کراچی، ٹریفک پولیس نے موٹر سائیکل سواروں کو ہیلمٹ فوبیا میں مبتلا کر دیا 

کراچی، ٹریفک پولیس نے موٹر سائیکل سواروں کو ہیلمٹ فوبیا میں مبتلا کر دیا 

کراچی (رپورٹ /ندیم آرائیں)کراچی ٹریفک پولیس نے ہیلمٹ مہم کے آغاز کے ساتھ ہی شہریوں کو اذیت میں مبتلا کردیا،مہم کے نام پر اعلیٰ افسران کا ہیلمٹ کا کاروبار چمکنے لگا،بغیر ہیلمٹ پینے شہریوں کو جگہ جگہ روک کر ہیلمٹ پر  چالان کیا جارہا ہے۔ جبکہ چالان جمع کروانے پر شہریوں سے مطالبہ کیا جاتا ہے کہ سامنے اسٹال سے ہیلمٹ خریدیں۔تفصیلات کے مطابق کراچی ٹریفک پولیس کی جانب سے شہر میں ہیلمٹ نہ پہننے والو ں کے خلاف مہم کا آغازکردیا گیا ہے۔اس مہم کے دوران ایسے افراد کا چالان کیا جارہا ہے جن جو دوران سفر ہیلمٹ کا استعمال نہیں کرتے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ٹریفک پولیس اہلکاروں نے ہیلمٹ مہم کو کمائی کا ذریعہ بنالیا ہے۔ٹریفک پولیس اہلکار خواتین اور بچوں کے ساتھ جانے والے افراد کو بھی روک رہے ہیں اور ان کے ساتھ نازیبا رویہ اختیار کیا جارہا ہے۔شدید گرمی کے موسم میں خواتین اور بچوں کو اس مہم کی وجہ سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔اس ضمن میں ایک خاتون نے روزنامہ پاکستان کو بتایا کہ ہمیں اس طرح کی کسی مہم کا علم نہیں تھا۔اس حوالے سے ٹریفک پولیس نے نہ تو کوئی اشتہاری مہم چلائی اور نہ ہی میڈیا کے ذریعہ عوام کو آگاہی فراہم کی اور اب اچانک غریب موٹرسائیکل سواروں کو بلاجواز تنگ کرنا شروع کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگر ہم جس کے ساتھ سفر کررہے ہیں اگر اس کے پاس پیسے نہیں ہیں تو اس میں ہمار ا کیا قصور ہے۔ٹریفک پولیس اہلکار چالان کرنے  کے بعد جانے کی اجازت دینے کی بجائے ہیلٹ خریدنے پر زور دیتے ہیں جو سراسر ناجائز ہے۔ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ چالان جمع کرانے کے لیے جانے والے شہریوں کو کہا جاتا ہے کہ قریب ہی واقع کیمپ سے ہیلمٹ خریدا جائے اس کے بغیر ان کو گاڑی واپس نہیں دی جائے گی۔جب شہری مذکورہ مقام سے ہیلمٹ لینے جاتے ہیں تو وہاں ان سے ہیلمٹ کی قیمت 850سے ایک ہزار روپے تک وصول کی جارہی ہے جبکہ شہر کے مختلف علاقوں میں عام اسٹالز پر یہ ہیلمٹ 500روپے تک دستیاب ہیں۔اس ضمن میں ذرائع کا کہنا ہے کہ پولیس کے کچھ اعلیٰ افسران کا ہیلمٹ کے تاجروں کے ساتھ گٹھ جوڑ ہے اور جب کسی بڑے تاجر کا ہیلمٹ کا کنٹینر شہر میں آتا ہے تو اس کے ساتھ ہی ہیلمٹ  نہ پہننے والوں کے خلاف مہم شروع کردی جاتی ہے اور یہ مہم اس وقت تک جاری رہتی ہے جب تک یہ تمام ہیلمٹس فروخت نہ ہوجائیں۔اس حوالے سے ایک شہری نے پاکستان کو بتایا کہ وہ اپنے ایک عزیز کے لیے کھانا لے کراسپتال جارہا تھا کہ ٹریفک پولیس اہلکاروں نے اسے روک لیا۔وہ ایک گھنٹے سے پولیس اہلکاروں سے التجا کررہا ہے کہ اسے جانے دیا جائے لیکن وہ بضد ہیں کہ قریبی اسٹالز سے ہیلمٹ خریدا جائے،جس کے بعد ہی اس کو موٹرسائیکل واپس کی جائے گی جبکہ میرے اس وقت ایک ہزار روپے موجود نہیں ہیں۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ٹریفک پولیس کی یہ مہم پہلے مرحلے میں شارع فیصل تک محدود ہے لیکن دوسرے مقامات پر فرائض انجام دینے والے ٹریفک پولیس کے اہلکاروں نے شہریوں کو ہیلمٹ کے نام پرخوف زدہ کرکے رشوت وصولی مہم شروع کردی ہے۔ہیلمٹ نہ پہننے والے شہریوں سے یہ اہلکار 50سے 100روپے وصول کررہے ہیں۔دوسری جانب سے شہریوں کا کہنا ہے کہ ہیلمٹ استعمال نہ کرنے والوں کے خلاف مہم اچھا اقدام ہے۔ہیلمٹ کا استعمال شہریوں کے تحفظ کے لیے انتہائی ضروری ہے تاہم اگر اس طرح مہم میں شہریوں کو کو تنگ کرنا شروع کردیا جائے گا تو وہ اس سے بدظن ہوجائیں گے۔شہریوں کو مخصوص مقامات سے ہیلمٹ کی خریداری کا کہنا ہے کہ کرپشن کی زمرے میں آتا ہے۔اس بات کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کرائی جائے کہ وہ کون سے افسران ہیں جن کے ہیلمٹ کے تاجروں کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں اور وہ اس مہم کے ذریعہ اپنی جیبیں بھررہے ہیں۔ٹریفک پولیس اگر پتھاریداروں اور پارکنگ مافیا کے خلاف بھی اسی سنجیدگی کے ساتھ مہم چلائے تو شہر میں ٹریفک کے مسائل حل کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر