پاکستانی چاول کو افریقی مارکیٹ میں چین کی سخت مسابقت کا سامنا

پاکستانی چاول کو افریقی مارکیٹ میں چین کی سخت مسابقت کا سامنا

کراچی(کنامک رپورٹر)پاکستان اور چین کی بے مثال دوستی اور دونوں ممالک کے درمیان سی پیک جیسے عظیم منصوبے کے باوجود افریقی مارکیٹ میں پاکستانی نان باسمتی چاول کو چین کی جانب سے سخت مسابقت کا سامنا ہے۔تفصیلات کے مطابق افریقی مارکیٹ میں کینیا،مڈغاسکر،بینن اور گنی بسا پاکستانی نان باسمتی چاول کے بڑے خریدار میں شمار ہوتے ہیں،تاہم سال 2018 کے دوران مذکورہ افریقی ممالک میں پاکستانی نان باسمتی چاول کی بر آمدات میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے اور افریقی مارکیٹ میں پاکستانی نان باسمتی چاول کی بر آمدات میں کمی کی وجوہات کچھ اور نہیں بلکہ چینی نان باسمتی چاول ہیں جو کہ نسبتا کم نرخوں پر افریقی ممالک کو بر آمد کیے جارہے ہیں۔ چینی کسٹمز کے اعداد وشمار کے مطابق جنوری تا دسمبر 2018 کے دوران چین کے چاول کے بر آمدی حجم میں 299 فیصد کا حیرت انگیز اضافہ دیکھا گیا تھا،یونائیٹڈ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ آف ایگری کلچر(یو ایس ڈی اے)کا تخمینہ ہے کہ چین کی چاول کی بر آمدات 2017کی نسبت 2018میں تقریبا دگنی ہوچکی ہے۔ پاکستانی باسمتی چاول کی افریقی ممالک کو بر آمدات میں کمی کے باوجود پاکستان سے چین بر آمد کیے جانے والے چاول کے حجم میں اضافہ دیکھا گیا۔ مالی سال19کی دوسری سہ ماہی کے دوران پاکستان اور چین کی حکومتوں کے درمیان ہونے والے تجارتی مذاکرات میں چاول کی تجارت کے حوالے سے بھی معاملات زیر بحث آئے تھے۔دوسری جانب پاکستانی باسمتی چاول کی مشرق وسطی میں برآمدی شیئر میں کمی کے باوجود برطانیہ،اٹلی اور ہالینڈ جیسی بڑی یورپی منڈیوں میں بر آمدات میں اضافہ دیکھا گیا۔

مزید : کامرس