تارکین وطن کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہماری ذمہ داری ،چیف جسٹس ہائیکورٹ

  تارکین وطن کے مسائل ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہماری ذمہ داری ،چیف جسٹس ...

لاہور(نامہ نگارخصوصی)چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سردارمحمد شمیم خان نے لاہور ہائی کورٹ کی ویب ساءٹ پر بنائے گئے اوورسیز پاکستانیز سیل کے پورٹل کا افتتاح کردیا،پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں اوورسیز پاکستانیوں کے حقوق کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس سردار محمد شمیم خان نے کہا کہ تارکین وطن پاکستانی ہمارا بہت بڑا اثاثہ ہیں ، 76 لاکھ کے قریب تارکین وطن (بقیہ نمبر35صفحہ7پر )

پاکستانی مختلف ممالک میں دن رات محنت کرکے پاکستان کا نام روشن کررہے ہیں اور اربوں ڈالر کا زرمبادلہ پاکستان بھیج رہے ہیں اور اس ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کررہے ہیں لہٰذا ہم اپنے تارکین وطن بھائیوں سے کہتے ہیں کہ وہ کبھی یہ نہ سمجھیں کہ وہ ملک سے دور ہیں تو بنیادی حقوق سے بھی محروم ہیں بلکہ ہم پاکستان میں ان کے تمام بنیادی حقوق کے محافظ ہیں ۔ ان کے تمام معاملات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنا ہماری ذمہ داری ہے جس کےلئے بہت سے اقدامات اٹھائے جاچکے ہیں اور آئندہ بھی آٹھائے جاتے رہیں گے ۔ ہم عدلیہ کا ادارہ یقین دلاتے ہیں کہ کسی بھی پاکستانی خصوصا تارکین وطن پاکستانیوں کے ساتھ کوئی بھی نا انصافی نہیں ہوگی ۔ چیف جسٹس نے کہا کہ ہمارا کام قانون کی عملداری اور ہر پاکستانی کے بنیادی حقوق کا تحفظ یقینی بنانا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے محسوس کیا کہ بیرون ممالک میں رہنے والے پاکستانیوں کو ہماری خاص توجہ کی ضرورت ہے ۔ بہت سے تارکین وطن پاکستان میں سرمایہ کاری کرنے سے ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کے ساتھ کوئی فراڈ یا دھوکا نہ ہوجائے اور وہ ساری زندگی مقدمہ بازی میں پھنسے رہیں گے ۔ ہم نے دیکھا کہ اوورسیز پاکستانیوں کے ایسے بہت سارے مقدمات کی تعداد پنجاب کی مختلف عدالتوں میں زیرالتواء ہے ۔ اس لئے پاکستان کی ترقی میں اپنا کردار ادا کرنے والے تارکین وطن پاکستانیوں کے مسائل کو ہم نے اپنے مسائل سمجھتے ہوئے ان کی سہولیات کےلئے مختلف اقدامات کئے ہیں ۔ لاہور ہائی کورٹ میں اوورسیز پاکستانی سیل قائم کیا گیا ہے جو ایک ڈائریکٹر کے ماتحت کام کرے گا ۔ سیل اوورسیز پاکستانیوں سے متعلق مقدمات کے جلد فیصلوں کےلئے عملی اقدامات کرے گا اور اوورسیز پاکستانیوں کی جانب سے موصول شکایات پر بھی کام کرے گا ۔ اوورسیز پاکستانی ہمارے بھائی ہیں ، ان کو ہر ممکن سہولیات کی فراہمی پاکستانی حکومت اور ہمارا فرض ہے ۔ قبل ازیں گورنر پنجاب چودھری محمد سرور نے سمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم اوورسیز پاکستانیوں کے پاکستان کی ترقی میں کردار کو کبھی فراموش نہیں کرسکتے ۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت اوورسیز پاکستانیوں کی بہتری اور انکو سہولیات کی فراہمی کےلئے ہر لمحہ کوشاں ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ انہیں یہ جان کر بہت خوشی ہوئی ہے کہ لاہور ہائی کورٹ میں اوورسیز پاکستانیوں کے مسائل کے حل کے لئے ایک خصوصی سیل اور مقدمات کو جلد نمٹانے کےلئے خصوصی بنچ قائم کیا گیا ہے اس سے ہمارے تارکین وطن بھائی بہت استفادہ حاصل کرسکیں گے ۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ انہوں نے گزشتہ 40 سال سے اس بات پر زور دے رہا تھا کہ اوورسیز پاکستانی ہمارا اثاثہ ہیں جو 20 ارب ڈالر تک کا زرمبادلہ ہ میں بھیجتے ہیں ۔ گورنر پنجاب نے چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سردار محمد شمیم خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ فاضل چیف جسٹس نے تارکین وطن پاکستانیوں کے دل کی آواز کو سنا اور ان کےلئے خصوصی اقدامات کئے جس پر 76 لاکھ اوورسیز پاکستانی اور حکومت فاضل چیف جسٹس کی تہہ دل سے مشکور ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ اب ہمارے تارکین وطن بالکل بے فکر اوربے خوف ہوکر بیرون ممالک کام کریں گے، زرمبادلہ بھیجیں گے اور پاکستان میں سرمایہ کاری کریں کیونکہ اب کوئی بھی تارکین وطن پاکستانیوں کے ساتھ نا انصافی نہیں کرسکتا ۔ گورنر پنجاب نے کہا کہ ہمارے پاس بہت متحرک جوڈیشری موجود ہے جن کے میرٹ پر مبنی فیصلوں سے لوگوں کو بروقت انصاف مہیا کیا جارہا ہے ۔ اس سارے پراسیس میں جسٹس جواد حسن اور رجسٹرار چودھری ہمایوں امتیاز کا کردار بھی بہت اہم اور قابل تحسین ہے ۔ سیمینار سے لاہور ہائی کورٹ کے مسٹرجسٹس جواد حسن، ایڈووکیٹ جنرل پنجاب جمال سکھیرا، جسٹس ریٹائرڈ علی اکبر قریشی، ڈائریکٹر اوورسیز پاکستانیز کمپلینٹ سیل لاہور ہائی کورٹ خالد سعید وٹو، ایڈیشنل رجسٹرار آئی ٹی جمال احمد، وائس چیئرمین اوورسیز پاکستانیز کمیشن وسیم اختر، کمشنر او پی سی پنجاب سید جاوید اقبال بخاری اور ڈی جی او پی سی پنجاب نے بھی مختلف موضوعات اور اوورسیز پاکستانیوں کے حقوق اور تحفظ کےلئے کئے جانے اقدامات پر اپنے خیالات کا اظہار کیا ۔ مقررین کا کہنا تھا کہ تارکین وطن کی ایک کثیر تعداد دن رات مختلف ممالک میں خدمات سرانجام دے رہے ہیں جن میں سے 60 لاکھ کے قریب پنجاب سے تعلق رکھتے ہیں ۔ مقررین نے کہا کہ پاکستانی تارکین وطن نے گزشتہ مالی سال کے دوران 18 ارب ڈالر کے قریب خطیر زرمبادلہ پاکستان بھیجا جس سے ہمارے ملک کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ کم کرنے میں مدد ملتی ہے ۔ اوورسیز پاکستانیوں کے حقوق کا تحفظ اور انکو درپیش مشکلات کا ازالہ ہمارا فرض ہے ۔ جسٹس جواد حسن نے کہا کہ ہم اوورسیز پاکستانیوں کے مقدمات کو جلد اور میرٹ پر حل کریں گے، ہمارا کام فیصلے کرنا ہے اور ہم اپنی یہ ذمہ داری مکمل ایمانداری سے پوری کریں گے، بیرون ممالک دوروں کی صورت میں اوورسیز پاکستانیز کمیشن سے ایک پیسہ بھی خرچ نہیں کریں گے، اگر کبھی بھی اس حوالے سے بیرون ملک دورہ کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی تو تمام اخراجات اپنی جیب سے ادا کریں گے ۔ قبل ازیں ایڈیشنل رجسٹرار خالد سعید وٹو نے کہا کہ چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سردار محمد شمیم خان نے اوورسیز پاکستانیوں کے مقدمات کے جلد فیصلوں کےلئے مختلف اقدامات کئے ہیں ، لاہور ہائی کورٹ میں خصوصی بنچ قائم کیا جارہا ہے اور اووسیز پاکستانیوں کے مقدمات سے متعلق شکایات کےلئے ایک مکمل فعال شکایات سیل بھی قائم کیاجارہا ہے تاکہ تارکین وطن پاکستانیوں کو ہرممکن سہولت اور مدد ممکن بنائی جاسکے ۔ بعدازاں چیف جسٹس نے کامیاب سیمینار منعقد کروانے پر انتظامیہ کو مبارکباد پیش کی ،انہیں یادگاری شیلڈز بھی پیش کی گئیں ۔

چیف جسٹس ہائیکورٹ

مزید : ملتان صفحہ آخر