پشاور کی ترقی اور خوبصورتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا: محمود خان 

پشاور کی ترقی اور خوبصورتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائیگا: محمود خان 

پشاور(سٹاف  رپورٹر)وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمود خان نے کہا ہے کہ صوبائی حکومت پشاور کی ترقی و خوبصورتی پر خصوصی توجہ دے رہی ہے۔ اس مقصد کیلئے پشاور اپ لفٹ پروگرام کے تحت خطیر وسائل رکھے گئے ہیں۔اْنہوں نے کہا ہے کہ پشاور صوبے کا دارالحکومت ہونے کی وجہ سے خصوصی توجہ اور اہمیت کا حامل ہے۔ پشاور کی ترقی و خوبصورتی رواں مالی سال کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے پشاور میں انفراسٹرکچر کی بہتری جبکہ شہریوں کو درپیش مسائل کے حل کیلئے جامع پلان کو جلد حتمی شکل دینے کی ہدایت کی ہے۔ وہ وزیراعلیٰ ہاؤس پشاور میں پشاور اپ لفٹ پروگرام کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے۔ اجلاس میں پشاور میں جاری ترقیاتی سکیموں اور فلاحی سرگرمیوں کا جائزہ لیا گیا۔ وزیراعلیٰ نے کہاکہ پشاور کی مجموعی ترقی اور خوشحالی کیلئے خصوصی منصوبہ بندی کی جائے گی۔ پشاور اپ لفٹ پروگرام کے تحت خطیر وسائل خرچ کئے جائیں گے۔ انہوں نے کہاکہ پشاور کی ترقی اور خوبصورتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔ اْ نہوں نے زیر تعمیر بس ریپیڈ ٹرانزٹ منصوبے کی معیاری تکمیل یقینی بنانے کی ہدایت کی اور کہا کہ یہ منصوبہ نہ صرف ٹریفک کا کل وقتی حل فراہم کرے گا بلکہ یہ پشاور کی مجموعی خوبصورتی میں بھی اضافے کا موجب ہوگا۔ انہوں نے ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کیلئے بھی موثر اقدامات کی ہدایت کی ہے۔ محمود خان نے کہاکہ رواں مالی سال کے دوران سرکلر ریلوے پراجیکٹ کی فزیبلٹی مکمل کی جائے گی۔ یہ منصوبہ پشاور، نوشہرہ، چارسدہ، مردان اور صوابی کو باہم منسلک کردے گا۔ جس سے عوام کو سفر کی تیز رفتار اور سستی سہولت سے مستفید ہوں گے۔ وزیراعلیٰ کا کہنا تھا کہ پشاور شہر میں موجودہ پارکس اور دیگر تفریحی مقامات کی بحالی ممکن بنائی جائے گی جبکہ شہر کے انفراسٹرکچر کی بہتری کو خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔ پشاور شہر پورے صوبے کے عوام کا مشترکہ شہر ہے، اس کی خوبصورتی و ترقی پورے صوبے کی ترقی ہے۔ محمود خان کا کہنا تھا کہ پشاور شہر میں تمام بڑے منصوبوں کی معیاری تکمیل صوبائی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہیں۔ 

 پشاور(سٹاف رپورٹر)گورنر خیبرپختونخوا شاہ فرمان اور وزیراعلی خیبرپختونخوا محمود خان سے شمالی وزیرستان کے تاجر یونین اور پٹرول پمپ ایسوسی ایشن کے نمائندگان کے مذاکرات ہوئے جس میں شمالی وزیرستان میں دہشتگردی سے ہونے والے نقصانات اور ان کے ازالہ کے حوالے سے تفصیلی گفتگو کی گئی۔تفصیلات کے مطابق نمائندہ وفد کو آگاہ کیا گیا کہ صوبائی کابینہ نے اپنے گزشتہ اجلاس میں صوبائی حکومت کی موجودہ پالیسی کے تحت معاوضے کی ادائیگی کی منظوری دے دی تھی تاہم پالیسی میں شامل نہ ہونے والے نقصانات کے ازالہ کے لیے کابینہ کمیٹی تشکیل دی گئی جس میں وزیر خزانہ،وزیر قانون،وزیر مواصلات و تعمیرات،سیکرٹری خزانہ،ڈپٹی کمشنر شمالی وزیرستان اور اور پی ڈی ایم اے کے اہلکار شامل ہوں گے۔ یاد رہے کہ شمالی وزیرستان میں دہشت گردی کی لہر کی وجہ سے 71 پٹرول پمپس تباہ ہوئے تھے جن کے ازالے کے لیے شمالی وزیرستان پٹرول پمپس ایسوسی ایشن گذشتہ کئی دنوں سے ہڑتال پر تھے، تاہم کامیاب مذاکرات کے نتیجے میں پٹرول پمپ ایسوسی ایشن نے اپنی ہڑتال ختم کرنے کا اعلان بھی کیا جبکہ تاجر یونین نے حکومت کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے واضح کیا کہ موجودہ حکومت نیک نیتی اور خلوص سے قبائلی عوام کی ترقی اور دہشتگردی کی وجہ سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لئے اقدامات اٹھا رہی ہے اور ستر سالہ محرومیوں کے ازالے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر کام کیا جا رہا ہے۔ اس موقع پر وزیر اعلی نے واضح کیا کہ کہ موجودہ حکومت وزیراعظم عمران خان کی ہدایت کے مطابق قبائلی اضلاع کی ترقی اور ان کے تمام تر مسائل کو حل کرنے کے لئے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات اٹھا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حکومت نے اپنی وسائل سے خطیر رقم قبائلی اضلاع کی ترقی کے لئے مختص کئے ہیں جبکہ دس ماہ کے قلیل عرصے میں قبائلی اضلاع سے تعلق رکھنے والی عوام کے لیے صحت انصاف کارڈز کے اجرا، نوجوانوں کے لیے بلاسود قرضوں کی فراہمی اور دیگر اقدامات موجودہ حکومت کے خلوص اور نیک نیتی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع میں عوام کی مشاورت سے ترجیحات کی نشاندہی کی جا چکی ہے اور آنے والے دس سالوں میں 100 ارب روپے ان ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل پر خرچ کیے جائیں گے۔

مزید : صفحہ اول