آخر رسم جفا کب تک؟

آخر رسم جفا کب تک؟
آخر رسم جفا کب تک؟

  



مسلمانوں میں جفا کی ایک عجیب رسم پائی گئی ہے۔ وہ لوگ جنہوں نے قوم کو بہت کچھ دیا اور ابھی مزید دے سکتے تھے، انہیں نہ صرف قید و بند سے گزارا گیا، بلکہ کئی ایک کو گناہِ بے گناہی میں موت کے گھاٹ اتار دیا جاتا رہا۔ کل ان میں طارق بن زیاد، موسیٰ بن نصیر اور محمد بن قاسم شامل تھے تو آج ذوالفقار علی بھٹو شہید اور مصر کے سابق صدر محمد مرسی کا نام لیا جا سکتا ہے۔ ان لوگوں کی ایک طویل فہرست ہے جو اپنوں کے ہاتھوں مارے گئے۔ آخر یہ چراغ کیوں بجھا دیئے جاتے رہے!

یہ سلسلہ ابھی تک تھما نہیں۔ رسم جفا پہلے کی طرح مختلف حیلے بہانوں سے جاری و ساری ہے۔ بعض لوگ میاں نوازشریف کی موجودہ ابتلا کو بھی اسی پس منظر میں دیکھتے ہیں۔ پوری زندگی قوم و ملک کی خدمت میں گزار دینے کا یہ صلہ؟ کہیں یہ ایٹمی دھماکے کا اجر تو نہیں؟ ایک کو آدھی رات پھانسی گھاٹ لے جایا گیا، دوسرے کو عبرت کی مثال بنایا جا رہا ہے۔ دیکھو، ملک و قوم کے لئے کوئی کچھ نہ کرے، نہیں تو دارو رسن یا قید تنہائی!

درست اور بجا، میاں نوازشریف کبھی انقلابی نہیں رہے۔

اے کاش! وہ انقلابی ہوتے! انہوں نے نہایت خاموشی سے ملک و قوم کی خدمت کی۔ بظاہر وہ تاجر تھے اور اقتدار کی راہداریوں میں بھی یہ داغ یا ”تمغہ“ سینے پر سجائے رکھا، مگر بباطن ان کی زندگی کا ایک ہی مقصد تھا اور وہ تھا ملک کو ناقابل تسخیر بنانا، سو بنا گئے۔ اگر ذوالفقار علی بھٹو شہید کے بعد کسی نے ملک کو کچھ دیا تو وہ صرف میاں نوازشریف ہیں۔کیا ان کے ساتھ یہ سلوک روا ہے؟

قوم کا محسن قسطوں میں مر رہا ہے۔ اسے سہج سہج عبرت کی مثال بنایا جا رہا ہے۔ آئندہ ملک کا مقدر سنوارنے کی کون آرزو اور جستجو کرے گا؟ نہیں یہ نہیں ہونا چاہیے تھا۔ کاش! یہ نہ ہوتا۔ آخر ہم کب تک رسم جفا نبھاتے جائیں گے؟ اور کیوں؟ہمیں یہ بات گہرائی اور گیرائی سے سوچنا چاہیے۔ آج نہیں تو کب؟

مزید : رائے /کالم