پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کی تشکیل غیر آئینی قرار ، تحلیل کر دیا گیا

پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کی تشکیل غیر آئینی قرار ، تحلیل کر دیا گیا

لاہور(نامہ نگارخصوصی)لاہور ہائیکورٹ نے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈکی تشکیل کوغیر آئینی قرار دیتے ہوئے تحلیل کر دیاہے تاہم عدالت نے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ کا تمام کام اور اختیارات پی اینڈ ڈی ڈیپارٹمنٹ کو منتقل کرنے کے لئے 3ماہ کی مہلت دے دی ہے ۔مسٹرجسٹس ساجد محمود سیٹھی نے یہ حکم پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ (پی اینڈڈی بورڈ)کی تشکیل کے خلاف سید حسین حیدر کی درخواست منظور کرتے ہوئے جاری کیا۔فاضل جج نے 10مئی 2018ء کو اس درخواست کی سماعت مکمل کرکے اپنا فیصلہ محفوظ کیا تھا جو اب سنا دیا گیاہے۔13صفحات پر مشتمل اس عدالتی فیصلے میں عدالت نے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈکی تشکیل کوآئین کے آرٹیکل 139(3)اوررولز آف بزنس مجریہ2011ء سے متصادم قراردیاہے، عدالت نے پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈتحلیل کرتے ہوئے قراردیا ہے کہ بورڈ کے تمام اختیارات اورکام 3ماہ بعد محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ پنجاب کو تفویض ہوجائیں گے ۔ درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر سید محمد جاوید اقبال جعفری نے موقف اختیار کیاتھاکہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈتشکیل دیا گیا،محکمہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ کے اربوں روپے کے بجٹ کونام نہادبورڈ کے ذریعے پراجیکٹس میں لگانے اور غیر قانونی بھرتیاں کرنے کے لئے استعمال کیا جا رہا ہے، اس کیس میں سرکاری وکیل نے جواب داخل کراتے ہوئے کہاتھا کہ پلاننگ اینڈ ڈویلپمنٹ بورڈ انتظامی طور پر قائم کیا گیاہے ،عدالت نے قراردیا کہ حکومت آئین اور رولز آف بزنس کے خلاف کوئی بورڈ قائم نہیں کرسکتی ،حکومت نیابورڈ تشکیل دینا چاہتی ہے تو اسے آئین اور رولز بزنس کے مطابق قانون سازی کرنا ہوگی ۔

بورڈ تحلیل

مزید : علاقائی