سپریم کورٹ وضاحت کر چکی، مجرم کو سزا کاٹنے کے باوجود بھی جرمانہ ادا کرنا ہو گا: چیف جسٹس

سپریم کورٹ وضاحت کر چکی، مجرم کو سزا کاٹنے کے باوجود بھی جرمانہ ادا کرنا ہو ...

اسلام آباد(آن لائن) سپریم کورٹ میں سابق کیشئر ڈی سی آفس محمد کلیم بھٹی کی جرمانے کے بدلے سزا کاٹنے سے متعلق کیس کی سماعت،عدالت نے مجرم محمد کلیم کو ڈیڑھ کروڑ جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے قرار دیا کہ سزا کاٹنے کے باوجود جرمانہ ہر صورت ادا کرنا ہو گا،جرمانہ نہ ادا کرنے پر جو سزا کاٹی جاتی ہے وہ جرمانہ ادا نہ کرنے کے جرم میں ہوتی ہے،ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کو مدنظر نہیں رکھا،سپریم کورٹ اپنے فیصلے واضع کر چکی ہے کہ جرمانہ ہر صورت ادا کرنا ہوتا ہے۔ کیس کی سماعت چیف جسٹس کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی دوران سماعت ملزم محمد کلیم بھٹی نے عدالت کو بتایا کہ میں نے جرمانہ کے بدلے 2 سال قید کاٹی،ہائی کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا کہ آپ سزا کاٹ چکے اب جرمانہ ادا نہیں کرنا پڑے گا۔چیف جسٹس نے اس موقع پر ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ نے سپریم کورٹ کا فیصلہ نہیں دیکھا سپریم کورٹ اپنے فیصلے میں اس کی وضاحت کر چکی ہے۔عدالت نے ملزم محمد کلیم کا ڈیڑھ کروڑ روپے جرمانہ کی رقم ادا کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملہ نمٹا دیا ہے۔سپریم کورٹ میں فیصل آباد کے رہائشی علی حسن کی درخواست ضمانت پر سماعت کے دوران جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر جعلی اسلحہ اورڈرائیونگ لائسنس بننے لگ گئے تو لوگ سڑکوں پر مرنا شروع ہو جائیں گے،6 ماہ گزر گئے ابھی تک چالان کیوں جمع نہیں ہو۔ سرکاری وکیل نے اس موقع پر عدالت کو بتایا کہ علی حسن کی گاڑی سے 45 جعلی اسلحہ لائسنس برآمد ہوئے،دوران تفتیش 20 مزید جعلی لائسنس ملے۔ملزم کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جس کیس میں سزا 10 سال سے کم ہو اس میں ضمانت مل جاتی ہے۔تفتیشی افسر نے عدالت کو بتایا کہ ڈی سی صاحب سے ریکارڈ لینا ہے تاحال ہمیں نہیں دیا گیاعدالت نے ڈی سی فیصل آباد کو طلبی کا نوٹس جاری کرتے ہوئے معاملہ کی سماعت ایک دن کے لئے ملتوی کر دی۔

چیف جسٹس/سپریم کورٹ

مزید : صفحہ اول