بینظیر کا وہ بھائی جس کی منشیات کی زیادتی کے باعث موت ہوگئی، فرانسیسی انٹیلی جنس کا تہلکہ خیز انکشاف

بینظیر کا وہ بھائی جس کی منشیات کی زیادتی کے باعث موت ہوگئی، فرانسیسی انٹیلی ...
بینظیر کا وہ بھائی جس کی منشیات کی زیادتی کے باعث موت ہوگئی، فرانسیسی انٹیلی جنس کا تہلکہ خیز انکشاف

  

کراچی(مانیٹرنگ ڈیسک) پاکستان پیپلز پارٹی کی سابق رہنما بینظر بھٹو کے بھائی شاہنواز بھٹو کے بارے میں ہمارے ہاں یہ بات مشہور ہے کہ انہیں زہر دے کر قتل کیا گیا اور اس قتل کے لئے سابق ڈکٹیٹر ضیاءالحق کو ذمہ دار قرار دیا جاتا ہے، لیکن کیا یہی حقیقت ہے؟ کالم نگار انجم نیاز اس بات سے اتفاق نہیں کرتی ہیں اور اس عدم اختلاف کی بنیاد سابق سفارتکار جمشید مارکر کے وہ انکشافات ہیں جو انہوں نے انجم نیاز کو دئیے گئے ایک انٹرویو میں کئے۔

اخبار ”ایکسپریس ٹریبیون“ میں شائع ہونے والے اپنے خصوصی مضمون میں وہ لکھتی ہیں کہ ”کچھ کہانیاں ایسی ہوتی ہیں کہ جنہیں دہرانا ضروری ہوتا ہے۔ ایک ایسی ہی کہانی سابق سفارتکار جمشید مارکر کے بھٹو فیملی کے بارے میں حیران کن انکشافات ہیں۔“ وہ کہتی ہیں کہ ”2010ءمیں میں جمشید مارکر سے انٹرویو کے لئے گئی۔ انہوں نے بھٹو فیملی کے بارے میں جو کچھ کہا میں نے اسے 2010ءمیں بھی اپنے ایک کالم میں لکھا اور بھٹو فیملی کی جانب سے کبھی اس کی تردید سامنے نہیں آئی۔“

وہ لکھتی ہیں کہ جمشید مارکر نے انہیں بتایا کہ ”بیگم نصرت بھٹو فرینچ ریویریا کینز میں رہائش پذیر تھیں۔ فرانسیسی وزیر انصاف نے انہیں یہ رہائش عارضی قیام کیلئے فراہم کی تھی۔ وہ بھٹو فیملی کے اچھے دوست تھے، صدر قذافی کی طرح۔ قذافی نے بھٹو فیملی کو بہت بھاری رقوم دی تھیں۔ ایک شام ایک ریسٹورنٹ میں ڈنر کے دوران دونوں لڑکوں مرتضیٰ اور شاہنواز کے درمیاں رقم کی تقسیم پر جھگڑا ہوگیا۔ بینظیر نے انہیں پرسکون کرنے کی کوشش کی لیکن وہ کامیاب نہ ہوئیں۔ آخر کار وہ اپنی ماں اور بہن کے ساتھ ان کے گھر چلی گئیں جبکہ مرتضیٰ نے شاہنواز کا تعاقب کیا۔“

اس کے بعد رونما ہونے والے واقعات کے بارے میں جمشید مارکر نے بتایا ”ان کے درمیان جھگڑا بدنما صورت اختیار کرگیا اور بالآخر فرانسیسی پولیس انہیں گرفتارکرنے پہنچ گئی۔ تب تک شاہنواز بیہوش ہوچکا تھا۔ وہ نشے کی زیادتی کے باعث بیہوش ہوا تھا۔ مرتضیٰ کو گرفتار نہ کیا جاسکا کیونکہ اس کے پاس شامی سفارتی پاسپورٹ تھا۔ اس رات کے آخری پہر شاہنواز کی موت ہوگئی۔ پولیس نے اس کی افغان اہلیہ کو گرفتا رکرلیا کیونکہ وہ بستر مرگ پر پڑے شوہر کی مدد کو نہیں پہنچ سکی تھی۔ جب اس نے کچھ انکشافات کرنے کی دھمکی دی تو بھٹو فیملی کی جانب سے کیس ختم کردیا گیا۔“

انجم نیاز کے مطابق جمشید مارکر کا کہنا تھا کہ انہیں یہ تمام معلومات فرانسیسی انٹیلی جنس پولیس کے سربراہ نے خود دیں۔ دوسری جانب نصیر اللہ بابر، جو بعدازاں بینظیر دور میں وزیر داخلہ بنے، کا دعویٰ تھا کہ اس قتل میں جنرل ضیاءکا ہاتھ تھا۔ نصیراللہ بابر کا موقف تھا کہ شاہنواز کو زہر دیا گیا تھا جبکہ جمشید مارکر کا کہنا تھا کہ اس بات میں کو ئی صداقت نہیں۔ وہ کہتے تھے کہ ضیاءکا اس معاملے سے کوئی تعلق نہ تھا۔

انجم نیاز مزید لکھتی ہیں کہ جمشید مارکر کے ان انکشافات سے ہمیں یہ تو معلوم ہوگیا کہ شاہنواز کی موت نشے کی زیادتی سے ہوئی تھی لیکن ہمیں تاحال یہ معلوم نہیں کہ ان لاکھوں ڈالرز کا کیا ہوا جو لیبیا کے ڈکٹیٹر قذافی نے بھٹو فیملی کو دئیے تھے اور یہ کہ اس رقم میں سے بڑا حصہ کس کو ملا۔

مزید : ڈیلی بائیٹس /علاقائی /سندھ /کراچی