پنجاب اسمبلی اجلاس ہوٹل میں کرانے کیخلاف درخواست سماعت کیلئے منظور

پنجاب اسمبلی اجلاس ہوٹل میں کرانے کیخلاف درخواست سماعت کیلئے منظور

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی) چیف جسٹس لاہورہائی کورٹ مسٹر جسٹس محمد قاسم خان نے پنجاب اسمبلی کا اجلاس پرائیویٹ ہوٹل میں کرانے کے خلاف دائردرخواست سماعت کے لئے منظور کرتے ہوئے فریقین کو نوٹس جاری کردیئے ہیں،فاضل جج نے ریمارکس دیئے ہیں کہ اگر درخواست میں گورنر کے اختیارات منتقلی کا نکتہ ثابت نہ ہوا تو 5 لاکھ روپے جرمانے کے ساتھ درخواست مسترد کی جائے گی،درخواست میں پنجاب حکومت، سپیکر صوبائی اسمبلی سمیت دیگرکو فریق بنایا گیاہے،درخواست گزارخاتون شہری انجم حمید کے وکیل سے دوران سماعت چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ اسمبلی کا اجلاس پرائیوٹ ہوٹل میں کروانے کا نوٹیفکیشن آپ کی درخواست میں لف ہے؟ رولز آف بزنس میں کیا کہا گیا ہے اسمبلی اجلاس کہاں ہونا ہے؟ وکیل نے بتایا کہ رولز آف بزنس میں کوئی جگہ مخصوص نہیں کی گئی ہے،پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے لئے جگہ مخصوص کرنے کا فیصلہ گورنر کی صوابدید پر چھوڑا گیا ہے، صوبائی اسمبلی کا اجلاس غیر سرکاری جگہ پر بلا کر حب وطنی کو توڑا گیا ہے، چیف جسٹس درخواست گزار کے وکیل سے مکالمہ کیا کہ آپ صوبائی اسمبلی کے ممبران کی وفاداری پر بہت بڑا الزام لگا رہے ہیں، مجھے قانون بتائیں کہ کیسے پنجاب اسمبلی کا اجلاس فلاں جگہ پر نہیں ہو سکتا؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میڈیا سکورنگ کے لئے درخواست دائر نہ کریں،وکیل نے کہا کہ کورونا وائرس کی وجہ سے بجٹ خسارہ بڑھ گیا ہے،اس صورت میں بھی اجلاس پرائیوٹ ہوٹل میں بلایا گیا، سرکاری عمارات کی موجودگی میں پرائیویٹ ہوٹل میں اسمبلی کا اجلاس بلانا عوام کے ٹیکس کے پیسے کا ضیاع ہے، گورنر پنجاب نے سپیکر کو اجازت دی ہے کہ وہ جو جگہ مناسب سمجھیں اجلاس منعقد کریں، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا گورنر پنجاب اپنے اختیارات آگے منتقل کر سکتے ہیں؟ ہو سکتا ہے سپیکر اجلاس اپنے گھر بلا لے اور ہو سکتا ہے کچھ لوگ اس کے گھر آنا پسند نہ کریں،وکیل نے کہا کہ وزیراعظم پاکستان سادگی اختیار نہ کرنے اور فضول خرچی نہ کرنے کے دعوے کرتے رہے ہیں،ارکان اسمبلی کے اجلاس کے لئے پنجاب اسمبلی کی عمارت قائم کی گئی ہے،فاضل جج نے مذکورہ بالاریمارکس کے ساتھ کیس کی مزید سماعت آئندہ تاریخ پیشی تک ملتوی کردی۔درخواست گزار کاموقف ہے کہ پنجاب اسمبلی کے ارکان کا اجلاس 5 جون 2020 ء کو نجی ہوٹل میں منعقد کیا گیا، شہریوں کے ٹیکس کی رقم صوبائی اسمبلی کے پرائیویٹ ہوٹل میں ہونے والے اجلاس پر خرچ نہیں کی جاسکتی،شہریوں کے ٹیکس کی رقم حکومتی اراکین کی آرائش کے لئے بھی استعمال نہیں ہوسکتی، عدالت سے استدعا ہے کہ صوبائی اسمبلی کے پرائیویٹ ہوٹل میں ہونے والے اجلاس کے اقدام کو کالعدم جبکہ صوبائی اسمبلی کے پرائیویٹ ہوٹل میں ہونے والے اجلاس کے اخراجات کی لاگت کی تفصیلات طلب کی جائیں،درخواست میں یہ استدعا بھی کی گئی ہے کہ صوبائی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پرائیوٹ ہوٹل میں ہونے والے اخراجات واپس سرکاری خزانے میں جمع کرانے کا حکم بھی دیا جائے۔

پنجاب اسمبلی اجلاس

مزید :

صفحہ آخر -