یہ ہے خلائی مخلوق اوراسکی جیپ کا ڈرائیور۔؟

یہ ہے خلائی مخلوق اوراسکی جیپ کا ڈرائیور۔؟
یہ ہے خلائی مخلوق اوراسکی جیپ کا ڈرائیور۔؟

  

شیر، بلے، پتنگ اور تیر کے مقابلے میں اچانک جیپ کے انتخابی نشان کی مقبولیت نے الیکشن 2018میں دلچسپی اور ہیجان برپا کردیا ہے ۔الیکشن میں اب خلائی مخلوق کو سیاسی پارٹی کے طور پر کھینچا جانے لگا ہے ۔وہ جو پہلے زیر لب کہہ رہے تھے اب واشگاف بولنے لگے ہیں کہ سب عقل مندوں کو معلوم ہے کہ جیپ کے پیچھے کون ہے ۔کون ہے جو انکے لوگوں کو دھمکا رہا اور جیپ میں سوار کرانا چاہ رہا ہے ۔مریم نواز شریف نے لندن سے بیان داغا ہے کہ" ہمارے لوگوں  نے وفاداری خود تبدیل نہیں کی بلکہ وفاداری تبدیل کرائی گئی ہے۔اورہمارے لوگوں کو زبردستی شیر کے نشان سے اتار کر جیپ میں سوار کرایا جارہا ہے، جیپ کا نشان خلائی مخلوق کا نشان بنتا جارہا ہے، جیپ کو ڈالا جانے والا ووٹ خلائی مخلوق کو جائے گا"یہ خلائی مخلوق کون ہے ،اب کوئی بچہ تھوڑی ہے کہ یہ نہ جان سکے کہ ملٹری اسٹبلشمنٹ سے خائف اور عدلیہ سے دوبدو سیاستدانوں کا اشارہ کس طرف ہے ۔۔۔۔۔عقل مند را اشارہ کافی است۔۔

2018کے قومی انتخابات سے پہلے ہی بڑے بڑے سیاسی پھڈے ہونے کا امکان ظاہر کردیا گیا تھا ۔ یہ بھی پیش گوئی کردی گئی تھی کہ ممکن ہے ن لیگ زچ ہوکر انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کا بیانیہ جاری کردے ۔ایسا ہی ہوا ۔ن لیگ کے وفاداروں کو جبراً وفاداریاں تبدیل کرانے اور انہیں جیپ میں سوار کرانے کے واقعات رونما ہوتے ہی ن لیگ نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے انتخابات کے بائیکاٹ کا اشارہ دیا اور کہا کہ الیکشن ”ن لیگ“ کو دیوار میں چننے کے لئے لڑایا جارہا ہے ۔اسکا اظہار بڑے میاں صاحب اور مریم بی بی پہلے بھی تواتر سے کرچکے ہیں ۔انہوں نے پہلے اشاروں کنایوں میں خلائی مخلوق کی اپنے خلاف مقدمات میں اور اب الیکشن میں بھی اسکی مداخلت کا واضح بیانیہ جاری کردیا ہے ۔

لندن سے ن لیگ قیادت کی جیپ پر گولہ باری غیر معمولی ہے ۔ انکے خلاف مقدمات کا فیصلہ بھی محفوط کرلیا گیا ہے اور چھ جولائی کوعدالت نے میاں نواز شریف اور مریم نواز کو عدالت میں طلب بھی کرلیا ہے ۔اس بار لندن  سے واپسی پر انہیں جیل بھجوانے کی امیدیں کی جارہی ہیں ۔دیکھا جائے توحالات کی سنگینی اور اوپر سے الیکشن کا ادراک کرتے ہوئے ن لیگ قیادت اپنے بیانئے میں کسی طور پر لچک پیدا کرنے پر تیار نہیں۔ان کی نظر میں اب اگر ان کا رویہ نرم ہوگیا تو الیکشن میں  عوام شیر کی ہوا نکال کر جیپ کے ٹائروں میں بھر دیں گے ۔لہذا جیپ پر تابڑ توڑ حملے کرنا اور قبل از وقت قوم کو  اپنے اندیشوں سے  آگاہ کرنا کہ جیپ کوئی عوامی نشان نہیں ہے  ، عوام کو جان لینا چاہئے کہ جیپ کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھا ہواشخص شاہراہ الیکشن پر کھڑے مسافروں کو لفٹ بلاوجہ نہیں دے رہا ۔لہذا جیپ کو جمہوریت کا دشمن سمجھ کر اسکا ابھی سے ناطقہ بند کیا جائے۔دیکھئے عوام کو جیپ مخالف شعور دینے میں ن لیگ کتنی کامیاب ہوتی ہے،اس کا فیصلہ  اسی ماہ میں دو تین مرحلوں میں   ہوجائے گا۔ 

کہا جارہا ہے کہ جیپ الیکشن میں ن لیگ کے سیٹ اپ کواپ سیٹ کرے گی ۔اس جانب بھی اشارہ کردیا گیا ہے کہ جیپ کا سب سے پہلے انتخابی نشان مانگنے والے چودھری نثار کو وزیر اعظم بھی بنایا جاسکتا ہے ۔انکا جیپ ریلی کارواں کم و بیش سو کے قریب مہم بازوں پر مشتمل ہوگا ۔ اندازہ ہے کہ الیکشن ہونے کے بعد ناراض اور باغی لیگیوں کو ملا کر اقتدار کی جوسپر لیگ لڑی جائے گی اس میں جیپ کے مہم باز جوشیلے شب خون مارسکتے ہیں ۔انتخابات سے پہلے وہ جیپ پر بیعت کرچکے ہیں اور اسمبلی میں پہنچ گئے تو سب ایک جماعت بن جائیں گے اور جیپ والوں کی مرضی کے بغیر کوئی بھی وزیر اعظم اور صدر نہیں بن سکے گا ۔

سوشل میڈیا پر دہائی دی جارہی ہے کہ جیپ کا یہ نشان فوجیت کی علامت ہے ۔ اس نشان کے پیچھے آئی ایس آئی اور فوج کا ہاتھ دکھایا جارہا ہے ۔چند ایک روز سے سوشل میڈیا پر سرگرم ممتاز صحافیوں نے بھی اس تناظر میں جیپ کے ٹائر پنکچر کرنے کی بھرپور کوشش جاری رکھی ہوئی ہے اور باور کرایا جارہا ہے کہ یہ جیپ خلائی مخلوق کا انتخابی نشان ہے جو غیر اعلانیہ سیاسی جماعت بن کر پورے انتخابی عمل کو مینج کررہی ہے ۔اس پراپوگنڈے کو کس نے تحریک دی،مریم نواز شریف کے بیانئے نے اس کی تصویر واضح کردی ہے ۔

جیپ کا نشان چودھری نثاراور ضعیم قادری کی مانگ تھا مگر ن لیگ کے گیارہ امیدواروں نے شیر کا نشان واپس کرکے جیپ مانگ لی تھی جن میں سے چند ایک کے سوا باقیوں کو جیپ الاٹ کردی گئی ہے۔ آزاد انتخابات لڑنے والوں نے بھی 331 انتخابی نشانوں میں سے جیپ کو ترجیحاً اپنے لئے مانگ لیاہے ۔120سیاسی جماعتوں کو انکے مخصوص و مطلوب انتخابی نشانات مل چکے ہیں ۔ سیاسی جماعتوں اور اتحادوں کے مقابلے میں آزاد امیدوار کسی جماعت کا حصہ تو نہیں لیکن جیپ کے نشان نے انکو وحدت اور مرکزیت کی جانب دوڑادیا ہے ۔آزاد امیدواروں کا جیپ سے التفات اتفاقیہ تو نہیں ہوسکتا ،لازمی کوئی نہ کوئی مخلوق اسکے  پیچھےہوگی،بھلے سے وہ خلائی مخلوق ہی ہو،اب کہنے میں کیاہرج ہے۔ کہ اس بار الیکشن میں ایک غیر رجسٹرڈ جماعت بھی "رن آف الیکشن "میں " کچھ "  سکورمارے گی   ۔۔

۔۔

 نوٹ: روزنامہ پاکستان میں شائع ہونے والے بلاگز لکھاری کا ذاتی نقطہ نظر ہیں,ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

مزید : بلاگ