بحرانوں کا شکار پاکستان اور پی آئی اے

بحرانوں کا شکار پاکستان اور پی آئی اے
بحرانوں کا شکار پاکستان اور پی آئی اے

  

مملکت خداداد پاکستان اس وقت جتنےبحرانوں کاشکارہےاس سے پہلے قیام پاکستان سے لیکر اب تک اس کی مثال نہیں ملتی، پی ٹی آئی کی موجودہ حکومت ملک کو بحرانوں سے نکالنے کا نعرہ لگا کر تبدیلی کی بنیاد رکھنے کے لیے برسر اقتدار آئی تو نوجوان نسل بلکہ پاکستانی عوام نےاس جماعت سےبےشمار توقعات وابستہ کر لیں، دو سال گزرنے کے بعد جب پی ٹی آئی کے دور حکومت کی کارکردگی کا تقابلی جائزہ لیا جائے تو سوائے مایوسیوں کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ ابتدا ء میں سابق حکمرانوں کا احتساب کرنے کا دعوی اورلوٹی رقم برآمد کرنے کےدلکش سلوگن نےعوام کوایک ڈھارس بندھائی کہ شایدملکی خزانہ دوبارہ بھرجائےگا،نوجوانوں کو کروڑوں نوکریاں اوربےگھروں کوکروڑوں کی تعدادمیں رہائش فراہم کی جائیگی مگربدقسمتی سے ابھی تک دونوں بڑے نعرے بری طرح فلاپ ہوئےہیں اور لوگوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔

پی ٹی آئی کے دور حکومت میں دو مرتبہ بجٹ پیش کیے گئے مگر دونوں مرتبہ مہنگائی جو آسمان پر باتیں کر رہی ہے سے نمٹنے کے لیے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ایک روپے کا اضافہ بھی نہیں کیا گیا بلکہ الٹا انکی تنخواہوں سے کورونا وائرس جیسے فنڈز کی رقم منہا کی گئی،رمضان المبارک کے دوران چینی مافیا نے جو حشر پاکستانی مارکیٹ کا کیا وہ کسی سے پوشیدہ نہیں، سستے داموں ملنے والی چینی کو ایکسپورٹ کر کے خود ساختہ مہنگائی اور بحران پیدا کیا گیا، بعد ازاں اس کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے کمیشن بنایا گیا جس میں حکمران جماعت کے سرکردہ رہنما بھی شامل ہیں۔ بادی النظر میں چینی کمیشن کی رپورٹ کھوہ کھاتے چلی گئی، اسی دوران گندم کا مصنوعی بحران بھی پیدا کر دیا گیا ،8سو روپے میں فروخت ہونیوالے 20کلو گرام آٹے کا تھیلہ 12سو روپے میں فروخت ہو رہا ہے اور غریب آدمی ایک وقت کی روٹی سے بھی عاجز آ چکے ہیں، ابھی یہ بحران جاری تھا کہ حکومت نے عوام کو ریلیف پہنچانے کیلئے پیٹرول کی قیمتوں میں 25روپے کی کمی کر دی، پیٹرولیم کمپنیوں نے پاکستان میں موجود کئی ماہ کے تیل کے ذخائر کو بند کر کے تیل کی سپلائی روک دی،لوگ پیٹرول پمپوں پرمارے مارے پھرتے رہے، 75روپے لیٹر میں فروخت ہونے والا پیٹرول 150روپے لیٹر میں فروخت ہوتا رہا،حکومت نے ماضی کی طرح اس کا بھی نوٹس لیا ،پیٹرولیم کمپنیوں کو کروڑوں روپے جرمانہ کیا مگر جنہوں نے سٹاک کر کے اربوں کمائے ہوئے ان کے لیے کروڑوں ادا کرنا کوئی مشکل کام نہ تھا۔

چند یوم قبل27جون کواچانک پیٹرولیم مافیانےپی ٹی آئی کی حکومت کوماضی کےبرعکس اس قدرمجبور کر دیا کہ یکدم فی لیٹر 25 روپے کا اضافہ کر دیا گیا،پیٹرول کی قیمت میں اضافہ ہونے کے بعد پہلے سے موجود مہنگائی کی شرح میں خوفناک حد تک اضافہ ہو رہا ہے اس سے قبل پیٹرول کی قیمتیں ہر ماہ کے اختتام پر تعین کی جاتی ہیں، صاف ظاہر ہے کہ حکومت نے چینی، آٹا اور پیٹرول مافیا کے سامنے ہتھیار ڈال دیے ،بدقسمتی کی یہ انتہا ہے کہ پاکستان میں ہر وقت کوئی نہ کوئی بحران موجود رہتا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کی ترقی کی شاہراہ پر گامزن ہونے کی بجائے تنزلی کا شکا رہے۔

پاکستان کے وزیر ہوائی بازی چوہدری غلام سرور جن کی ڈگری اصل ہونے کے بارے میں چوہدری نثار احمد سابقہ وزیر داخلہ نے عدالت میں رٹ دائر کر رکھی ہے نے پی آئی اے کے ایک طیارے کو جو کراچی میں آبادی پر گر کر تباہ ہو گیا تھا کے بعد پرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پی آئی اے کے تیس فیصد پائلٹوں کے پاس جعلی ڈگریاں ہیں، بس یہ پریس کانفرنس منظر عام آنے کے بعد پوری دنیا میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ،مختلف ممالک میں پاکستانی پائلٹوں کو فوری طور پر گراؤنڈ کر دیا گیا جبکہ یورپی یونین نے پی آئی اے کے طیاروں کو ان ممالک میں لینڈ کرنے پر 6ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی، پاکستان جو ان دنوں کورونا وائرس کا بدترین شکار ملک ہے اور حکومت نے مختلف علاقوں میں لاک ڈاؤن کر رکھا ہے، تین ماہ کے لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والوں کو 12ہزار روپے فی کس کا لالی پاپ دیکر واہ واہ کے نعرے مروانے کی کوشش کی، پاکستان میں فیکٹریاں‘ صنعتیں اور کاروبار تقریبا آخری ہچکیاں لے رہا ہے ،بیرون ملک سے زر مبادلہ کی آمد بند پڑی ہے کیونکہ ان ممالک میں وسیع پیمانے پر پاکستانی نہ صرف بیروزگار ہو چکے ہیں بلکہ انکا اپنا گزارا بھی مشکل ہو گیا ہے ،عرب ممالک جن میں سعودیہ ،متحدہ عرب امارات سرفہرست ہیں نے لاکھوں ہنر مند اور غیر ہنر مندوں کو جلا وطن کر دیا، پی آئی اے  ان تارکین وطن کو خصوصی فلائٹوں کے ذریعے واپس لایا جو بیروزگاروں کی فوج میں اضافے کا سبب بن گئے ہیں۔

چوہدری غلام سرور وزیر ہوا بازی کے پاس واقعی تیس فیصد جعلی پائلٹس کی فہرست موجود ہے تو انہیں خاموشی کے ساتھ ایک ایک کر کے فارغ کیا جا سکتا تھا اور یکدم انہیں گراؤنڈ کر کے پاکستان کی عزت بچائی جا سکتی تھی مگر معلوم نہیں مختلف بحرانوں کے علاوہ کورونا وائرس کا شکار اس بے بس اور لاچار ملک کے عوام کی قسمت کے ساتھ کیوں کھیلا جا رہا ہے؟ پی آئی اے جو دنیا کی سب سے بہترین ائیر لائن کا اعزاز حاصل کر چکی ہے اور اس نے متحدہ عرب امارات کی ائیر لائن ایمرٹس جو دنیا کی بہترین ائیر لائن کی صف میں شامل ہو چکی ہے کو متعارف کرایا، اب نہ صرف پاکستان کی بدنامی ہو رہی ہے کہ یہاں پر ایسا کوئی ادارہ نہیں جہاں پر مبینہ طور پر جعلی ڈگری ہولڈر ز اعلی عہدوں پر فائز ہیں بلکہ عوام کی قسمت سے بھی کھیل رہے ہیں۔ پی آئی اے یورپ میں لینڈ نہ کرنے کی 6ماہ کی مدت کے دوران ہونیوالے خسارے کو برداشت نہ کر پائے گی بلکہ بادی النظر میں یہ کوشش کی جا رہی ہے کہ کسی طرح اس ادارے سے جان چھڑا لی جائے ۔

سابق وزیر اعظم ذو الفقار علی بھٹو کے دور میں سٹیل ملز کا کراچی میں قیام لایا گیا جس سے ملکی ضر وریات کسی حد تک پوری ہونا شروع ہو گئی تھیں، ایک طویل عرصہ سے بند پڑی ہے، پاکستان کا خزانہ خالی ہے اور دنیا بھر سے کشکول لیکر قرض مانگ مانگ کر گزارا کیا جا رہا ہے۔ ایک مختاط اندازے کے مطابق تمام جمہوری حکومتوں نے بیرونی دنیا سے جتنا قرض حاصل کیا تھا ،اتنا پی ٹی آئی کی حکومت نے دو سال میں بلکہ اس سے زیادہ حاصل کر لیا ہے اور ملکی آمدن کا ننانوے فیصد حصہ صرف سود کی ادائیگی پر خرچ کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی عدالتی نظام کے سٹیک ہولڈروں کو پی آئی اے کو دانستہ طور پر بدنام کرنے اور اس پر پابندی لگوانے پر وزیر شہری ہوا بازی چوہدری غلام سرور کو کٹہرے میں کھڑ ا کرنا چاہیے ،بجائے اسکے یہ شور مچایا جائے کہ پاکستان کا کوئی ایسا ادارہ نہیں جہاں پر جعلی ڈگری ہولڈرز کلیدی عہدوں پر تعینات ہیں، اگر واقعی ایسا ہے تو انکا احتساب بھی کیا جا سکتا ہے بلکہ ایک ایک کر کے انہیں فارغ کر کے ملک کی عزت بچائی جا سکتی تھی۔

اب پاکستانی ڈاکٹروں کو جو بیرونی دنیا میں خدمات سر انجام دے رہے ہیں کی ڈگریوں کا بھی سوا ل اٹھا دیا گیا ہے، سعودی عرب میں سینکڑوں پاکستانی ڈاکٹروں کو محض اس لیے فارغ کر دیا گیا ہے یہ شاید انکی ڈگریاں جعلی ہیں، یہ سارے کے سارے بحران پاکستان میں موجودہ حکومت کے دور میں پیدا ہوئے جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔پی ٹی آئی کو برسر اقتدار لانے والی قوتیں اگر سر جوڑکر بیٹھ جائیں اور یہ فیصلہ کر پائیں کہ ان حالات کا ذمہ دار کون ہے تو شاید انہیں ذمہ دار کا تعین کرنے میں دیر نہ لگے۔ پاکستان کا ہمسایہ ملک براہ راست جنگ کرنے کی بجائے کنٹرول لائن پر چھیڑ خانی میں مصروف ہے تو دوسری طرف اس نے دہشت گردی کے واقعات کو بھی فروغ دینا شروع کر دیا ہے، دہشت گردی کے واقعات سے پوری دنیا میں پاکستان بدنام ہوتا ہے۔ ایک طویل عرصہ دہشت گردی کے خلاف جنگ لڑنے میں ملک میں جو امن و امان کی صورتحال قائم ہوئی تھی، اب ہمسایہ ملک کی مداخلت کی وجہ سے ختم ہوتی جا رہی ہے، پاکستانی عوام کسی ایسے خمینی کا انتظار کر رہے ہیں جو انہیں اس گھمبیر ترین صورتحال سے باہر نکال سکے۔

   نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں

مزید :

بلاگ -