سناٹے پر سید زادے کی پہلی ضرب

سناٹے پر سید زادے کی پہلی ضرب
سناٹے پر سید زادے کی پہلی ضرب

  

اسے لغوی ادبی معنوں میں پڑھ لیں، ورنہ شرعی معنوں میں لفظ بدقسمتی میری لغت کبھی داخل نہیں ہوا۔ میں اس لفظ کے استعمال میں ہمیشہ متامل رہا۔ متعدد خوش قسمتیوں کے متوازی میری بدقسمتی رہی کہ میں سید منور حسن رحمہ اللہ علیہ سے کبھی نہیں ملا۔ ایک دفعہ پروفیسر عطاء اللہ چوہدری صاحب نے شاید 1978 میں راولپنڈی میں احباب کو جمع کرکے سید صاحب کا خطاب رکھا جس کی دھندلی سی یاد باقی ہے۔ سید مودودی رحمہ اللہ سے آغاز کیا جائے تو ان سے 'پہلی اور آخری ملاقات' تب ہوئی جب ان کا سوئے لحد سفر شروع ہو چکا تھا. اس سے قبل کی عمر میں دور دراز لاہور سفر کے لئے گھر سے اجازت کا حصول کچھ ایسا ہی ہوا کرتا تھا جیسے ہماری مشرقی خواتین رات کو گھر سے باہر نہیں نکل سکتیں۔ جماعت کے دیگر امراء سے میرا کسی نہ کسی سطح پر ہمیشہ تعلق رہا۔

1980 میں منصورہ میں مولانا گوہر رحمنٰ صاحب نے دورہ تفسیر کا آغاز کیا تو اس میں شرکت کے ڈیڑھ ماہ کے دورانیے میں میاں طفیل محمد صاحب رحمہ اللہ علیہ سے کم و بیش روزانہ ہی نیاز حاصل ہوتے تھے: کم گواور مشفق۔ قاضی حسین احمد صاحب مرحوم کے ساتھ متعدد دفعہ ایک میز پر کھانے کا موقع ملا۔ایسے ہی کئی مواقع پر میں نے جوانی کے الہڑ پنے اور اپنی دانست میں انہیں کلمہ حق سے بھی بہرہ مند کیا، اللہ معاف کرے۔ حیرت انگیز امر یہ رہا کہ اگلے ہی دن سے یا ہفتے سے ان کی طرف سے عمل ہوتا بھی نظر آنا شروع ہو جاتا تھا۔ موجودہ امیر جناب سراج الحق صاحب سے کھانے کی میز والا تعلق بہرحال موجود ہے۔ پروفیسر غفور صاحب مرحوم ستر کی دہائی میں جب کبھی میرے قصبے میں تشریف لاتے، اور اکثر تشریف لایا کرتے تھے تو دعوت طعام میرے ماموں کے گھر پر ہوا کرتی تھی۔ ماموں تو فوت ہوچکے تھے لیکن ماموں زاد فرشی دسترخوان پرمیرا کھسک کھسک کر پروفیسر صاحب کے قریب جگہ بنانا کن اکھیوں سے دیکھ کر مسکرا دیتے۔ رہے پروفیسر خورشید صاحب، تو ان سے ہی نہیں، ان کے ادارے سے بھی روز اول سے میں کسی نہ کسی طور پر آج بھی منسلک ہوں۔

کیا کیا جائے، سید منور حسن میرے لیے تاحیات دورافتادہ بلوچستان ہی ثابت ہوئے جہاں ادھر شمالی پاکستان کے کسی شخص کو جانا بہت کم نصیب ہوتا ہے۔ کچھ ایسا ہی حال سید صاحب کے حوالے سے میرا بھی رہا۔پھر ایک دن وہ میرے لئے راجستھانی راجپوت کیا بنے کہ میں خود کو ان کے "حلقہ احباب" میں اویس قرنی کے مثل سمجھنے لگا۔ احادیث کی صحت کو ذرا دیر کے لئے نظر انداز کر دیں۔ " ہم نے (مشتاق یوسفی نے) خان سیف الملوک خان کو بارہا راجستھانی راجپوتوں کی غیرت و شجاعت کی داستانیں سنائیں۔ مجال ہے کہ متاثر ہوئے ہوں۔ ایک دن برسبیل تبصرہ ہم نے کہہ دیا کہ تقسیم کے وقت جب ہم نے جے پور چھوڑا تو بناسپتی گھی بیچنا، خریدنا، بنانا، رکھنا اور کھانا راجستھان کی حدود میں تعزیری جرم تھا۔ چھ ماہ کی قید بامشقت ہوتی تھی۔ خان سیف الملوک خان پھڑک اٹھے۔ بولے: 'ہوئی ناں بات'۔ اس کے بعد کبھی راجپوتوں کا ذکر آتا تو بڑی توجہ اور احترام سے سنتے." ادھر ہمارے ممدوح, ہمارے بلوچستان, ہمارے راجستھانی راجپوت نے ایک دن کہہ دیا اور کہہ ہی نہیں دیا، کہے پر مرتے دم تک قائم بھی رہے کہ کارتوس سے نکلی گولی واپس نہیں آیا کرتی۔ جیو ٹی وی پرایک سوال کے جواب میں سید صاحب نے کہا:" وہ نہیں سمجھتے کہ طالبان کے ساتھ جنگ میں ہلاک ہونے والے فوجی شہید ہیں." سرکاری سطح پر اس بیان کی مذمت ہوئی، بیان واپس لینے کو کہا گیا، جماعت کو اپنا موقف دینے کو کہا گیا، جسے لیاقت بلوچ صاحب ہی نے نمٹا دیا۔

بس وہ دن اور آج کا دن، نہ تو میرے دل میں سید صاحب سے ملنے کی خواہش پیدا ہوئی (کیوں؟ آگے چل کر بتاؤں گا), نہ کبھی یہ موقع ملا کہ کہیں سر راہ ہی ان سے ملاقات ہو جائے۔بس دور ہی رہ کر میں ان کے ملفوظات سے لطف اندوز ہوتا رہتا۔ نہاں خانہ قلب و جگر میں تو میں تب انہیں جگہ دیتا کہ جب میں خود کو ان سے الگ کوئی وجود سمجھتا۔ وہی جسد واحد، محرم راز خالق کائنات کے فرمان والا کہ جس کے کسی ایک حصے میں چبھن ہو تو سارا جسم بے چین ہو جائے۔ طورخم کے ادھر جسد واحد اور طورخم کے اس جانب بھی جسد واحد۔ قابل مذمت تو وہ کٹھ پتلی ہے جو بحرِ اوقیانوس کے دو طرفہ پانیوں سے پرائی آگ اپنے گھر اٹھا لایا۔ آگ ہے کہ آج بھی بجھنے میں نہیں آ رہی۔ ہم مسلمانوں کی "وطنیت" کی شکل ذرا دیگر طرح کی ہے:

اس کی زمین بے حدود، اس کا افق بے ثغور

اس کے سمندر کی موج دجلہ و دینوب و نیل

مرحوم ڈاکٹر غازی صاحب نے مجھے ایک دفعہ سید کی دیگر نشانیوں میں سے ایک نشانی یہ بھی بتائی تھی کہ سید کچھ ہو سکتا ہے، بزدل نہیں ہوتا سید منور حسن نے سینہ تان کر ایک بات کہی اور مرتے دم تک اس پر قائم بھی رہے۔ یہ وہ صفت شجاعت ہے جس کے باعث میں ہمیشہ ان کا گرویدہ رہا۔تاہم یہ نہ سمجھ لیا جائے کہ دیگر سابق امراء جماعت۔۔۔۔سید مودودی رحمہ اللہ علیہ، میاں طفیل محمد رحمہ اللہ علیہ یا قاضی حسین احمد رحمہ اللہ علیہ۔۔۔۔ سید منور حسن سے کم تھے۔ 1963 میں جماعت کا لاہور میں منعقدہ سالانہ اجتماع یاد کیجئے۔ ایوبی آمریت گولیاں برسا رہی ہے اور سید مودودی سینہ تانے کھڑے ہیں۔ لوگ زخمی ہورہے ہیں اور اللہ بخش شہید ہوگئے۔ "مولانا بیٹھ جائیے". متانت بھرا یخ بستہ جواب دلاور سید ہی دے سکتا ہے: "اگر میں بھی بیٹھ گیا تو کھڑا کون رہے گا؟" میاں طفیل محمد کے حصے میں آئی متشددانہ قید اور ان کا چٹانی رویہ کیا تاریخ کا حصہ نہیں ہے؟ فرق صرف زمانے کا رہا ہے. اکیلے جنرلء ضیاالحق شہید نے افغانوں کی اس وقت مدد کی جب امریکی مخمصے کا شکار تھے. اور پھر پاکستان آرمی کے آہنی اعصاب کے مالک اس جرنیل نے جس طرح سوویت یونین کے درجن بھر ٹکڑے کیے، اس میں میاں طفیل محمد کی متانت آمیز خاموشی اور ان کے گہرے سکوت کا بھی بڑا دخل ہے. ہر عہد اور ہر عصر رواں کے ظروف اور پیمانے الگ الگ ہوا کرتے ہیں۔

افغانستان کی علاقائی سالمیت کا مکمل احترام کرتے ہوئے اسلامی جہادی قوتوں نے طالبان کی شکل میں افغانستان میں ایک اسلامی ریاست کی بنیاد رکھ تو دی تھی، ضیا الحق کے بعد کتنی محنت اور کتنے عرصے بعد؟ 1988 میں جنیوا مذاکرات کے آخری لمحات تک جنرل ضیاء الحق شہید ایک ہی بات پر مصر تھے کہ روسی افواج نکلنے سے قبل افغانستان میں ساتوں جہادی جماعتوں کی قابل قبول وسیع البنیاد حکومت قائم کی جائے، اور یہ کہ کابل کی اس وقت کی حکومت کو معزول کئے بغیر افغانستان میں امن قائم نہیں ہوسکتا۔ یہ بات کسی نے نہیں مانی۔ اور افغانستان میں امن آج بھی امید موہوم ہے۔ پھر یہ ہوا کہ اپنے پالنے میں پالے ہوئے اپنے مجاہد بچے دہشت گرد قرار پائے۔ملا عبدالسلام ضعیف کو تو چھوڑیں، اپنی بیٹی عافیہ صدیقی کی تو قیمت وصول کی گئی۔بحر اوقیانوس کے دو طرفہ ساحلوں سے اٹھنے والی ایک ہی 'ہو' ہماری کٹھ پتلیوں کو لحظہ بھر میں دیوانہ بنا دیتی ہے۔ پھر کون سی وسیع البنیاد حکومت اور کون سا امن؟ پرائی آگ گھر میں اٹھا لانے کا نتیجہ یہ نکلا کہ نیٹو کے جتنے فوجی اس جنگ کا ایندھن بنے، اس سے کئی گنا زیادہ ہمارے بھائی بیٹے بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ کی تفسیر بن گئے۔ ہماری بدقسمتی اور ناقابل بیان بدقسمتی یہ ہے کہ ہماری فیصلہ ساز اور مقتدر قوتیں، ذرائع ابلاغ اور اپنے انٹیلیجنٹس ذرائع پر انحصار کرتے ہوئے وہ فیصلے کر گزرتی ہیں جن کا زمینی حقائق سے زیادہ واسطہ نہیں ہوتا۔

افغانستان کے بارے میں ہمارے فیصلہ سازوں کے ذہن میں یہ بات بٹھا دی گئی ہے کہ افغانستان وہی کچھ کرتا ہے جو اسے ہندوستان کہتا ہے۔ شہروں، افغان اشرافیہ اور حکومت افغانستان کی حد تک یہ درست ہو سکتی ہے لیکن افغانستان کے عوام الناس کے بارے میں ایسا سوچنا بھی جہالت ہے۔ ہمارے صدیوں کے زمینی اور معاشرتی رشتوں کو نہ تو نیٹو کی اسلحہ بند قوتیں پامال کر سکی ہیں اور نہ ہندوستانی فلموں میں اتنی جان ہے کہ وہ پاکستانی اور افغان عوام میں کوئی دراڑ ڈال سکیں۔ ہمارے فیصلہ ساز اگر افغان عوام میں سائنسی بنیادوں پر کسی سروے کا بندوبست کرکے نتائج سامنے رکھیں تو انہیں افغان حکومت اور افغان عوام میں وہی فرق دیکھنے کو ملے گا جو اپنے ہاں پاکستانی حکومت اور پاکستانی عوام میں پایا جاتا ہے۔ سرحد کے اس طرف کی اسٹیبلشمنٹ اگر سوویت یونین کے لاشے سے اٹھنے والی سڑاند ہے تو ادھر اپنی طرف 14 اگست 1947 کے بعد کیا ہم نے برطانوی استعمار کو اپنی ہر اکیڈمی، ہر تربیتی یونٹ اور ہر ادارے میں حنوط کرکے نہیں رکھ دیا؟ کسی ایک ادارے کا نام بتائیے جس کا خمیر اپنی آزاد پاکستانی خاک سے کسی نے اٹھایا ہو۔ اب قارئین کو بخوبی سمجھ جانا چاہیے یہ سارے مل کر دینی مدارس اور مساجد کے نظام کے پیچھے کیوں پڑے ہوئے ہیں۔

اس تناظر میں سید منور حسن نے نومبر2013 کے دور پر آشوب میں جو بیان دیا تھا، وہ پاکستان اور افغانستان کے مسلمانوں کی نمائندہ آواز تھی۔ تو پھر پاکستانی عوام کا نمائندہ ہے کون؟ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں اور پاکستان کی پارلیمان! یہ اس کا جواب ہے۔ ان سب میں اختلاف رائے بھی ہے, مناظرے کی کیفیت بھی دیکھی جاسکتی ہے لیکن یہی عوام کی نمائندہ برادری ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سید مرحوم کے اس ابتدائی مصرع طرح پر مولانا فضل الرحمٰن پوری غزل کہہ گئے: "امریکہ جس کو قتل کرے گا, اگر وہ کتا بھی ہوگا تو میں اسے شہید کہوں گا" میری عمر کے لوگ تو شاید مورخ کی لکھی تاریخ نہ پڑھ سکیں کہ ہمیں تو خود پتا ہے لیکن ہماری آئندہ نسلوں کے رگ و ریشے میں یہ حقیقت سرایت کر چکی ہوگی کہ پاکستان آرمی کے ایک بہادر اور دلاور جرنیل نے سوویت یونین کو بکھیر کر دو مسلم ممالک میں جس نوزائیدہ اسلامی مملکت کی بنیاد رکھی تھی، بعد میں آنے والے بزدلوں نے نیٹو سے مل کر اس نئی اسلامی مملکت ہی کے نہیں، دونوں مسلم ممالک کے بخیے ادھیڑ کر رکھ دیئے۔ اس کے باوجود یہ جنگ ختم نہیں ہوئی۔ تہران کے عالم مشرق کا جنیوا ہونے تک یہ جنگ جاری رہے گی۔

نچلی سطح پر دبی دبی سرگوشیاں تو ہم سالہا سال تک سنتے پڑھتے رہے، سید منور حسن کی یہ توانا آواز سناٹے پر وہ پہلا ہتھوڑا تھا جس نے مقتدر پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کے اندر تزلزل پیدا کر دیا۔ اسی آواز نے مجھے ان کی ریش بے گرہ کا یوں اسیر کر دیا کہ پھر کبھی مجھے ان کے تفصیلی حسب نسب پر نظر ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی، اور نہ ان سے کبھی ملاقات کی خواہش کو میں نے دل میں جگہ دی۔ اس کی وجہ بھی بتا دیتا ہوں۔جب کبھی میں نے کسی بہادر، جری اور شہرت یافتہ شخصیت سے ملاقات کی خواہش کو دل میں جگہ دی، اللہ معاف کرے میرا وہم سمجھ لیجئے، اسے اللہ نے اپنے پاس بلا لیا۔ اس سلسلے کی آخری کڑی ایئر مارشل نور خان تھے جو عملی زندگی میں میرے لئے ہمیشہ ایک مثال رہے۔میرے دوست ایئرکموڈور جاوید عنایت نے ایئر فورس کے ایک دوسرے سینئر افسر جناب شہزور صاحب کے ذمہ لگایا کہ ایئر مارشل سے میری ملاقات کا اہتمام کرو۔ ابھی یہ آپ جناب ہو ہی رہی تھی کہ ائیر مارشل اللّٰہ کو پیارے ہوگئے اور میں بھی محتاط ہوگیا۔ پھر جس کسی پر دل آیا تو اویس قرنی کے نقش قدم پر چل کر خود کو ملاقات سے باز رکھا۔ رب کریم سے التجا ہے کہ وہ میرے ممدوح سید کو ان کے نانا اور محرم راز خالق کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے قرب میں کہیں جگہ دے۔ آمین۔

مزید :

رائے -کالم -