کچھ نہیں بدلا،سب جوں کا توں،منیجرز بھی بونے،کچھ نہیں سمجھتے!

کچھ نہیں بدلا،سب جوں کا توں،منیجرز بھی بونے،کچھ نہیں سمجھتے!

ملتان کی سیاسی ڈائری

شوکت اشفاق

پاکستان کی سیاسی تاریخ میں کچھ بھی تو نہیں بدلا سب کچھ پہلے ہی کی طرح ہو رہا ہے کاش کوئی ایسی قیادت یہاں پیدا ہو جو تاریخ سے سبق سیکھے عقل و شعور حقیقی قانون کی بالادستی اور آئین پر عمل پیرا ہونے کو ترجیح دے مگر یہاں عمل درآمد کروانے والے ”منیجرز“ بھی ذہنی طور پر اتنے پست اور بونے ہیں کہ انہیں اپنی ناک سے آگے کچھ نظر ہی نہیں آتا باتیں سن لیں تو یہ اپنے آپ کو نیلسن منڈیلا اور چی گویرا اور اس سے بھی بڑھ کر خلفائے راشدین کی پیروی کرتے نظر آتے ہیں لیکن حرام ہے کہ عوام کے حقوق کی بات کریں انہیں بیدار کرنے کا جذبہ پیدا کریں انہیں تو بس مخالف کی دیوار گرانا ہی مقصود ہے چاہے اس میں اپنا مکان ہی کیوں نہ زمین بوس ہو جائے، فلور کراسنگ قانون کی موجودگی میں لوٹا کریسی کو ایک مرتبہ پھر زندہ کر دیا گیا ہے حالانکہ اس سے قبل تقریباً چھ ماہ سے قومی مسلم لیگ کے قیام کے لئے کوششیں کی جا رہی تھیں جن کے محرک انتہائی سینئر سیاستدان تھے نہیں بلکہ ہیں جو موجودہ حکومت کے خلاف بھر پور کام کر رہے ہیں بلکہ ”حمایت“ کا پیغام بھی پہنچا رہے ہیں یہ بھی واضع ہے کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے لیکن جہانگیر ترین کے اچانک سیاست میں متحرک ہونے کی وجہ سے ان کو اپوزیشن کی جماعتوں خصوصاً مسلم لیگ ن کے ارکان صوبائی و قومی اسمبلی کو توڑنے اور انہیں تحریک انصاف کی حکومت کی حمایت آمادہ کرنے کا ٹاسک حاصل ہے وہ ایک حد تک کامیاب بھی نظر آتے ہیں کیونکہ ان کے ”ایگزیکٹو جہاز‘ کی سواریوں میں متعدد ن لیگی ایم این اے اور ایم پی ایز شامل ہو رہے ہیں خصوصاً جن کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے اور ان میں کچھ کو وہ وزیراعظم عمران خان سے بنی گالہ میں ملاقات کرانے میں کامیاب بھی رہے ہیں مگر گوجرانوالہ اور شرق پور کے ایک ایک ایم پی اے کے سوا تمام نے تردید کر دی ہے خصوصاً خانیوال اور جہانیاں سے ایم پی ایز نے ضرور کی ہے لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ ہر دو حضرات نہ صرف ”جہاز“ کی سواریاں ہیں بلکہ ان میں ایک تو جہانگیر ترین کے کچھ کاروبار میں شراکت داری بھی کر چکے ہیں لیکن بات یہ بھی نہیں ہے حقیقیت تو یہ ہے جو ن لیگ میں فارورڈ بلاک بنانے جا رہے ہیں انہیں شاید معلوم ہے کہ ان کی اپنی تحریک انصاف میں اب تک کتنی دراڑیں پڑ چکی ہیں ارکان اسمبلی اپنے حلقوں میں جانے سے خوف زدہ ہو رہے ہیں معاشی افراتفری کے باعث خود بھی پریشان ہیں ترقیاتی فنڈز مل نہیں رہے جو مل رہے ہیں ان سے حلق بھی تر نہیں ہو پار رہا آئے روز کے حکومتی بلنڈرز پر پریشان ہیں مستقبل تاریک نظر آتا ہے کیونکہ حکومت نے جو معاشی منیجرز رکھے ہیں وہ کھلم کھلا کہہ رہے ہیں کہ آئندہ پانچ سالوں تک بھی معاشی حالات بہتر ہونے کی کوئی توقع نہیں ہے لیکن وزیراعظم عمران خان اور ان کی کابینہ معلوم نہیں کن معلومات کی بنا پر کہہ رہی ہے کہ حالات بہتر ہونے شروع ہو گئے ہیں 65فیصد فی ڈالر روپے کو کمزور کر کے 20پیسے کم ہونے پر ٹویٹ لگا دیتے ہیں ایسی صورت میں کیا تحریک انصاف سمجھتی ہے کہ ان کے ساتھ جڑے ”سیاسی پنچھی“ آئندہ انتخابات میں کیا منہ لے کر ووٹرز کے پاس جائیں گے؟ لہٰذا ن لیگ سمیت دوسری سیاسی جماعتوں کے ارکان کو توڑنے کی بجائے اگر اپنے ارکان اسمبلی کو ”جڑا“ رکھنے کی کاوش کر لی جائے تو سیاسی بچت کی امید ہے ورنہ یہ بھی خیال ہے کہ ایم کیو ایم مسلم لیگ ق اور دوسری ٹانگہ سیاسی جماعتوں کے جن کندھوں پر سوار ہو کر حکومت سازی کی ہے وہ حکومت کی ان حرکتوں سے اپنا کندھا واپس بھی لے سکتی ہیں احتساب کو قانون کے مطابق رکھیں لوٹے بنانے کیلئے استعمال نہ کریں اگر یہ مزید وسیع اور ہمہ گیر ہو گیا تو اس کی بیٹ بھی بڑی وسیع ہے جس طرح آگ لگتی ہے تو چاروں طرف پھیلتی ہے اور تباہی پھیلاتی ہے کیونکہ اس کی آنکھیں نہیں ہوتیں آپ کو اس پر توجہ کرنی چاہیے۔

تحریک انصاف میں شامل تاجر رہنماء خواجہ سلمان صدیقی نے ملتان میں جو تاجر کنونشن کروایا ہے اس میں ملک بھر سے نمائندہ تاجر شامل ہوئے ہیں اس کنونشن میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی اور قومی اسمبلی میں چیف وہپ ملک عامر ڈوگر بھی شریک تھے ان کی موجودگی میں تاجروں نے واضح پیغام دیا ہے کہ ٹیکسوں کا ظالمانہ نفاذ واپس نہ لیا گیا تو ایک ہفتے بعد پورے ملک میں شٹر ڈاؤن کر دیا جائے گا اس کنونشن میں شریک تاجروں نے وفاقی وزیر کی اس بات پر بالکل توجہ نہیں دی جو انہوں نے بجٹ کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہی اسی طرح تاجروں کا وفد ایف بی آر کے دفاتر اور اسلام آباد میں بھی دھرنے کا اعلان کر چکا ہے جبکہ ایپٹما نے تمام سنیگ یونٹ شڈ ڈاؤن کر دیئے ہیں فیصل آباد انڈسٹری آدھی پہلے بند تھی اب مزید آدھی بھی بند ہو رہی ہے ملتان میں یہی صورت حال ہے اس لیے حکومت کو باتیں کرنے کی بجائے ”پولیٹکل اکنامکس“ پر توجہ کرنی چاہیے ورنہ تو شیشہ دیوار پر بہت ہی آسان الفاظ میں سب کچھ لکھا نظر آ رہا ہے۔

ملتان کے لئے یہ جون انتہائی بھاری رہا ہے جب یہاں 22سے زیادہ انسان نا حق قتل کر دئیے گئے جس میں معصوم بچے بھی شامل تھے جلالپور پیر والا سے شروع ہونے والا یہ سلسلہ ملتان میں نو افراد کے قتل پر مشتمل ہے جس میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں پولیس اس حوالے سے انتہائی روایتی سست روی سے کام کر رہی ہے گو کہ سی پی او ملتان کو تبدیل کر دیا گیا ہے مگر کیا صرف یہی کافی ہے ہونا تو یہ چاہیے کہ ان محرکات کو سامنے لایا جائے جو ایسے قتل کی وجہ بنے اور پھر ملزموں کو فوری انصاف کی عدالت میں پیش کر کے مقدمات کا فیصلہ جلد از جلد کروایا جائے تا کہ مجرموں کو سزا ہو اور آئندہ کوئی قانون کو اس حد تک ہاتھ میں لینے کی کوشش نہ کریں۔

مزید : ایڈیشن 1