شانگلہ کے مختلف سرکاری محکموں میں سینکڑوں آسامیاں خالی

شانگلہ کے مختلف سرکاری محکموں میں سینکڑوں آسامیاں خالی

الپوری ( نمائندہ پاکستان) شانگلہ کے مختلف سرکاری محکموں میں سینکڑوں آسامیاں خالی،ضلع میں روزگار نہ ہونے کیوجہ سے تعلیم یافتہ ڈگری ہولڈر کوئلہ کی کانوں میں مزدوری کرنے پر مجبور ہیں -نوجوانان ذہنی کوفت ومشکلات سے دوچار، بے روزگاری کیوجہ سے ذہنی ڈیپریشن کاشکار ہوگئے ،پی ٹی آئی کے پانچ سالہ اقتدار میں صوبائی حکومت نے شانگلہ کو یکساں طور پر نظرانداز کردیا جس کیوجہ سے ضلع بھر کے سرکاری محکموں میں سینکڑوں آسامیوں پر بھرتیاں التواء کے شکار رہیں جبکہ ایک درجن محکموں میں ٹسٹ انٹرویو ہونے کے باوجود سیاسی رسہ کشی کیوجہ سے تعنیاتی نہ ہوسکی ۔شانگلہ کے نوجوانوں نے صورتحال پر نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور احتجاج کی دھمکی دی ہے،ضلع میں خالی اسامیوں کی مسلسل التواء سے بیروزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں میں بے چینی کی لہر دوڑ گئی ہے ، خالی اسامیوں میں سب سے زیادہ اسامیاں محکمہ صحت میں کلاس فور،ٹیکنیشن سٹاف ، پیرامیڈیکل کی نرسزز، کمپیوٹر اپریٹرز،ڈرائیورز وغیر ہ شامل ہیں لیکن ڈی ایچ او اور ایم ایس ڈی ایچ کیو ہسپتال الپوری ان اسامیوں کو مشتہر نہیں کر رہا جبکہ انہیں اسکا قانونی اختیار حاصل ہے اور ڈی جی صحت نے بھی اس سلسلے میں محکمے کو اختیارات تقویض کئے ہیں ۔محکمہ صحت شانگلہ کی غفلت اور چشم پووشی کو ظاہر کرتا ہیجس کی وجہ سے تعلیم یافتہ بے روزگارنوجوان انتہائی مشکل صورت حالکا سامنا کرنا ہے۔ اسی طرح محکمہ بلدیات،ضلعی انتظامیہ، محکمہ تعلیم ، محکمہ زراعت، محکمہ سی اینڈ ڈبلیو اور دیگر محکموں میں سینکڑوں خالی آسامیاں پڑی ہیں ،شانگلہ کے بیروزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں نے حکومت وقت سے مطالبہ کیا ہے کہ محکمہ صحت اور شانگلہ کے دیگر محکموں میں خالی اسامیوں کو جلدی پر کر کے ان نوجوان وں کو مزید تباہی و بربادی سے بچایا جائے انہوں نے کہا کہ دیگر اضلاع میں یہ اسامیاں مشتہر ہو چکی ہیں شانگلہ واحدضلع ہے جس میں ابھی تک اسامیاں مشتہر نہیں ہوئی ،شانگلہ کو ضلعی کا درجہ ملے ہوئے اٹھارہ سال گزر چکے ہیں لیکن ابھی تک سیاسی چپقلش کی وجہ سے ضلع کے ثمرات سے محروم ہیں ۔اس حوالے سے نوجوانوں نے ایک تحریک شروع کردی ہے جس کے پہلے مرحلے میں انھوں نے ڈپٹی کمشنر شانگلہ کو تحریری طورپر تمام صورتحال سے آگاہ کیا ہے اس تحریری درخواست میں شانگلہ کے تمام سرکاری محکموں میں خالی اسامیوں کے التوا پر کمیٹی قائم کرنے کا مطالبہ کے ساتھ ساتھ یہ دھمکی دی ہے کہ فی الفور صورتحال پر کاروائی نہ ہوئی تو وہ مجبوراً ضلع بھر میں احتجاجی تحریک شروع کریں گے۔۔

مزید : کراچی صفحہ اول