اللہ اکبر تحریک کی 14اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین انتخابات لڑیں گی

اللہ اکبر تحریک کی 14اعلیٰ تعلیم یافتہ خواتین انتخابات لڑیں گی

لاہور(ایجوکیشن رپورٹر)ملی مسلم لیگ کی حمایت یافتہ اللہ اکبر تحریک کے پلیٹ فارم سے14 اعلیٰ تعلیم یافتہ اور سیاسی تجربہ کار خواتین انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں جن میں پی ٹی آئی اور پیپلز پارٹی شعبہ خواتین کی سابقہ سرگرم عہدیداران بھی شامل ہیں۔ تین خواتین مخصوص نشستوں اور ایک اقلیتی نشست کیلئے امیدوار ہیں۔ این اے 161سے حصہ لینے والی عفت طاہرہ سومرو ایڈووکیٹ جہانگیر ترین کی کورنگ امیدوار بھی رہ چکی ہیں این اے 181سے بے نظیر فاطمہ قریشی پیپلز پارٹی کی سابقہ رہنما اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مظفر گڑھ میں کورآرڈینیٹر رہ چکی ہیں۔گولارچی سے ڈاکٹر صنم لغاری بھی اللہ اکبرتحریک کے پلیٹ فارم سے حصہ لے رہی ہیں۔ ملی مسلم لیگ کی حمایت یافتہ اللہ اکبر تحریک کی جانب سے تفصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ ملک بھر کے مختلف علاقوں میں جو خواتین انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں ان میں این اے 251سے اقراء مزمل،این اے 107سے رابعہ مختار، این اے 161سے عفت طاہرہ سومرو ایڈووکیٹ،این اے 181سے بے نظیر فاطمہ قریشی جبکہ پی پی 14سے شازیہ سعید، پی پی 83سے شازیہ کوثر، پی پی 149سے مسز جھارا پہلوان سائرہ بانو، پی پی 151سے سیدہ طاہرہ شیرازی، پی پی 229سے بیگم عابدہ نذیر، پی ایس 74سے ڈاکٹر صنم لغاری شامل ہیں۔ اسی طرح پنجاب سے مخصوص نشستوں پر حمیرا نوشین اورفرحت نعیم جبکہ اقلیتی نشست پر سموئیل مسیح امیدوار ہیں۔ ملی مسلم لیگ کی حمایت یافتہ اللہ اکبر تحریک کے انتخابی نشان کرسی پر انتخابات میں حصہ لینے والی یہ سبھی خواتین بہت پڑھی لکھی اور سیاسی بیک گراؤنڈ رکھنے والی ہیں۔ این اے 161سے امیدوار عفت طاہرہ سومرو ایڈووکیٹ جنوبی پنجاب میں تحریک انصاف کی بانی اراکین میں شامل ہیں اور تحریک انصاف خواتین ونگ لودھراں کی سابقہ صدر ہیں عفت طاہرہ نے اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور سے ایم اے سیاسیات اور وکالت کی ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ وہ 2007سے سیاست میں موجود ہیں۔ پنجاب کمیشن برائے خواتین کی انچارج ہیں اور انہیں خواتین کی موثر آواز سمجھا جاتا ہے۔وہ سابقہ الیکشن میں جہانگیر ترین کی کورنگ امیدوارتھیں۔ این اے 181سے امیدوار بے نظیر فاطمہ قریشی سوشل سرگرمیوں میں بھرپور انداز میں حصہ لیتی ہیں۔ وہ بااثر قریشی خاندان سے تعلق رکھتی ہیں اور بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام مظفر گڑھ کی کورآرڈینیٹر رہ چکی ہیں۔ انہیں قریشی برادری سمیت دیگر برادریوں کو حمایت حاصل ہے۔اللہ اکبر تحریک کے پلیٹ فارم سے گولارچی سندھ سے انتخابات میں حصہ لینے ڈاکٹر صنم لغاری بھی تعلیم یافتہ خاتون ہیں۔ ان کی طرف سے ملی مسلم لیگ کی حمایت یافتہ اللہ اکبر تحریک کے پلیٹ فارم سے انتخابات میں حصہ لینے پر قوم پرستوں کی جانب سے سوشل میڈیا پربہت مخالفت کی جارہی ہے تاہم ان کا کہنا ہے کہ وہ نظریہ پاکستان کی بنیاد پر سیاست میں حصہ لینے والوں کے ساتھ ہے اور انہیں کسی کی مخالفت اور پاکستان مخالف لوگوں کے پروپیگنڈا کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔لاہور میں پی پی 149سے انتخابات میں حصہ لینے والی مسز جھارا پہلوان بیگم سائرہ بانو بیگم کلثوم نواز کی پھوپھی زاد ہیں۔

مزید : میٹروپولیٹن 1