پاکستان روس کیساتھ پارلیمانی سفارتی،تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کا خواہاں،اسد قیصر

    پاکستان روس کیساتھ پارلیمانی سفارتی،تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کا ...

ماسکو(آئی این پی)پاکستان اور روس نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے مشترکہ اعلیٰ سطحی کمیشن بنانے پر اتفاق کیا ہے۔سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرنے کہا ہے کہ پاکستان روس کے ساتھ اپنے پارلیمانی، سفارتی، تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے،،سٹیٹ ڈوما کے چیئرمین نے مشترکہ اعلی سطحی کمیشن کو تشکیل دینے کے حوالے سے دی گئی تجویز کا خیر مقدم کیا  ہے،خطے اور عالمی امن کے فروغ،سماجی و معاشی اور افرادی قوت کی ترقی کے لیے پارلیمانی کانفرنسز کے باقاعدگی سے انعقاد کی تجویز دی ہے۔منگل کوماسکو میں منعقدہ پارلیمانی نظام کی ترقی کے موضوع پر ہونے والی کانفرنس کے موقع پر اسٹیٹ ڈوما کے چیئر مین ولودین وائیا کی سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر سے ملاقات ہوئی،ملاقات میں دوطرفہ تعلقات،خطے کی ترقی سمیت دیگر باہمی دلچسپی کے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ سپیکر قومی اسمبلی اور روس کی پارلیمنٹ سٹیٹ ڈوما کے چیئرمین نے دوطرفہ تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ دینے کیلئے مشترکہ اعلی سطحی کمیشن بنانے پر اتفاق کیا۔اس موقع پر سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصرنے کہا کہ پاکستان روس کے ساتھ اپنے پارلیمانی، سفارتی، تجارتی تعلقات کو مزید فروغ دینے کا خواہاں ہے، پاکستان اور روس کے مابین اقتصادی اور سرمایہ کاری کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ پارلیمانی کمیشن بنانے کی تجویز دی ہے، موجودہ حکومت کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں کی بدولت سرمایہ کاری کے مواقعوں میں اضافہ ہوا ہے جن سے روس کے سرمایہ کارمستفید ہوسکتے ہیں۔انہوں نے کہا کہسٹیٹ ڈوما کے چیئرمین نے مشترکہ اعلی سطحی کمیشن کو تشکیل دینے کے حوالے سے دی گئی تجویز کا خیر مقدم کیا ہے۔اسٹیٹ ڈوما کے چیئر مین نے اس کو حتمی شکل دینے کے لیے دوطرفہ مذاکرات کی ضرورت پر زور دیا،خطے اور عالمی امن کے فروغ،سماجی و معاشی اور افرادی قوت کی ترقی کے لیے پارلیمانی کانفرنسز کے باقاعدگی سے انعقاد کی تجویز دی ہے، پاکستان میں صنعتی ترقی کے لیے روس کے تعاون سے قائم کی جانے والی سٹیل مل ملکی ترقی میں اہم کردار ادا کر رہی ہے،تجارت، سرمایہ کاری، فضائی سیکورٹی، دفاع، ثقافت اور تعلیم کے شعبوں میں دونوں ممالک میں تعاون کو فروغ دینے کی ضرورت ہے۔

اسد قیصر

مزید : صفحہ آخر