دہشت گردی کے خلاف فوج کی کامیاب حکمت ِ عملی

دہشت گردی کے خلاف فوج کی کامیاب حکمت ِ عملی
دہشت گردی کے خلاف فوج کی کامیاب حکمت ِ عملی

  


اگلے روز وزیراعظم اور آرمی چیف کے درمیان ملاقات ہوئی جس کے بعد وزیراعظم عمران خان نے ایک بیان دیا جس میں کہا گیاکہ یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ فوج اور حکومت ایک پیج پر ہیں۔ ماضی قریب میں بعض قومی اداروں میں ہم آہنگی کا فقدان تھا جو کسی بھی طور ملکی اور قومی مفاد کے حق میں نہیں تھا۔ جنرل قمر جاوید باجوہ نے 28نومبر 2016ء میں جب پاک فوج کے سربراہ کا منصب سنبھالا تو اس وقت وطن عزیز متعدد بحرانوں کا شکار تھا، جن میں دہشت گردی سر فہرست تھی، جبکہ سیاسی چپقلش، بلوچستان اور کراچی کی دگرگوں صورتِ حال اور اسی طرح کے دیگر کئی تشویشناک مسائل تھے،مگر جنرل باجوہ نے جہاں فوج کی صلاحیتوں اور کارکردگی میں اضافے اور بہتری کا عمل جاری رکھا وہاں انہوں نے جمہوری اقدار اور ملکی اداروں کے استحکام کے لئے بھی موثر کردار ادا کیا۔ہماری فوج کی وہ شبانہ روز کاوشیں اور قربانیاں تھیں،جن کے باعث دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہوا۔

اس حوالے سے اپریشن ”ردالفساد“ قابل ِ ذکر ہے، جس کے باعث ملک میں امن عامہ کی صورتِ حال بہت بہتر ہوئی، کھیلوں کی سرگرمیوں کا سلسلہ بھی شروع ہوا اور اب کھیلوں سے متعلق اداروں نے یہ اعلان کیا ہے کہ آئندہ پی سی ایل کے تمام کرکٹ میچز پاکستان میں کھیلے جائیں گے،اس اپریشن میں دہشت گردی کے خلاف جو نئی حکمت عملی اور نئی جہتیں متعارف کرائی گئیں وہ پہلے نہیں ہوئیں۔ اس اپریشن کے تحت خفیہ اداروں کی فراہم کردہ معلومات کی بنیاد پر اس کا دائرہ کار پختونخوا سے لے کر کراچی، صوبہ بلوچستان اور صوبہ پنجاب تک پھیلا دیا گیا، جس کے مثبت نتائج سامنے آئے۔ علاوہ ازیں ملک کی سرحدوں خصوصاً پاک افغان سرحد کو محفوظ بنانا بھی ہے جہاں فوج باڑ کی تنصیب میں مصروف عمل ہے،جہاں جدید تقاضوں سے ہم آہنگ سرحدی تحفظ کا انتظامی نظام قائم کیا جا رہا ہے۔

یہاں اِس امر کا اظہار بھی بے جا نہ ہو گا کہ ملک کو درپیش تشویشناک مسائل کے باوجود جنرل قمر جاوید باجوہ نے نئے سالانہ بجٹ میں فوج کے لئے کوئی اضافہ نہیں کیا، جس کا خود وزیراعظم عمران خان نے بھی اعتراف اور تعریف کی ہے۔ چند روز قبل نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں ملک کی بحرانی معاشی صورتِ حال کے پیش نظر آرمی چیف نے واضح طور پر کہا کہ ملک کی بحرانی معاشی صورتِ حال اور پاکستان کو درپیش اندرونی اور بیرونی مسائل کے پیش نظر عوامی نمائندوں سمیت ہر ایک کو حکومت کے مشکل فیصلوں میں اس کا ساتھ دینا چاہئے۔ یہاں اس بات کا اظہار کرنے میں ہمیں کوئی عار نہیں کہ پاک فوج کے موجودہ سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ جہاں ایک طرف پیشہ وارانہ صلاحیتوں کے حامل ہیں وہاں وہ جمہوری اداروں کے استحکام اورملک وقوم کی فلاح بہبود کے بھی سنجیدہ ہیں اور وہ وطن ِ عزیز کے لئے کی جانے والی ہر اس کوشش کے ساتھ مخلص ہیں جو پاکستان، پاکستانی قوم، جمہوریت اور ملکی استحکام کے لئے کی جائے۔

مزید : رائے /کالم