ایک طرف ہڑتالیں اور تالہ بندیاں، دوسری جانب ٹیکس جمع کرنے کا غیر معمولی جو و جذبہ

ایک طرف ہڑتالیں اور تالہ بندیاں، دوسری جانب ٹیکس جمع کرنے کا غیر معمولی جو و ...

 تجزیہ؛۔ قدرت اللہ چودھری

 نئے مالی سال کا آغاز اس حالت میں ہوگیا ہے کہ صنعتی یونٹوں میں تالا بندی ہو رہی ہے، تاجروں نے ہڑتالیں شروع کر رکھی ہیں اور امکان ہے کہ اس کا دائرہ ابھی اور پھیلے گا، دوسری طرف حکومت نے آج سے بے نامی جائیدادیں ضبط کرنے کا اعلان کیا ہے، سینیٹر شیری رحمن کا کہنا ہے کہ حکومت کی ایمنسٹی سکیم ناکام ہوگئی ہے، اس ناکامی کا بدلہ عوام سے لیا جارہا ہے۔ گیس کی قیمتوں میں ریکارڈ اضافہ اسی فرسٹریشن کا اظہار ہے، رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کا جو جواز تلاش کیا گیا ہے کوئی صحیح الفکر آدمی اسے ماننے کے لئے تیار نہیں اور اس پر ایسے ایسے تبصرے کئے جارہے ہیں جو ایک بڑے گھر کے مکین کے معمولات کے بارے میں کوئی اچھا تاثر نہیں چھوڑتے۔ یہ طرز عمل بھی درست نہیں ہے لیکن جب سیاسی رہنماؤں کی مجہول الزامات کے تحت گرفتاریاں ہوں گی تو  جواب بھی ایسی ہی مجہول الزام تراشی سے ملنے کی امید ہے، سیاسی رہنماؤں کی مزید گرفتاریاں متوقع ہیں اور وہ بھی ممکن ہے ایسے ہی الزامات کے تحت ہوں، اب وہ دور تو نہیں جب سیاسی رہنما بھینس چوری کے الزامات کے تحت گرفتار ہوتے تھے۔ اب چوریاں بھی بڑی بڑی تلاش کرنی پڑتی ہیں اور بھینسیں بھی  پلی ہوئی ڈھونڈنی پڑتی ہیں تاکہ اگر مقدمہ کسی جانب نہیں جاتا تو کم ازکم تیلی رے تیلی تیرے سر پر کولہو کا محاورہ تو درست ثابت ہو۔

بات کا آغاز کیا تھا رواں مالی سال سے، ایف بی آر کے چیئرمین  شبر زیدی کو داد دینا پڑتی ہے جو اپنے جمے جمائے ٹیکس وکالت کے کاروبار کو نظرانداز کرکے ایف بی آر کے ایسے اعزازی چیئرمین بن گئے ہیں جو کوئی تنخواہ بھی نہیں لیں گے۔ معلوم نہیں انہیں اس سردردی سے کیا حاصل ہوگا۔ شاید وہ ملک کی محبت سے مجبور ہو کر بلاتنخواہ ٹیکس کولیکشن کے ”مشن امپوسیبل“ پر نکل کھڑے ہوئے ہیں۔ ان کی سربراہی میں حالانکہ جن بڑے بڑے افسروں نے ٹیکس جمع کرنا ہے وہ بھی کوئی کم محب وطن تو نہیں ہیں، لیکن وہ پوری تنخواہیں بھی لیتے ہیں اور ٹیکس میں سے بھی حصہ بقدر  جشہ وصول کر لیتے ہیں، سنا ہے جمع شدہ ٹیکس کا ایک معتدبہ حصہ ان افسروں کی جیب میں چلا جاتا ہے، حیرت ہے ان سب کی سربراہی اب ایف بی آر کا ایسا چیئرمین کرے گا جو تنخواہ تک نہیں لے گا۔ اس لئے کسی حصے وغیرہ کا کیا سوال۔ بہرحال وہ ٹیکس جمع کرنے کے جس مشن پر ہیں اس میں انہیں قدم قدم پر رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑے گا۔ انہیں آتے ہی 5555ارب روپے کا ٹیکس ریونیو جمع کرنے کا مشن سونپ دیا گیا ہے۔ آج تک پاکستان کی تاریخ میں کبھی اتنا بڑا ٹیکس ریونیو ٹارگٹ نہیں رکھا گیا، جو  مالی سال ابھی 30جون کو ختم ہوا ہے اس کے بجٹ میں ٹیکس ریونیو کا ہدف 4380ارب روپے رکھا گیا تھا۔ سابق وزیر خزانہ اسد عمر کو شروع شروع میں پوری امید تھی کہ وہ یہ ہدف حاصل کرلیں گے، انہیں جب بھی کہا جاتا کہ یہ ہدف مشکل ہے تو ان کا جواب ہوتا کہ کپتان تو دس ہزار ارب روپے جمع کرنے کا مشن رکھتے ہیں اور وہ دن بھی جلد آئے گا جب ہم یہ ہدف رکھیں گے اور حاصل کریں گے۔ دلیل ان کی بھی یہی تھی کہ پاکستان کے عوام ٹیکس دینا چاہتے ہیں لیکن وہ اس لئے نہیں دیتے کہ اوپر چور، ڈاکو بیٹھے ہیں۔ اب ہماری حکومت میں تو وہ خوشی خوشی ٹیکس دیں گے، لیکن بدقسمتی یہ ہوئی کہ وہ ہدف حاصل کرنے سے پہلے ہی رخصت ہوگئے۔  اور یوں ٹیکس دینے والے بھی بدک گئے وزیر بننے کے بعد چند ماہ میں انہیں البتہ اندازہ ہوگیا تھا کہ 4380ارب کا ہدف مشکل ہے اس لئے انہوں نے نظرثانی کرکے ہدف 4100ارب روپے کر دیا، لیکن شاید ان کے رخصت ہونے کا نتیجہ تھا کہ سال 2018-19ء میں یہ رقم بھی حاصل نہیں ہو پائی اور ایک اندازے کے مطابق 3820ارب روپے حاصل ہوئے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ اگر ختم ہونے والے سال میں 3820ارب روپے جمع ہوئے ہیں تو نئے سال میں 5555ارب روپے کیسے حاصل ہوں گے جو مقابلتاً 44فیصد زیادہ ہیں۔ سابق وزیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا نے تو اس ہدف کو غیر حقیقی اور غیر منطقی قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس ہندسے کو بھول جائیں، یہ ہدف تو کسی صورت حاصل نہیں ہوگا، ان کی دلیل یہ ہے کہ وزارت خزانہ کے خیال میں رواں مالی سال میں جی ڈی پی کی شرح افزائش 2.4فیصد رہے گی۔ اگرچہ وزارت منصوبہ بندی اس سے متفق نہیں اور اس کے خیال میں یہ شرح 4.00فیصد رہے گی، لیکن وزارت خزانہ اس سے اتفاق نہیں کرتی، حکومت کی دو وزارتوں میں سوچ کا یہ فرق ہی واضح  کرتا ہے کہ شرح افزائش  کم ہی رہے گی  ایسے میں ٹیکس ریونیو کا ہدف اور بھی مشکل ہے، کیونکہ اتنی کم شرح سے تو یہ ہدف حاصل نہیں ہوسکتا، ایک اقتصادی ماہر کا خیال ہے کہ حکومت نے یہ ہدف آئی ایم ایف کو مطمئن کرنے کے لئے رکھ دیا ہے ورنہ وہ بھی جانتی ہے کہ اس کا حصول مشکل ہے، تاہم پکڑ دھکڑ سے ٹیکس وصولی بڑھے گی یا کم ہوگی اس کا اندازہ تو ابھی چند ہفتوں بعد ہی ہوگا جب ہڑتالوں، تالہ بندیوں اور احتجاجوں کا سلسلہ تھمے گا یا آگے بڑھے گا۔

جوش و جذبہ

مزید : تجزیہ