سینیٹ اور نائب وزیراعظم

سینیٹ اور نائب وزیراعظم
سینیٹ اور نائب وزیراعظم

  

ایک ممتاز کالم نگار اور انیکر جناب وسعت اللہ خان نے کچھ عرصہ پہلے ایکسپریس اخبار میں ”پارلیمان سازوں کے لئے ایک توجہ دلاؤ نوٹس“ کے عنوان سے ایک کالم لکھا تھا۔ وسعت اللہ خان کالم نگاری اور ایک چینل پر اینکر نگ کے علاوہ بی بی سی کے لئے بھی کام کرتے ہیں۔ میری لاہور میں کچھ عرصہ پہلے ایک مشترکہ دوست بی بی سی فیم شاہد ملک صاحب کے گھر ان سے ملاقات ہو چکی ہے۔ وسعت اللہ خان نے کسی زمانے میں پاکستان ٹیلی ویژن کے شعبہ حالات حاضرہ میں ملازمت کے لئے درخواست دی تھی اور شاید کوئی ٹیسٹ یا انٹرویو بھی دیا تھا لیکن اُن کی خوش قسمتی یا پی ٹی وی کی بدقسمتی کہ اس وقت نیوز اور کرنٹ افیئرز کے ڈائریکٹر مصلح الدین مرحوم نے انہیں معذرت کا ایک خط لکھا کہ آپ معیار پر پورا نہیں اُترے یہ الگ بات کہ وہ بی بی سی کے معیار پر پورا اُتر گئے۔ کبھی کبھار ایسا ہوتا ہے، ایک صاحب کے بارے میں روایت ہے کہ انہوں نے ریڈیو پاکستان میں پروڈیوسر کی آسامی کیلئے ٹیسٹ دیا تھا جس میں وہ فیل ہو گئے تھے بعد میں وہ ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل رہے ہیں۔خیر یہ تو ایک جملہ معترضہ تھا۔ اصل بات کا تعلق ان کے کالم میں اٹھائے گئے موضوع یعنی سینیٹ سے ہے۔

سینیٹ کا ادارہ پہلی دفعہ 1973ء کے دستور میں شامل کیا گیا۔ اس سے پہلے ہماری پارلیمنٹ ایک ایوان پر مشتمل رہی۔ 1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے پس منظر میں بچے کچھے پاکستان میں سینیٹ کی ضرورت سمجھی گئی۔ پنجاب کا رقبہ پورے ملک کے رقبے کا تقریباً 26 فیصد ہے جبکہ آبادی تقریباً 53 فیصد ہے اور قومی اسمبلی کی نشستیں 174 ہیں جو شاید باقی تینوں صوبوں کی مجموعی نشستوں سے بھی زیادہ ہیں۔جبکہ بلوچستان کا رقبہ پورے ملک کا 43.61 فیصد اور آبادی تقریباً 6 فیصد ہے۔ قومی اسمبلی میں نشستوں کی تعداد 20 ہے ظاہر ہے ان اعدادوشمار کے مطابق صوبوں میں کسی قسم کے توازن کا وجود نہیں ہے لیکن سینیٹ میں تمام صوبوں کی نشستیں برابر ہیں۔ اس صورتحال کے پیش نظر ولی خان نے مطالبہ کیا تھا کہ پنجاب کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے۔ مقصد یہ تھا کہ قومی اسمبلی اور پارلیمنٹ میں صوبوں کی نشستوں میں کچھ توازن پیدا کیا جائے۔اب وقت گزرنے کے ساتھ اس مطالبے پر تقریباً اتفاق رائے ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ عملی طور پر یہ کس حد تک ممکن ہے۔ ابھی تک تو جنوبی صوبے کے قیام کا وعدہ بھی وفا نہیں ہو سکا۔ولی خان کی اس تجویز پر تبصرہ کرتے ہوئے ایک سینئر سیاستدان سینیٹر ملک قاسم مرحوم نے پارلیمنٹ میں ایک ملاقات میں کہا تھا کہ اگر پنجاب کو تین صوبوں میں تقسیم کر دیا گیا تو ولی خان اس پر بھی پچھتائیں گے اُن کا اشارہ اس طرف تھا کہ ایسا کرنے سے سینیٹ میں بھی پنجابی بولنے والوں کی اکثریت ہو جائے گی کیونکہ انتظامی حد بندی سے زبان اور کلچر تو تبدیل نہیں ہو گا۔

جناب وسعت اللہ خان کا کہنا ہے کہ سینیٹ کی شکل میں ایک ادارہ تو بنا لیا گیا لیکن ہمارے سیاسی نظام میں اس کی وہ اہمیت نہیں جو دنیا کے دوسرے دو ایوانی مقننہ (Bicameral Legislatives) والے ملکوں خصوصاً امریکہ میں ہے۔ اس بات میں یقینا وزن ہے لہٰذا اس میں تو کوئی کلام نہیں کہ صورتحال میں بہتری کی گنجائش ہے۔ سیاسی لیڈروں اور سیاسی مفکرین کو یقینا ًاس بات پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔ مثلاً ہم نائب وزیراعظم کا عہدہ آئین میں شامل کر سکتے ہیں اور وہ سینیٹ سے ہو۔ اس صورتحال میں ترجیحا ً وہ کسی چھوٹے صوبے سے ہو گا۔ ویسے بھی اگر صدر ملک سے باہر ہو یا کسی بھی وجہ سے اپنے فرائض انجام نہ دے سکتا ہو تو سینیٹ کا چیئرمین صدر کے فرائض سنبھال لیتا ہے لیکن یہی صورتحال وزیراعظم کے ساتھ ہو یعنی وہ بیماری یا غیرملکی دورے یا کسی وجہ سے اپنے فرائض انجام دینے سے قاصر ہو تو اس بارے میں آئین خاموش ہے۔میرے خیال ایسی صورتحال میں ڈپٹی پرائم منسٹر اُن کے فرائض سنبھال سکتا ہے۔ آئین میں سینئر منسٹر کا بھی کوئی عہدہ نہیں۔ہمارے ہاں پچھلے دور میں یہ صورت پیش آ چکی ہے جب وزیراعظم میاں نوازشریف بیماری کے علاج کیلئے کافی دیر لندن میں رہے۔ جہاں تک نائب وزیراعظم کے عہدے کا تعلق ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کے زمانے میں چوہدری پرویز الٰہی ڈپٹی پرائم منسٹر رہے ہیں۔ اگرچہ آئین اس میں اس کا کوئی ذکر نہیں۔

اگر ہم سینیٹ کی ساخت پر غور کریں تو آئین کے آرٹیکل 50 کے تحت پارلیمنٹ (مجلس شوریٰ) قومی اسمبلی، سینیٹ اور صدر مملکت پر مشتمل ہوتی ہے۔ مالیاتی بلز کے علاوہ تمام بلز کا سینیٹ سے پاس ہونا ضروری ہے۔ اگر سینیٹ اور قومی اسمبلی کے درمیان قانون سازی یا کسی اور معاملے پر اختلاف رائے ہو تو اس صورت میں دونوں ایوانوں کا مشترکہ اجلاس بلایا جاتا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ مشترکہ اجلاس میں اگر پورا سینیٹ بھی ایک طرف ہو تو پھر بھی قومی اسمبلی کوئی بل وغیرہ پاس کر سکتی ہے۔ صدر مملکت کا انتخاب قومی اسمبلی سینیٹ اور چاروں صوبائی اسمبلیاں مل کر کرتی ہیں۔ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی دو تہائی اکثریت صدر مملکت کے مواخذے کا فیصلہ کر سکتی ہے۔ وفاقی کابینہ میں سینیٹ کی ایک چوتھائی تک نمائندگی ہو سکتی ہے۔ اب اگر ڈپٹی وزیراعظم کے عہدے سے متعلق تجویز پر عمل کر لیا جائے تو نیشنل اسمبلی اور سینیٹ کے درمیان کافی حد تک توازن قائم ہو سکتا ہے۔

80کی دہائی میں قومی اسمبلی کے ایک وفد نے سپیکر جناب حامد ناصر چٹھہ کی قیادت میں سوویت یونین کا دورہ کیا تھا۔ وفد کی دوسری مصروفیات کے علاوہ ایک آرٹس اکیڈمی کا دورہ بھی شامل تھا۔ اکیڈمی میں روسی دانشوروں اور وفد کے درمیان بڑی دلچسپ گفتگو ہوئی۔روسی ماہرین نے ملاقات میں ایک بڑی معنی خیر بات کی۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے تجزیے کے مطابق پاکستان ایک دفعہ پھر ٹوٹ سکتاتھا لیکن ایسی صورتحال سینیٹ کے قیام کی وجہ سے پیش نہیں آئی اور پاکستان سلامت رہا۔ گویا جس مقصد کے لئے سینیٹ قائم کیا گیا تھا اُس کے مقاصد بڑی حد تک پورے ہورہے ہیں۔

مزید :

رائے -کالم -