاکستانی پوزیشنیں دکھائی جا رہی تھیں تو ان کو پوری طرح ان پوسٹوں کی لوکیشن سمجھ نہیں آ رہی تھی۔

تاہم بریفنگ کا اصل فوکس اس بات پر تھا کہ پاکستانی ٹروپس نے اب تک کون کون سی کامیابیاں حاصل کر لی ہیں۔ یہ نہیں بتایا گیا تھا کہ پاکستانی ٹروپس نے لائن آف کنٹرول بھی عبور کر لی ہے اور پاکستانی فوجی پانچ سے لے کر دس کلومیٹر تک ایل او سی کے پار بھی جا چکے ہیں۔ اس موقع پر اس بریفنگ میں موجود ایک ریٹائرڈ جنرل نے بعد میں اپنی یادوں کو کریدتے ہوئے بتایا:’’ میں نے دیکھا کہ درجنوں پوزیشنیں ایسی تھیں جو ایل او سی کے پار مقبوضہ کشمیر کے علاقے میں تھیں‘‘۔

مقبوضہ کشمیر تین بڑے سیکٹروں پر پھیلا ہوا ہے۔ ان میں ایک جموں سیکٹر ہے، دوسرا پیر پنجال کا سلسلہء کوہ ہے جو وادی کے اندر تک چلا گیا ہے اور تیسرا لداخ و لہہ (Leh) سیکٹر ہے۔ پاکستان کی طرف سے جموں سیکٹر میں داخل ہونے کا راستہ درۂ مانہال (Manihaal Pass) کی طرف سے ہے اور لہہ و لداخ سیکٹر کی طرف جانے والا راستہ درۂ زوجیلا سے ہوکر جاتا ہے۔

ڈی جی ایم او بتا رہے تھے کہ : ’’دوسرے مرحلے میں ہم لہہ و لداخ سیکٹر کی طرف سے مجاہدین نفوذ کاروں کو ایل او سی کے پار بھیج دیں گے اور وہ جا کر اس علاقے میں یورشی کارروائیاں شروع کر دیں گے۔۔۔ جنرل ضیاء نے تیسرے مرحلے کی پیشگوئی کرتے ہوئے بتایا کہ جب دونوں اطراف سے انڈین فورسز پر دباؤ بڑھے گا تو انڈیا وادی سے اپنی فورسز کو نکال کر لداخ اور جموں کی طرف لانے پر مجبور ہو گا۔

اور اس طرح وادی میں کوئی بھارتی فوج موجود نہیں رہے گی۔ ڈی جی ایم او نے مزید وضاحت کرتے ہوئے انکشاف کیاکہ چوتھے مرحلے میں مجاہدین اور آزادی خواہ وادی میں داخل ہو کر دھاوا بول دیں گے اور درہ مانہال اور درہ زوجیلا کو بلاک کردیں گے۔ اس طرح وادی کو باقی علاقوں اور بھارتی فوج سے کاٹ کر تنہا کر دیا جائے گا اور پھر اس پر قبضہ کرلیا جائے گا۔ جنرل صاحب نے کہا کہ پانچواں مرحلہ آخری مرحلہ ہوگا اور انڈین ہمارے سامنے گھٹنے ٹیک کر مذاکرات کی بھیک مانگیں گے اور ہم اپنی شرائط پر آئندہ کے معاملات طے کریں گے۔

مفروضے اور گمان

ڈی جی ایم او نے بریفنگ جاری رکھی اور 5مرحلوں کے اس آپریشن کوہ پیما کی کامیابی کے چار مفروضے بھی بیان کرنے شروع کئے جن کی کامیابی کی ضمانت منصوبہ سازوں نے دے رکھی تھی۔۔۔۔ اولاً یہ بتایا کہ جن پوسٹوں پر قبضہ کیا گیا ہے ان میں ہر پوسٹ ناقابلِ تسخیر ہے۔۔۔ثانیاً یہ کہ بھارتیوں میں ہمارے ساتھ لڑنے کا نہ حوصلہ ہے اور نہ ان میں ان چوٹیوں کو واپس لینے کا دم خم ہے۔۔۔۔ ثالثاً جہاں تک بین الاقوامی ردعمل کا تعلق ہے تو پاکستان کو کسی اندیشے کی پروا نہیں کرنی چاہئے کیونکہ باہر سے ہم پر کوئی دباؤ نہیںآئے گا۔۔۔ اور رابعاً یہ کہ پاک آرمی کو ملک کی مالی دشواریوں کا احساس ہے اس لئے اس آپریشن کی تکمیل کے لئے حکومت سے کوئی اضافی مالی امداد نہیں مانگی جائے گی۔ پاک آرمی اپنی مالی ضرورتوں کو اپنے وسائل ہی سے پورا کرے گی۔

اس آپریشن کا لب لباب یہ تھا کہ منتخب سویلین لیڈر شپ کو اپنی ان ’کامیابیوں‘ کے بارے میں بتایا جائے جو آرمی نے لائن آف کنٹرول پر حاصل کی تھیں۔ حاضرین کو یہ تاثر دیا گیا کہ سٹرٹیجک اہمیت کی حامل یہ تمام بلندیاں لائن آف کنٹرول کے اس زون (حصے) میں واقع ہیں جن کی حدبندی ہنوز نہیں کی گئی۔ شرکائے اجلاس کو ڈی جی ایم او نے یہ بھی بتایا کہ پاکستانی ٹروپس جن بلندیوں پر جاکر قابض ہو چکے ہیں بھارتی فوجیوں کے لئے ان کو واپس لینا ممکن نہیں ہوگا۔ آرمی چیف نے اس نکتے پر زور دیا کہ یہ صورتِ حال ناقابلِ واپسی ہے۔یعنی جہاں ہم جاچکے ہیں وہاں سے واپس ہونا ممکن نہیں۔ اور ساتھ ہی یہ بھی کہا ان کے تمام پروفیشنل کیرئر کا تجربہ یہ بتاتا ہے کہ اس آپریشن کی کامیابی سو فیصد یقینی ہے۔

اس بریفننگ کا مرکزی نقطہ یہ تھا کہ سویلین حاضرین کو بتایا جائے کہ اس آپریشن کے نتیجے میں جذبۂ جہاد کا ٹمپو مزید تیز ہو جائے گا اور لوگ یہ سمجھیں گے کہ یہ سب کارروائیاں مجاہدین کی طرف سے کی جارہی ہیں، پاکستان ان کو صرف انصرامی(Logistic) امداد مہیا کررہا ہے کیونکہ فوجی نقطۂ نظر سے یہ چوٹیاں ناقابلِ تسخیر ہیں۔ ’’کوہ پیما‘‘ کے معمار بڑے وثوق سے یہ سمجھتے تھے کہ انڈیا پہلے پہل تو شور مچائے گا، اس کے بعد جوابی حملہ کرے گا لیکن یہ لڑائی صرف اسی آپریشنل علاقے تک ہی محدود رہے گی۔ حاضرین کو بتایا گیا کہ اس کے بعد تھک ہار کر انڈیا خاموش ہو جائے گا اور اپنی پبلک کو یہ بتائے گا کہ یہ ساری چوٹیاں پاکستان سے واپس لے لی گئی ہیں۔

کوہ پیما کے معماروں کی طرف سے یہ ناقص مفروضات خوش گمانی پر مبنی تھے۔ ان کا یہ تجزیہ شاید پاکستان کے اپنے طرزِ عمل کا غماز تھا کہ 1984ء میں جب انڈیا نے سیاچن پر قبضہ کرلیا تھا تو پاکستان اپنے فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق کے دور میں خاموش بیٹھا رہا تھا۔

اس بریفنگ کے آخر میں منصوبہ سازوں نے یہ یقین بھی دلایا کہ جب انڈیا کی طرف سے کوئی جواب نہیں دیا جائے گا تو ہم مسئلہ کشمیر پر سودے بازی (کچھ لو اور کچھ دو) کرنے کے قابل ہو جائیں گے!(جاری ہے)

مزید : رائے /کالم