معاشی مشکلات اور آرمی چیف کاخطاب

معاشی مشکلات اور آرمی چیف کاخطاب

وطن عزیز کے داخلی و خارجی مسائل کو جن پہاڑوں کا سامنا ہے وہ اگرچہ ناقابل عبور نظر آتے ہیں مگر انسانی عزم،پرخلوص کاوشیں اور محنت شاقہ وہ عناصر ہیں کہ جب اللہ تبار تعالی کی رحمت کے سہارے پر بروئے کار لائے جاتے ہیں تو محیرالعقول نتائج سامنے آتے ہیں۔ہر قسم کے نامساعد حالات کے باوجود1940ء کی قرار داد پا کستان کے صرف سات برس بعد27رمضان کی مقدس سماعتوں میں وجود میں آنے والی مملکت خدادپاکستان،دشمن قوتوں کے ہر وار کے باوجود نہ صرف اپنا وجود برقرار رکھے ہوئے ہے بلکہ جنوبی ایشیا کے مسلمانوں اور خطے کی ترقی پذیر اقوام کیلے امید کی کرن بھی ہے۔قابل اعتماد دفاعی طاقت کا حامل یہ ملک نہ صرف اپنی بقا وسالمیت کے تقاضوں بلکہ ہتھیاروں کی تیاری کے حوالے سے بھی مناسب حدتک خود کفیل ہے۔اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف شمالی علاقوں میں ترقی کا نیا دور شروع ہو رہا ہے،پانی و بجلی کی ضروریات کیلے ڈیموں کے افتتاح ہو رہے ہیں جس کو ناکام بنانے کیلئے دشمن قوتیں سازشوں میں مصروف ہیں اور پشتونوں کے حقوق کی بات کر نے والے نام نہاد ان طاقتوں کے آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔

کچھ عرصہ قبل مہمند ڈیم منصوبے کا سنگ بنیاد بھی رکھا گیا ہے جس میں آرمی چیف جزل قمر جاوید باجوہ نے بھی شرکت کی تھی۔یہ منصوبہ کوئی نیا نہیں بلکہ تاریخی شواہد کے مطابق اس منصوبے کی تعمیر کا فیصلہ ایواب خان کے دور میں شروع ہوا جو بعد میں کھٹائی میں پڑ گیا جیسے اب نہ صرف دوبارہ زندہ کیا گیا ہے بلکہ اس پر باقاعدہ کام کا آغاز بھی کردیا گیاہے۔ڈیم سے800میگاواٹ سستی بجلی پیدا کر نے کیساتھ ساتھ1.2ملین ایکڑ فیٹ پانی ذخیرہ کر نے کی سہولت بھی حاصل ہو گی۔دوسری طرف کرپشن،منی لانڈرنگ،معیشت کو کھو کھلاکرنے اور سماجی ماحول کو غیر مستحکم کرنے والا ہر وہ رخنہ بندکیاجارہا ہے جو بانیان پاکستان کے بعد آنے والی قیادت واشرافیہ کے بعض عناصر نے اپنے ذاتی وطبقاتی مفادات کیلے ملک کے سماجی ومعاشی ڈھانچے میں پیدا کیا۔اس میں شبہ نہیں کہ آج کی انتظامیہ کو تیز رفتار عالمی تبدیلی،موسمی وماحولیاتی اثرات،بارشوں وڑالہ باری سے فصلوں واملاک کو پہنچنے والے نقصان کے علاوہ پٹوری کلچر،پولیس کلچر،ذاتی وفاداریوں کے ذریعے بدعنوانیاں کرنے کے کلچر کے علاوہ ضروری اشیاء سرحد سے باہر سمگل کر کے امپورٹ کر کے منڈی میں گرانی پیدا کر نے کی ترکیبوں کا بھی سامنا ہے مگر شیلٹر ہومز کے قیام،ای او بی آئی پنشن بڑھاؤ جانے،بہبود فنڈ کی شرح منافع میں اضافے اقدامات کو دیکھا جائے تو اچھے نتائج کی طرف لے جانے والی سمت کا احساس ہو تا ہے،ایسی کیفیت میں بعض اداروں کا فرسودہ ڈھانچ ایک مکمل تبدیلی متقاضی ہو۔

ایف بی آر،سٹیٹ بنک یادوسرے اداروں میں تبدیلیاں اگر نظر آرہی ہیں تو یہ وقت کی ضرورت ہے۔اس ضمن میں مختلف بین الاقومی اداروں کی مالیاتی رپورٹیں رہنمائی ہیں۔بیروں ملک چھپائے گئے اثاثے واپس لانے کی کوششیں اگرچہ کئی عشروں سے بار آور ثابت نہیں ہوئیں مگر ملکی مفاد متقاضی ہے کہ ان کوششوں کو جاری رکھا جائے۔ایسے وقت کہ بجٹ خسارہ ملکی تاریخ کی بلند تارین سطح 28کھرب تک پہنچنے کے خدشات ہیں حکومت کے پاس اس کے سوا کوئی راستہ نہیں کہ بجلی اور پٹرول کے نرخوں میں اضافہ کرے مگر گردشی قرضوں کو صفر تک پہنچانے کی دوڑ میں عوام کی قوت برداشت کو بہر طور ملحوظ رکھنا ہو گا۔

نیشنل یونیورسٹی میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جزل قمر جاوید باجوہ نے درست کہا کہ معیشت اور مضبوط سکیورٹی کا چولی دامن کا ساتھ ہو تا ہے اور یہ کہ قومی اہمیت کے امور پر کھل کر بات کرنے کی ضرورت ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ملک شدید معاشی حالات سے دوچار ہے، ماضی میں درست فیصلے نہ کرنے سے مشکلات بڑھ گئی ہیں،یہ وقت ایک قوم بننے کا ہے، ہم سب کو اپنی ذمہ داریاں نبھانے کی ضرورت ہے، مشکل حالات میں کوئی فرد واحد قومی اتحاد کے بغیر کامیابیاں حاصل نہیں کر سکتا،ماضی قریب میں ایسی مثالیں موجود ہیں جب مختلف ممالک کو اس طرح کے چیلنجز کا سامنا رہا، معاشی کاوشوں کو کامیاب بنانے کیلئے سب کو ذمہ داری پوری کرنا ہوگی، ان شااللہ ہم ان مشکل حالات سے سرخرو ہوکر نکلیں گے۔سپاہ سلار نے اپنی تازہ ترین تقریر میں بادیء النظر ماضی کے ان کے فیصلوں کومطعون کیا ہے جن کی وجہ سے ملک وقوم کو آج معاشی مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ویسے بھی یہ بات کسی دلیل،گواہی یا تصدیق کی محتاج نہیں کہ ماضی کی حکومت کے اکثر فیصلے”ڈنگ ٹپاؤ”سوچ کا مظہر ثابت ہوئے۔ایسے نامناسب فیصلوں کا ہی نتیجہ ہے کہ آج حکومت کو محض قرضوں پر سود کی ادائیگی کے لیے آئی ایم ایف کی کڑی بلکہ ناقابل برداشت شرائط کے سامنے سر جھکانا پڑ رہا ہے۔دوست ممالک سے مالی اعانت اور ادھار تیل حاصل کرنے جیسے معاملات کے لئے درخواست کرنا پڑ رہی ہے جو ایک آزاد،خود مختار اور جوہری صلاحیت کی حامل ریاست کے لئے شر مندہ ہونے کا باعث عمل ہے۔

ملک وقوم کو درپیش معاشی چیلنج کا سامنا کرنے کی سوچ کے تحت عسکری قیادت افسران کی تنخواہوں میں اضافہ نہ کرنے،غیر جنگی اخراجات میں کٹوتی اور دفاعی بجٹ کو گزشتہ سال کی سطح پر رکھنے جیسے غیر معمولی اور بڑے فیصلے کر چکی ہے۔ملکی فوجی قیادت کی سوچ دراصل معیشت کے راستے ناقابل تسخیر دفاع کے فلسفے کی آئینہ دار ہے جس پر تمام سٹیک ہولڈرز کو عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔اس میں شبہ نہیں جیسی عالمی طاقت ہو یا پھر دنیا کا کوئی بھی ملک محض معاشی انحاط نے اس کے دفاعی ومعاشی نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔اس لیے بہت ضروری ہے کہ معاشی استحکام کے لئے عسکری حد تک نہیں،ہر شعبہ،ہرادارہ اور ہر فرد کی سطح پر ایک جیسا عزم سامنے آئے۔

مزید : رائے /کالم