اچھی فلم کیلئے سرمایہ اور بہترین کہانی کی ضرورت ہوتی ہے:مومنہ بتول

اچھی فلم کیلئے سرمایہ اور بہترین کہانی کی ضرورت ہوتی ہے:مومنہ بتول
اچھی فلم کیلئے سرمایہ اور بہترین کہانی کی ضرورت ہوتی ہے:مومنہ بتول

  

لاہور(فلم رپورٹر)اداکارہ و ماڈل مومنہ بتول نے کہا ہے کہنجی ٹی وی کے ڈرامہ ’’نور بی بی‘‘میں منفرد کردار میں نظر آؤں گی فلموں کے موضوع، کہانی، ڈائیلاگ، لوکیشنزاورجدید ٹیکنالوجی نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ ایک اچھی فلم بنانے کے لئے صرف سرمائے کی ہی نہیں بلکہ بہترین کہانی کی اشد ضرورت ہوتی ہے۔مومنہ بتول نے کہا کہ ایک اچھی کہانی کی ڈیمانڈ کے لئے اگرسرمایہ لگایا جائے توبری بات نہیں ، وگرنہ کم بجٹ میں بھی اچھی فلم بن سکتی ہے۔ ہالی ووڈ اوربالی ووڈ میں ایسی بے شمارمثالیں موجود ہیں۔ اس وقت ہمیں اچھے رائٹرز کی ضرورت ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ فلم کی کہانی، لوکیشنز اورمیوزک کے علاوہ اگرڈائیلاگ پربھی تھوڑی سی توجہ دی جائے توپھرایک یا دوہفتے نہیں بلکہ برسوں تک لوگوں کے ذہنوں میں رہتی ہے۔ ہمارے ہاں اس وقت اچھی فلمیں بن رہی ہیں اورفنکاروں کی پرفارمنس بھی بہت جاندارہے لیکن فلم کی کہانی اورڈائیلاگ پرابھی بھی بہت کام کرنے کی ضرورت ہے ۔مومنہ بتول نے کہا کہ ماضی میں پاکستان اوربھارت کی بہت سی فلمیں ایسی ہیں، جن کے ڈائیلاگز ہمیں آج بھی یاد ہیں۔ بہت سے مزاحیہ ڈرامے ان ڈائیلاگز پربن چکے ہیں جس سے ایک ڈائیلاگ کی اہمیت کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ جہاں تک بات پاکستانی فلموں کی ہے تواس وقت ہمارے ہاں جدید طرز کے سینما گھربن چکے ہیں اوران کی تعداد میں اضافہ بھی ہورہا ہے۔ دوسری جانب نوجوان فلم میکرز جدید ٹیکنالوجی کے ساتھ بہت ہی اچھی فلمیں پروڈیوس کررہے ہیں لیکن ان میں کہانی اورڈائیلاگ کی کمی محسوس ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے ملک میں ٹیلنٹ تلاش کرنے کے لئے اکثرورکشاپس کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ایکٹنگ کے لئے بہت سے نوجوان مارے مارے پھرتے دکھائی دیتے ہیں لیکن رائٹرز کوآگے لانے کے لیے کوئی راستہ تلاش نہیں کرتا۔ اس وقت ہمیں اچھے رائٹرز کی ضرورت ہے۔ جب تک ہم اچھے رائٹرزنہیں سامنے لائیں گے یا ان کوموقع دیں گے، اس وقت تک جدید ٹیکنالوجی، سینما گھرکچھ نہیں کرسکتے۔

مزید : کلچر