وہ ایک تصویر، لہو لہو کشمیر اور بے حس عالمی ضمیر

وہ ایک تصویر، لہو لہو کشمیر اور بے حس عالمی ضمیر
وہ ایک تصویر، لہو لہو کشمیر اور بے حس عالمی ضمیر

  

تین چار سال کا معصوم بچہ، زمین پر لہو میں تر نانا کی لاش پر ایسے بیٹھا ہے جیسے وہ شاید گھر میں نانا سے لاڈ پیار کرنے کے لئے بیٹھتا ہوگا۔ اس وقت تو شاید اسے معلوم نہ ہو کہ نانا کے جس سینے پر چڑھ کر بیٹھا ہے اسے بھارتی درندے فوجیوں نے چھلنی کر دیا ہے، لیکن جب انہی درندوں نے اسے اپنی سرکاری گاڑی میں زبردستی بٹھایا تو اس کی آنکھوں میں آنے والے آنسو اور رونے کی آواز نے بڑے بڑوں کا کلیجہ چھلنی کر دیا۔ مگر کلیجہ چھلنی نہ ہوا تو اقوام متحدہ کا، عالمی طاقتوں کا، انسانی حقوق کی دعویدار تنظیموں کا، امریکہ میں ایک کالے امریکی کو مارا گیا تو پورا امریکہ سڑکوں پر آ گیا، اپنے ہی ملک کی اینٹ سے اینٹ بجا دی، مگر یہ سب کچھ تو مقبوضہ کشمیر میں ہو رہا ہے۔ اس پر کون احتجاج کرے۔ کوئی معصوم بچہ نانا کی لاش پر بلک بلک کر روئے یا بیوہ اور بچے بین کریں کسی کو کوئی پروا نہیں، یہ بدترین بے حسی اور امتیازی سلوک ہے جو دنیا کشمیر کے نہتے عوام سے روا رکھے ہوئے ہے، میرے نزدیک اس حوالے سے جتنا بڑا مجرم بھارت ہے، مودی ہے، اتنا ہی بڑا مجرم اقوامِ متحدہ بھی ہے، عالمی ضمیر بھی ہے، جو سب کچھ دیکھنے کے باوجود شرمناک حد تک لاتعلقی کا مظاہرہ کر رہا ہے۔

مقبوضہ کشمیر کے علاقے سوپور میں پیش آنے والا یہ اندوہناک واقعہ اس بات کی گواہی ہے کہ بھارت کی مسلح افواج غیر انسانی حد تک درندہ صفت ہو چکی ہیں۔ اب ان سے راہ چلتے لوگ بھی محفوظ نہیں رہے، جیسا کہ یہ عمر رسیدہ شخص ان کی گولیوں کا نشانہ بن گیا۔ جنگی حالات میں بھی نہتے شہریوں پر حملے اقوام متحدہ کے چارٹر میں ممنوع ہیں مگر بھارت پر نجانے کیوں کسی چارٹر کا اطلاق نہیں ہوتا۔ وہ معصوم بچہ جو اپنے نانا کے ساتھ جا رہا تھا، معجزانہ طور پر بچ تو گیا مگر موقع سے بھاگا نہیں، بلکہ اپنے زخموں سے چور نانا کے ساتھ رہا، جب نانا کا جسم ساکت ہو گیا تو اس پر ایسے بیٹھ گیا جیسے بھارتی د رندوں سے اس کی حفاظت کر رہا ہو۔ یہ تصویر پوری دنیا میں دیکھی گئی اور سوشل میڈیا کا ٹاپ ٹرینڈ بن گئی۔ اسے یورپ اور امریکہ کے عوام نے بھی اپنے ان کمنٹس کے ساتھ شیئر کیا کہ تصویر دیکھ کر ان کے آنسو نہیں رک رہے۔ اس ایک تصویر نے مقبوضہ کشمیر کی وادی میں ظلم و بربریت کا پردہ چاک کر کے رکھ دیا۔ وہ لوگ بھی جو نہیں جانتے تھے کہ مقبوضہ کشمیر کہاں واقع ہے اور اس کی داستان کیا ہے، اس تصویر کی وجہ سے سب جان گئے ہیں ساری دنیا کے عوام اس تصویر کو دیکھ کر سینے پر دوہتڑ مار رہے ہیں، اگر کوئی لسی پی کر سویا ہوا ہے تو وہ اقوام متحدہ ہے، عالمی ضمیر ہے بڑی طاقتوں کے حکمران اقتصادی مفادات اور نظریہ ضرورت کے تحت آنکھیں بند کئے ہوئے ہیں، وگرنہ کشمیر کے مسئلے کی قوت کا علم انہیں بھی ہے۔

نریندر مودی نے اپنی ہٹلر صفت فطرت کے تحت مقبوضہ کشمیر کو گزشتہ کئی ماہ سے بند کر رکھا ہے وہاں دنیا کے مبصرین کو جانے دیتا ہے اور نہ غیر جانبدار صحافیوں کو، ایک طرف خوراک کی قلت اور دوسری طرف بھارتی فوج کے مظالم کشمیریوں کی زندگی اجیرن کئے ہوئے ہیں مگر اس کے باوجود بھارت جدوجہد آزادی کو دبا نہیں سکا۔ آج کل تو کشمیری مجاہدین نے بھارتی فوج کی نیندیں اڑا رکھی ہیں۔ دوسری طرف کشمیری عوام نے بھی بھارتی جنتا کا ناک میں دم کر رکھا ہے۔ شہر شہر روزانہ ہونے والے مظاہرے اور اس کے نتیجے میں قابض بھارتی فوج کی درندہ صفت کارروائیاں روزانہ کا معمول ہیں، مگر اس سب کے باوجود بھارت ایک دن کے لئے بھی کشمیر کی وادی میں امن قائم نہیں کر سکا۔ بھارتی فوجیوں کی بزدلی اور ناکامی کا سب سے بڑا ثبوت یہ ہے کہ وہ نہتے کشمیریوں کو جن میں بوڑھے، بچے اور خواتین بھی شامل ہیں بے دریغ نشانہ بنا رہا ہے، سوپور کا یہ واقعہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے یہ معصوم بچہ نہ ہوتا تو بھارتی درندوں کے بہت سے مظالم کی طرح یہ واقعہ بھی دب جاتا، بھارتی فوجی اسے بھی ایک جھڑپ قرار دے کر مٹی ڈال دیتے۔ مگر قانونِ قدرت ہے کہ فرعون کے گھر موسیٰ پیدا ہو جاتا ہے۔ اس معصوم بچے کی بے خوفی اور اپنے نانا سے شدید محبت نے کیمرے کی آنکھ سے دنیا کو وہ مناظر دکھائے جو آج کی مہذب دنیا میں نا قابل تصور سمجھے جاتے ہیں۔

بھارت نے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو کچلنے کے لئے تمام حربے استعمال کر کے دیکھ لئے اسے رتی بھر کامیابی نہیں ہوئی۔ اپنی نو لاکھ فوج کے باوجود بھارت کے لئے ایک دن بھی ایسا نہیں آیا جب اسے کشمیر میں چین سے بیٹھنا نصیب ہوا ہو۔ البتہ یہ ضرور ہوا ہے کہ بھارتی فوج جھنجھلاہٹ میں اپنے بدترین مظالم کا سلسلہ دراز کرتی چلی گئی دنیا کے کسی اور ملک کسی اور خطے میں یہ سب کچھ ہوتا تو وہاں کب کی امن فورس تعینات کی جا چکی ہوتی، مگر کشمیر کے معاملے میں اقوامِ متحدہ اور بڑی طاقتیں ایک شرمناک امتیازی پالیسی روا رکھے ہوئے ہیں ہزاروں کشمیریوں کی جانیں بھی سوئے ہوئے عالمی ضمیر کو نہیں جگا سکیں۔ مگر یہ بچہ اب اپنے نانا کے سینے پر نہیں بیٹھا بلکہ یہ عالمی ضمیر کے سینے پر تازیانے برسا رہا ہے۔ اس بچے کی وجہ سے کشمیر ایک زندہ لاش کی صورت اقوامِ متحدہ کے اجلاس میں پڑا رہا ہے۔ اگر اب بھی اس سے اغماض برتا جاتا ہے تو یہ ضمیر عالم کے لئے ڈوب مرنے کا مقام ہوگا۔

بھارت کشمیریوں پر اپنے بدترین مظالم سے دنیا کی توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کرتا رہتا ہے۔ آئے دن بھارتی فوج سرحدی خلاف ورزیاں کرتی ہے اور سرحد کے ساتھ آباد پاکستانی شہریوں کو نشانہ بناتی ہے۔ بچے، بوڑھے، خواتین اور نوجوان زخمی یا شہید ہوتے ہیں۔ پاکستانی دفتر خارجہ صرف بھارتی ہائی کمشنر کو احتجاجی مراسلہ تھما کر سرخرو ہو جاتا ہے۔ حالانکہ اس معاملے کو فوری طور پر اقوامِ متحدہ میں اٹھایا جانا چاہئے۔ کشمیر میں مظالم کا معاملہ بھی پاکستان مختلف عالمی فورمز پر اٹھا کے صرف ہلکے پھلکے احتجاجی بیانات سے بات نہیں بنے گی۔

جو کام کوئی اور نہ کر سکا وہ تین چار سالہ بچے نے کر دکھایا ہے اس بچے کی تصویر کے ذریعے دنیا کے کونے کونے تک یہ خبر پہنچ گئی ہے کہ بھارت مقبوضہ کشمیر پر قابض ہے اور نہتے کشمیریوں کو گولیوں کا نشانہ بنا رہا ہے۔ یہ ایسی تصویر ہے کہ جس کی وجہ سے بھارتی میڈیا کو بھی سانپ سونگھ گیا ہے اور وہ مقبوضہ کشمیر میں سب اچھا کی رپورٹ دینے کے قابل نہیں رہا۔

مزید :

رائے -کالم -