لاہور ہائیکورٹ نے اعظم سلمان کی بطور صوبائی محتسب تقرری عدالتی فیصلے سے مشروط کر دی

لاہور ہائیکورٹ نے اعظم سلمان کی بطور صوبائی محتسب تقرری عدالتی فیصلے سے ...

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمدقاسم خان اور مسٹر جسٹس عاصم حفیظ پرمشتمل ڈویژن بنچ نے سابق چیف سیکرٹری پنجاب اورسابق وفاقی وزیرداخلہ میجر (ر) اعظم سلمان کی بطور صوبائی محتسب تقرری کوعدالتی فیصلے سے مشروط کردیاہے،فاضل بنچ نے قراردیا کہ اگر حتمی فیصلے میں تقرری کا نوٹیفیکیشن کالعدم ہوا تو اس پر آنے والے تمام اخراجات متعلقہ حکومتی افسروں سے وصول کئے جائیں گے،چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بظاہر لگتا ہے اعظم سلمان خان بڑوں کا چہیتا لگتا ہے،اگر صرف دیانتداری کی بات ہے تو میرا نائب قاصد بھی بڑا دیانتدار ہے،اس کو صوبائی محتسب پنجاب لگا دیں؟ عدالت نے 15 جولائی کو اعظم سلیمان کی تقرری کی سمری اور قبل از وقت ریٹائرمنٹ کی تفصیلات اور تفصیلی جواب کے ساتھ پیش کرنے کا حکم دے دیاہے۔دوران سماعت چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ لگتا ہے کہ منصوبہ پہلے سے تیارتھا،اسی وجہ سے اعظم سلمان نے قبل ازوقت ریٹائرمنٹ لی جس کے فوری بعد انہیں صوبائی محتسب لگا دیاگیا،چیف جسٹس نے استفسار کیاکہ کیا ایک صوبائی محتسب جو ہائیکورٹ کا سابق جج بھی نہیں تو وہ کیسے کسی سیشن جج کو حکم دے سکتا ہے؟ جسٹس عاصم حفیظ نے درخواست گزار سے استفسارکیا کہ کیا آپ نے صوبائی محتسب کی تعیناتی چیلنج کی ہے یا قانون کی شق کو چیلنج کیا ہے؟ وکیل نے کہا کہ انہوں نے صوبائی محتسب کی تقرری کو چیلنج کیا ہے،چیف جسٹس نے سرکاری وکیل سے استفسار کیاکہ کیا ایک شخص قانون سے نابلد ہو وہ کیسے ایک جج کے اختیارات استعمال کر سکتا ہے؟ وہ تو کچھ عرصہ پہلے ریٹائرمنٹ لے کر آ گیا ہے،پنجاب حکومت کے وکیل آصف بھٹی نے کہاکہ درخواست گزار متاثرہ فریق نہیں، اگر درخواست گزار نے تعیناتی چیلنج نہیں کی تو بھی درخواست گزار کے متاثرہ فریق ہونے کو دیکھنا ہو گا،17 سال بعد قانون کی ترمیم کو چیلنج کیا گیا ہے، چیف جسٹس نے کہاکہ 1700 سال بعد بھی قانون چیلنج ہو سکتا ہے، ہم نے قانون کو دیکھنا ہے کہ اس کا دیباچہ کیا کہہ رہا ہے،گز شتہ کچھ عرصے میں صوبائی محتسب سے متعلقہ مقدمات بڑی تعداد میں عدالتوں میں براہ راست آئے ہیں،لگتا یہ ہے کہ صوبائی محتسب کا دفتر کام تو کر رہا تھا مگر لوگوں کا اعتماد نہیں تھا،اگر صرف دیانتداری کی بات ہے تو میرا نائب قاصد بھی بڑا دیانتدار ہے،اس کوصوبائی محتسب پنجاب لگا دیں؟ عدالتی معاون ملک اویس خالد نے کہاکہ اگر کوئی شخص لاہور ہائیکورٹ کا جج بننے کا اہل ہو اور دیانتدار بھی ہو اسے صوبائی محتسب تعینات کیا جا سکتا ہے، فاضل بنچ نے اعظم سلمان کی صوبائی محتسب پنجاب تقرری کے خلا ف دائردرخواست سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے پنجاب حکومت سے تقرری کا مکمل ریکارڈ15جولائی کو طلب کرلیاہے۔درخواست گزار ظہیر عباس کے وکیل وقار اے شیخ کی طرف سے موقف اختیار کیا گیاہے کہ اعظم سلیمان کو صوبائی محتسب لگانے کے لئے قانون میں ترمیم کر دی گئی، ترمیم کر کے نامور شخصیت کو بھی صوبائی محتسب تعینات کرنے کا لفظ شامل کر دیا گیا ہے، ترمیم سے قبل قانون کے تحت ہائیکورٹ کے سابق جج کو تعینات کیا جا سکتا تھا،کسی بھی بیورو کریٹ کو اٹھا کر لگا دیا جائے تو کہا جائے کہ نامور اور قابل اعتماد شخصیت ہے،سابق بیورو کریٹ اعظم سلیمان کو غیر قانونی طور پر صوبائی محتسب تعینات کیا گیا ہے، وکیل نے نکتہ اٹھایاکہ صوبائی محتسب کے عہدے پر ایسے شخص کوتعینات کیا گیا ہے جس نے حال ہی میں گریڈ 22 کی سرکاری نوکری سے ریٹائرمنٹ لی ہے، صوبائی محتسب کے عہدے پر تعیناتی سے قبل چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ سے بھی مشاورت نہیں کی گئی، صوبائی محتسب کے کلرک کی بھرتی کے لئے بھی اہلیت مقرر ہے مگر صوبائی محتسب کے پنجاب کی تقرری کے لئے کوئی اہلیت مقرر نہیں کی گئی، جس کی ہمدردیاں حکومت کے ساتھ ہیں،عدالت سے استدعاہے کہ اس تقرری کو کالعدم قراردیا جائے۔

صوبائی محتسب

مزید :

صفحہ آخر -