سندھ اسمبلی ،پیپلز پارٹی میں فارورڈ بلاک کے قیام کی کوششیں تیز

    سندھ اسمبلی ،پیپلز پارٹی میں فارورڈ بلاک کے قیام کی کوششیں تیز

کراچی (این این آئی) پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری اور فریال تالپور کی گرفتاری اور وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی گرفتاری کے پیش نظر سندھ اسمبلی میں پیپلزپارٹی کے فارورڈ بلاک کے قیام کیلئے کوششیں تیز کردی گئی ہیں ۔ نصف درجن ارکان سندھ اسمبلی کے فارورڈ بلاک بنانے کیلئے متحرک ہونے کی خبروں کے بعد پارٹی قیادت نے ان ارکان کےخلاف سخت کارروائی کا عندیہ دیا ہے جبکہ سندھ کابینہ میں بھی آئندہ چند روز میں تبدیلیوں کا امکان ہے ۔ انتہائی باخبر ذراءع کے مطابق پیپلزپارٹی میں فارورڈ بلاک کے قیام کیلئے سات سے آٹھ ارکان متحرک ہوگئے ہیں ،یہ ارکان پیپلزپارٹی کے بعض رہنماؤں کے ذریعے دیگر ارکان سندھ اسمبلی کے ساتھ بھی رابطے کررہے تھے ۔ پیپلزپارٹی کے ان ارکان کے مختلف سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کے ساتھ بھی رابطے تھے ۔ ذراءع کے مطابق آئندہ چند روز میں گروپ بندی میں ملوث پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کےخلاف کارروائی کا امکان ہے جبکہ سندھ کابینہ میں بھی ردوبدل کیا جاسکتا ہے ۔ بعض وزراء کے محکمے تبدیل اور کچھ سے واپس لے لیے جائیں گے ۔ ادھر بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال کے پیش نظر پیپلزپارٹی کے مرکزی رہنماؤں اور ارکان قومی اسمبلی کے رابطوں میں بھی تیزی آگئی ہے ۔ پیپلزپارٹی کے رہنماؤں اور ارکان قومی اسمبلی منگل کو سندھ اسمبلی پہنچے جہاں انہوں نے فریال تالپور سے ملاقات کی ہے ۔ ذراءع کا کہنا ہے کہ سینئر صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ کے استعفیٰ کے بعد پیپلزپارٹی کے حلقوں میں شدید بے چینی پائی جاتی ہے اور وہ یہ بات تسلیم کرنے کو تیار نہیں ہیں کہ ناصر حسین شاہ نے محض گھوٹکی کے ضمنی انتخاب کی وجہ سے وزارت سے استعفیٰ دیا ہے ۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ سید مرا د علی شاہ کی ممکنہ گرفتاری کی صورت میں سید ناصر حسین شاہ کا نام سندھ کے آئندہ وزیراعلیٰ کے طور پر بھی لیا جارہا تھا تاہم ان کے اچانک استعفیٰ نے پیپلزپارٹی کے رہنماؤں کو حیران کردیا ہے ۔ ذراءع کے مطابق سندھ کی سیاست میں آئندہ چند روز انتہائی اہمیت کے حامل ہیں ۔ اس دوران انتہائی اہم تبدیلیاں رونما ہوسکتی ہیں ۔

سندھ ،فارورڈ بلاک

مزید : صفحہ آخر