ضرورت اتحاد کی، کیفیت انتشار کی

ضرورت اتحاد کی، کیفیت انتشار کی
ضرورت اتحاد کی، کیفیت انتشار کی

  


نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی میں قومی معیشت کے بارے میں منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے فکر انگیز اور چشم کشا باتیں کی ہیں اس سیمینار میں قومی معاشیات کے شہ دماغ بھی موجود تھے۔ آرمی چیف نے جو باتیں کہیں وہ تاریخی اعتبار سے ثابت شدہ ہیں۔ وہ ثابت شدہ زمینی حقائق ہیں ہمیں معلوم ہے کہ قومی اتحاد ہی اقوام کی کامیابی کا ضامن ہوتا ہے،لیکن ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہم اس وقت تار تار ہیں۔ ہمارا قومی اتحاد پارہ پارہ ہے سیاستدان ایک دوسرے سے دست و گریبان ہیں حکمران اتحاد اور اپوزیشن ایک دوسرے سے گتھم گتھا ہیں۔ وہ ایک دوسرے کو سننے کے روادار نہیں۔ پارلیمانی روایات کا احترام یا پاسداری تو چھو ڑیں، عمومی اخلاقیات کی دھجیاں بکھری جا رہی ہیں۔ سرکاری ترجمانوں کی چھوڑی جانے والی پھلجھڑیاں شرمناک ہیں۔ سیاستدانوں کا اخلاق سے عاری انداز ِ گفتگو عام ہوگیا ہے۔ سرکاری اور غیر سرکاری ترجمان جس طرح کی زبان ایک دوسرے کے خلاف استعمال کر رہے ہیں کیا یہ انہیں زیب دیتی ہے کیا ہم اس طرح کے انداز ِ گفتگو کا اپنی نئی نسل کے سامنے دفاع کر سکتے ہیں۔

پارلیمانی جمہوریت کے بارے میں پہلے ہی ایک منفی رائے پائی جاتی ہے کہ یہ ہمارے قومی مسائل کے حل کے لئے تیر بہدف نہیں بن سکی ہے۔ جمہوریت کے مخالفین یہ پروپیگنڈہ کرتے ہیں کہ یہ نظام جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے مفادات کا تحفظ کرتا ہے۔ اشرافیہ کے حقوق کا نگران و محافظ ہے۔ عامتہ الناس جب دیکھتے ہیں کہ ان کے مسائل نہ صرف جوں کے توں ہیں، بلکہ ان میں اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اور سیاستدانوں کو لڑنے جھگڑنے سے ہی فرصت نہیں ہے تو اُن کا ایمان یعنی جمہوریت پر ایمان متزلزل ہونے لگتا ہے۔ لاریب اس وقت ہم بحیثیت قوم بحرانی کیفیت سے گزر رہے ہیں گزرے 10/15 سال سے دشمنوں نے ہمارے خلاف ففتھ جنریشن وا ر شروع کر رکھی ہے۔ یہ جنگ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے ہم پر مسلط کی جا چکی ہے۔ امریکہ افغانستان سے نکلنے کے لئے، محفوظ واپسی سے پہلے اس بات کو یقینی بنانا چاہتا ہے کہ افغانستان میں اس کے مفادات کی مخالف حکومت قائم نہ ہونے پائے۔یہاں جو بھی حاکم ہو حکمران ہو وہ امریکی حلیف اور دوست ہو، کیونکہ امریکہ پہلے ہی ایران پر اپنی دستر س کھو چکا ہے۔ایران کبھی امریکی سی آئی کا گڑھ ہوتاتھا۔

ون بیلٹ ون روڈ منصوبے کے ذریعے چین کی ایشیا یورپ اور افریقہ تک رسائی ممکن ہو گئی ہے۔ چین بلا شک و شبہ عالمی سپر طاقت کے منصب پر فائز ہونے جا رہا ہے۔ سفید انسان اور اقوام مغرب کی سائنسی، علمی، تحقیقاتی اور ثقافتی برتری کو چیلنج کر رہا ہے۔ صرف چیلنج ہی نہیں، بلکہ کئی جہتوں سے اپنی برتری ثابت بھی کر رہا ہے۔ ہواوے کی طرف سے 5-Gٹکنالوجی کا کمرشل لانچ اس سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے، جس کے بعد امریکہ نے چین کے خلاف تجارتی جنگ کا طبل بجا دیا تھا، لیکن بالآخر اسے یہ جنگ ختم کرنا پڑی، کیونکہ اس جنگ میں امریکہ کو اپنی جیت نظر نہیں آرہی تھی۔

خطے میں امریکہ کسی صورت بھی اپنی عالمی برتری سے دستبردار ہونے کو تیار نہیں ہے۔ اس نے افغانستان میں گزرے 18سالوں کی جنگ کے دوران کھربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ جنگی اخراجات برداشت کئے ہیں، یہ سب کیچھ اس لئے نہیں کیا ہے کہ اب وہ چپ چاپ یہاں سے بوریا بستر سمیٹ کر نکل جائے اور چین کو اپنے پاؤ ں پھیلانے دے۔ اس لئے پاکستان کے خلاف معاملات کو ہوا دی جا رہی ہے۔ انڈیا اس حوالے سے امریکیوں کا سڑیٹیجک پارٹنر بنا ہوا ہے امریکہ نے پہلے پاکستان پر دہشت گردی کی جنگ مسلط کئے رکھی، پھر ففتھ جنریشن وار کے ذریعے پاکستان کے اعصاب شل کرنے کی منصوبہ بندی پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کے حالات کو د یکھ کر لگتا ہے کہ وہ اپنے مذموم مقاصد میں کا میاب ہو رہا ہے۔

پاکستان میں پائی جانے والی قومی نا اتفاقی کیا اس بات کا واضح ثبوت نہیں ہے کہ دشمن کی چالیں کامیا ب ہو رہی ہیں اور ہم روز بروز کمزور ہوتے جا رہے ہیں۔ پاکستان پر عالمی مالیاتی وزری اداروں کا قبضہ یا یوں کہئے پاکستان کا اپنی معاشی بقاء کے لئے ایسے عالمی اداروں پر انحصار جن پر امریکہ کی بالادستی ہے مکمل طور پر امریکی حصار میں ہیں وہ جس طرح ہم سے شرائط منوا رہے ہیں۔ ہمیں قرضہ دینے کے لئے جو احکامات صادر کر رہے ہیں اور ان احکامات کو ماننے کے ہماری قومی معیشت اور معاشرت پر جو اثرات مرتب ہو رہے ہیں وہ سب کے سامنے ہیں۔ حا لات کسی خوشگوار مستقبل کی نشاندہی نہیں کر رہے ہیں۔ہم فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کے نشانے پر بھی ہیں۔ وہ ہمیں بلیک لسٹ کرنے پر تلی بیٹھی ہے۔ وہاں پر بھی پاکستان دشمن قوتوں کا اثرو رسوخ ہے۔ انڈیا دو مرتبہ اپنے تئین کوشش کر چکا ہے کہ ہمیں بلیک لسٹ کرادے، لیکن چین، ترکی اور ملا ئیشیاء جیسے دوست ممالک کی کاوشوں کے باعث ہم بلیک لسٹ ہونے سے بچ گئے ہیں،لیکن ہم کب تک ایسے چلتے رہیں گے۔ ہمیں اپنی راہ متعین کرنا ہو گی، اپنے اندر طاقت اور قوت پیدا کرنا ہوگی

چیف آف آرمی سٹاف نے اس حوالے سے معاشی استحکام کی اہمیت بھی بتائی ہے۔ معاشی استحکام پر زور بھی دیا ہے۔ ہم معاشی لحاظ سے انتہائی دگر گوں صورت حال کا شکار ہیں۔ 2018-19ء کے دوران قومی معیشت نے انتہائی پست کا ر کردگی کامظاہرہ کیا ہے،حتیٰ کہ ٹیکس وصولیوں کے نظر ثانی شدہ اہداف بھی حاصل نہیں ہو سکے ہیں۔ ماہرین 2019-20 ء کے دوران اور بھی مخدوش معاشی صورتحال کی پیشن گوئی کر رہے ہیں قدرِ زرمیں بے پناہ گراوٹ نے مہنگائی کا جن بوتل سے نکال باہر کر دیا ہے۔ دوسری طرف حکومت ٹیکس وصولیوں کے ٹارگٹس کو پورا کرنے کے لئے نہ صرف ٹیکس نیٹ بڑھانے کی کا وشیں کر رہی ہے، بلکہ ٹیکسوں کی شرح میں بھی بے تحاشہ اضافہ کر رہی ہے۔ عوام پر ٹیکسوں کا بوجھ ناقابل برداشت ہوتا نظر آ رہا ہے۔ معاشی سرگرمیاں سکڑتی چلی جا رہی ہیں۔ حکومتی پالسیوں کے باعث تاجروں ِ سرمایہ کاروں اور صنعت کاروں پر خوف و ہراس کی کیفیت طاری ہے۔ گردش زر میں کمی ہوتی چلی جارہی ہے۔

روزگار کے مواقع کم تر ہوتے چلے جارہے ہیں۔ غیرملکی سرمایہ کاری تو دور کی بات ہے ملکی سرمایہ کاروں نے بھی سرمایہ کاری سے ہاتھ روک لیا ہے۔ ٹیکسٹائل جو برآمدات میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ مکمل طور پر بربادی کی طرف جارہی ہے قومی معیشت کے دیگر سیکٹرز کا بھی ایسا ہی حال ہے۔ ضروریات زندگی کا حصول مشکل سے مشکل تر ہوتا جا رہا ہے۔ درآمدی اشیاء تو عام لوگوں کی پہنچ سے مکمل طور پر دور ہو گئی ہیں۔ چائے کی پتی تو اشیاء تعیش میں نہیں آتی، لیکن کیونکہ اس کی زیادہ تر طلب درآمدی چائے کی پتی سے پوری ہوتی ہے۔ اس لئے اس کی قیمت میں بے تحاشا اضافہ ہونے کی توقع ہے۔ کھانے کے تیل کی بھی زیادہ تر طلب، درآمدی تیل سے پوری کی جاتی ہے۔ اس لئے اس کی قیمت بھی بڑھنے لگی ہے۔ اس طرح عامتہ الناس کے لئے مشکلات بڑھتی ہوئی نظر آ رہی ہیں۔ اشیاء ضروریہ عوام کی پہنچ سے دور ہوتی چلی جا رہی ہیں۔

ہماری معیشت بلاشبہ ابتر حالت میں ہے عالمی و داخلی قرضوں کا بوجھ یقینا ناقابلِ برداشت ہو چکا ہے۔ ٹیکس وصولیوں کا نصف سے بھی زیادہ قرضوں کی ادائیگی پر اٹھ جا تا ہے۔ دفاعی اخراجات کا تعلق ہماری قومی سلامتی سے ہے۔ ان کے بارے میں کمی بیشی کا سوچنا بھی حماقت ہو گی۔ اس کے بعد ہمارے پاس بچتا بھی کیا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم کو اعتماد میں لیا جائے،قوم کے جذبہ قومی کو ابھارا جائے۔ ایک ہمہ گیر مہم کے ذریعے رقوم اکٹھی کی جائیں، تا کہ قرضوں کی ادائیگی کی سبیل پیدا ہو۔ ہماری تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے کہ قوم نے شاندار قربانیوں کے ذریعے ملکی سلامتی میں اپنا کردار ادا کیا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ قوم کو آمادہ پیکار کیا جائے۔ یہ فرض قومی قیادت کو سرانجام دینا ہو گا۔ہاں قومی یکجہتی وقت کی اہم ترین ضرورت ہے اور یہ کا م ہماری قومی قیادت کو کرناہوگا۔ اختلاف کو بھلا کر وقت کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے قومی اتحاد کی فضا پیدا کی جانی چاہئے۔ اور یہ کام کرنا حکمران جماعت کے ذمے ہے۔

مزید : رائے /کالم