بہاولپور کے ارکان اسمبلی حکمرانوں کے سامنے ہاتھ باندھے، سرجھکائے رہتے ہیں: محمد علی درانی

بہاولپور کے ارکان اسمبلی حکمرانوں کے سامنے ہاتھ باندھے، سرجھکائے رہتے ہیں: ...

احمدپورشرقیہ (سٹی رپورٹر) اس خطہ کے مدارس غریبوں کی پنا ہ گاہیں ان پر دہشت گردی کا الزام غلط ہے بہا ول پور کا خطہ اسلام سے محبت کرنیوالوں اور ختم نبوت کا عظیم مرکز ہے۔ آٹھ (بقیہ نمبر12صفحہ12پر )

سال اقتدار میں رہا ‘ مگربہا ول پور کے کسی رکن اسمبلی نے مجھ سے کوئی کام نہیں لیا جو بھی آتا تھا و ہ پٹواری یاتھانیدار کا تبادلہ چاہتا تھا۔ ان خیالات کا اظہار سابق وفاقی وزیر محمد علی درانی نے تحریک اللہ اکبر اور ملی مسلم لیگ کے عہدیداران سے خطاب کر تے ہوئے کیا انہوں نے کہا کہ میں نے بہا ول پور کے عوام کے ساتھ ہونے والے ظلم کی خلاف سینٹ میں آواز اُٹھائی ، میری 45 تقاریر بہا ول کے عوام سے ہونے والے ظلم کے خلاف اور بہا ول پور صوبہ بحالی کے لئے تھی محترمہ عابد ہ درانی (مرحومہ ) کی بہا ول پور صوبہ بحالی تحریک کے لئے خدمات ناقابل فراموش ہیں ۔صادق گڑھ پیلس میں ہونیوالے اعلان بہا ول پو رکے بعد لیڈر سکوں کے مول بکے۔ انہوں نے کہا کہ بہا ول پور کے ارکان اسمبلی حکمرانوں نے سامنے ہاتھ باند ھ کرسر جھکا کر کھڑے ہوتے ہیں ۔حسین علی درانی آیا ہے تو اس خطہ کے لئے ایک سو بیس کنا ل پرمشتمل بڑے ہسپتال کا منصوبہ لایاہے۔ اس موقع پر امید وار صوبائی اسمبلی حسین علی درانی نے کہا کہ اس خطہ کے ساتھ حکمرانوں کی طرف سے معاشی دہشت گردی کی جارہی ہے۔ میں اس خطہ سے روایتی سیاست کے خاتمہ کے لئے آیا ہوں۔ اس مو قع پر ضلعی امیر جماعت الدعوۃ نے کہا کہ ہم نے صادق او رامین امیدوا رکا انتخاب کر نا ہے۔ انہوں نے کہا حکمرانوں نے ختم نبوت پر ڈاکے اور شریف برادران نے بھارت کے ساتھ دوستی نبھائی اس مو قع پر حافظ محمد رفیق ، غلام رسول چھٹہ ، مظہر الحق ، شیخ محمد وقاص ، خالد مجتبیٰ چوھان، حاجی راشد قریشی، مولانا سیف اللہ خان راشدی ، اور جام محمد علی لاڑ بھی موجودتھے۔

مزید : ملتان صفحہ آخر