ضلع دیر لوئرمیں کرپٹ اور کام چور آفیسرز کیلئے کوئی جگہ نہیں: شوکت یوسفزئی 

ضلع دیر لوئرمیں کرپٹ اور کام چور آفیسرز کیلئے کوئی جگہ نہیں: شوکت یوسفزئی 

پشاور(سٹاف رپورٹر)ڈپٹی کمشنر دیر لوئر شوکت علی یوسفزئی نے سرکاری محکمہ جات کے افسران کو متنبہ کیا ہے کہ ضلع میں کرپٹ اور کام چور آفیسرز کیلئے کوئی جگہ نہیں،واپڈا والے عوامی شکایات کا فوری ازالہ یقینی بنائیں،بجلی کی مین لائن کے قریب درختوں کی شاخ تراشی کی جائے،محکمہ پبلک ہیلتھ ضلع میں لوگوں کے مسائل ایک ہفتہ کے اندر اندر حل کرکے انھیں رپورٹ پیش کرے،خواتین سکولوں میں مردوں کے داخلے پر پابندی ہے اس سلسلے میں خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کاروائی کی جائے گی اوراس ضمن میں کوئی بھی سرکاری اہلکار اس خلاف ورزی کا مرتکب پایا گیا تو اسی وقت اسکو معطل کیا جائے گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے منگل کے روز دیر پائین کے علاقے تالاش شمشی خان میں عوامی مسائل کے فوری اور اطمینان بخش حل کی غرض کے لئے منعقدہ کھلی کچہری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ڈی پی او لوئر دیر عارف شہباز وزیر،ڈی ایچ او ڈاکٹر شوکت علی،اسسٹنٹ کمشنرتیمرگرہ محمد شاہ جمیل خان،تحصیل تیمرگرہ کے ناظم ریاض محمد ایڈوکیٹ، ٹی ایم او پرویز اختر، ڈی ایس پی شیر ولی خان، ڈسٹرکٹ ڈائریکٹر زراعت مراد علی خان، دیگر تمام لائن ڈیپارٹمنس کے افسران، بلدیاتی نمائندگان اور علاقے کے عوام نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔کھلی کچہری میں علاقے کے عوام نے مختلف محکموں کی کارکردگی کے حوالے سے شکایتیں پیش کیں اور ان پر سوالات اٹھائے جس پر ڈپٹی کمشنر لوئر دیر شوکت علی یوسفزئی کا کہنا تھا کہ حکومت عوام کی فلاح وبہبود کیلئے تمام تر وسائل بروئے کار لارہی ہیں تاکہ لوگوں کی مشکلات میں کمی ہو۔ انہوں نے کہا کہ کوئی بھی آفیسر قانون سے بالاتر نہیں اور عوام کو جوابدہ ہے اور جو آفیسر ڈیوٹی میں غفلت سے کام لے رہاہے تو ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا۔انہوں نے محکمہ واپڈا کو ہدایت کی کہ وہ بجلی کی مین لائن کے قریب درختوں کی شاخ تراشی کرے تاکہ اس کی وجہ سے بجلی کی ترسیل میں خلل نہ ہو۔ڈپٹی کمشنر لوئر دیر شوکت علی یوسفزئی نے محکمہ پبلک ہیلتھ کو سختی سے احکامات جاری کرتے ہوئے کہا کہ تالاش کے مختلف علاقوں میں لوگوں کو درپیش مسائل ایک ہفتے کے اندر اندر حل کریں اور اس سلسلے میں پیشرفت پر مبنی رپورٹ بھی انھیں پیش کرے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ خواتین کے تعلیمی ادروں میں مردوں کی جانے پر پابندی ہے اگر اس کے باوجود بھی کوئی مرد تعلیمی ادروں میں جانے کی کوشش کرتا ہے تو ان کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے گا انہوں نے کہا کہ تالاش بائی پاس میں علاقے کے لوگوں کی زمینوں کے جو معاوضے رہ جاتے ہیں ان کو بہت جلد معاوضہ دیا جائے گا کیونکہ اس سلسلے میں ضلعی حکومت کو پیسے ریلیز ہوگئے ہیں 

مزید : پشاورصفحہ آخر