کینسر کے علاج کے حوالے سے سہولیات کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں: وزیر اعلٰی سندھ 

کینسر کے علاج کے حوالے سے سہولیات کی فراہمی کیلئے کوشاں ہیں: وزیر اعلٰی سندھ 

کراچی(اسٹاف رپورٹر)وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا ہے کہ کینسر کے مریضوں کا علاج بہت زیادہ مہنگا اور  نجی شعبے میں  غریب مریضوں کے  استطاعت  سے باہر ہے، لہذا ان کی حکومت  سرکاری سطح پر کینسر  کے علاج کے حوالے سے سہولیات کے قیام کے لیے کوشاں ہے اور  ویلفیئر اداروں کے طورپر چلنے والے  اسپتالوں میں علاج معالجے کے اخراجات کو  سبسیڈائز بھی کرے گی۔انہوں نے یہ بات منگل کو کینسر فاؤنڈیشن  کے وفدجس کی سربراہی چیئرمین مقصود انصاری کررہے تھے سے باتیں کرتے ہوئے کہی۔ وفد   کے دیگر اراکین میں انجینئر حاجی ناظم، سرجن عابد جمال شامل تھے۔ وزیراعلی سندھ کے پرنسپل سیکریٹری ساجد جمال ابڑو  اور سیکریٹری صحت سعید اعوان  نے بھی اجلاس میں شرکت کی۔ وزیراعلی سندھ کو اس موقع پر آگاہی دی  گئی کہ کراچی میں 40 ریڈیئیشن مشینز کی منظوری دی گئی ہے۔ مزیر بریفنگ میں بتایا گیا کہ کرن اسپتال میں کینسر کے مریض ریڈیشن کیلئے 2 ماہ کے انتظار پر ہوتے ہیں۔  وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت پی پی پی موڈ یعنی مخیر حضرات کے ذریعے ریڈیئیشن مشین خریدنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت مددکرے گی تاکہ 12 لاکھ خرچے والی کینسر کے مریضوں کا علاج سبسیڈائز  کر کے 2 لاکھ تک ہوجائے۔ وزیراعلی سندھ کو آگاہی دی گئی کہ ریڈیئیشن کا خرچہ خانگی اسپتال میں 7000 روپے کا خرچہ ہے جو سبسیڈائز کر کے 1000 تک کرنا چاہتے ہیں۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ بی ایم ٹی  مشین کی تنصیب  غریب مریضوں کے لیے  بہت اچھا ہے جو زبردست سروس دے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے جس طرح دل کے علاج کا بہتر کام کیا ہے اس طرح کینسر کے مریضوں کیلئے بھی کرنا چاہتے ہیں۔  وزیراعلی سندھ نے سیکریٹری صحت، کینسر فاؤنڈیشن کے چیئرمین کو ہدایت دی کہ سیکریٹری فنانس کے ساتھ میٹنگ کر کے مالی مدد کو یقینی بنایا جائے۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ  ہم مالی مشکلات کا شکار ہیں لیکن انسانیت کی خدمت کیلئے بھرپور اقدامات اٹھائیں گے۔ 

مزید : صفحہ اول