خیبر این اے 43میں کوئی بڑا پراجیکٹ شروع نہیں کیا جا سکا،عوام سراپا احتجاج

خیبر این اے 43میں کوئی بڑا پراجیکٹ شروع نہیں کیا جا سکا،عوام سراپا احتجاج

ضلع خیبر (بیورو رپورٹ)گزشتہ 15سالوں میں این اے 43 خیبر میں کوئی بڑا پروجیکٹ نہیں ہوا ہے ،عوام کو سبز باغ دکھا کر دھوکہ دیا حلقے کے مردو خواتین اور بچے سراپا احتجاج ہیں, پانی اور بجلی دو اور ووٹ لو کے نعرے ہر سوں گونجنے لگے, جمرود ملاگوری کے بعد لنڈی کوتل کے عوام بھی بنیادی مسائل کے حل کے لئے سڑکوں پر جلد آئینگے. پی ٹی آئی فاٹا کے رہنماء شاہد شنواری بھی عوام کو الیکشن سے بائیکاٹ کرنے کی ترغیب دینے لگے اور پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کو نگران حکومت کی معاشی دہشت گردی قرار دیا ہے۔ گزشہ پانچ سالوں میں منتخب نمائندوں نے بازار ذخہ خیل کی تحصیل اور ہسپتال کی تعمیر ادھورے اور نامکمل چھوڑ دئے اور پولیٹیکل انتظامیہ کے کارناموں کا کریڈیٹ لیتے رہے جبکہ وہاں تحصیل میں کوئی سٹاف اور آلات تاحال نہیں ملے ہیں اور وہاں کے لوگ مشکلات سے دوچار ہیں اسی طرح جمرود گریڈ سٹیشن کا افتتاح بھی سابق وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی نے جنریٹر چلا کر کیا اور عوام کو دھوکہ دے گئے اور ابھی تک خود جمرود گریڈ سٹیشن بھی بجلی سے محروم ہے اس لئے تو جمرود اور ملاگوری میں لوگ سڑکوں پر آکر احتجاج کرنے لگے اور خواتین بھی جمرود میں احتجاج ریکارڈ کر چکی ہیں اور یہی حالت لنڈی کوتل ہسپتال کی بھی ہے جو کہ 2013 سے اب تک ٹائپ اے گریڈ اور 732 سٹاف سے محروم ہے اور کسی نے اس کے لئے سنجیدگی سے کام نہیں کیا جو کہ ایک بنیادی ضرورت ہے اگر لوئے شلمان اور لنڈی خانہ واٹر سکیم پر نظر دوڑائے تو وہ صرف کاغذات تک محدود رہیں اور عملاً ان منصوبوں پر کوئی کام نہیں ہو سکا جس میں سے لنڈی خانہ واٹر سکیم کا افتتاح موجودہ گورنر نے کیا تھا اور کریڈیٹ سابق ایم این اے الحاج شاہ جی گل لے رہے تھے لیکن وہ منصوبہ پس منظر میں چلا گیا جس طرح نورالحق قادری نے شلمان واٹر سکیم کا افتتاح کرنے کے لئے سابق گورنر افتخار حسین شاہ کو لے کر آئے تھے لیکن کچھ نہ کر سکے جس سے لوگوں کی پانی کی مشکل حل ہو جاتی اگر جمرود میں ریگی للمہ زمین کے تنازعہ کی بات کریں تو وہ بھی گزشتہ پانچ سالوں میں حل نہ ہو سکا اور نہ ہی زبانی جمع خرچ سے آگے بڑھ سکا حلقہ این اے 43 کے تمام تر امیدواروں نے انتہائی غفلت کا مظاہرہ کیا اوراس کے نتیجے میں تورہ ولہ, چورہ سمیت کچھ علاقے مبینہ طور پر حلقہ این اے 44 میں چلے گئے جن کا تعلق این اے 43 سے بنیادی طور پر بنتا ہے اور یہ الیکشن کمیشن کی بھی ناکامی اور نا اہلی ہے اس حلقے میں کوئی بڑا کام گزشتہ 20سالوں میں نہیں ہوا اور کاغذات میں برائے نام منظور کئے جانے والے منصوبوں کا کریڈیٹ ہر کسی نے لینے کی کوشش کی ہے لنڈی کوتل ڈگری کالج کو کاغذات میں پوسٹ گریجویٹ کا درجہ تو دیا گیا تھا لیکن اس کالج کو کوئی اضافی سٹاف ملا اور نہ ہی کلاسیں شروع کی جا سکیں اور ستم ظریفی یہ کہ سیکنڈ شفٹ کلاسز بھی ختم کر دی گئی ہیں اب کہاں ہیں وہ لوگ جو اس کا کریڈیٹ لیتے نہیں تھکتے تھے لنڈی کوتل میں میڈیا کے نمائندوں کو بھی دھوکے دئے گئے اور لنڈیکوتل پریس کلب بھی تعمیر نہ ہو سکا اور یونیورسٹی کا شوشہ چھوڑا گیا لیکن کہیں کچھ نظر نہیں آرہا پشاور لنڈی کوتل کی شاہراہ تو بن گئی لیکن لنڈی کوتل میں شاہراہ پر کوئی پل نہ بن سکا جس کی وجہ سے سیلاب کے وقت ٹریفک معطل رہتی ہے حلقہ این اے 43 میں اگر ایک طرف پانی اور بجلی کی قلت نے لوگوں کو پریشان کر دیا ہے تو دوسری طرف ان تمام منصوبوں کو عملی شکل دینے کے لئے کسی سابق ایم این اے نے سنجیدگی سے کوشش نہیں کی اس لئے اب ہر طرف عوام کی طرف سے یہ نعرہ سننے کو مل رہا ہے کہ پانی اور بجلی دو اور ووٹ لو ورنہ زحمت نہ کرو اس حوالے سے پی ٹی آئی کے رہنماء شاہد شنواری نے فون کرکے بتایا کہ نگران حکومت نے پٹرولیم مصنوعات میں اضافہ کرکے غریب عوام کی کمر توڑ دی ہے اور نگران حکومت نے معاشی دہشت گردی شروع کر دی ہے انہوں نے عوام سے مطالبہ کیا کہ ایسے نام نہاد الیکشن کا کوئی فائدہ نہیں اور عوام کو چاہئے کہ خیبر سے کراچی تک انتخابات کا مکمل بائکاٹ کریں اور اسی میں ان کی بہتری ہے انہوں نے نگران حکومت کے خلاف عوامی احتجاج کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

مزید : کراچی صفحہ اول