ٹرانسمیشن لائن بچھانے کیخلاف درخواست پرمزیدبحث کیلئے تمام فریقین 8 جولائی کو طلب

    ٹرانسمیشن لائن بچھانے کیخلاف درخواست پرمزیدبحث کیلئے تمام فریقین 8 ...

  

لاہور(نامہ نگارخصوصی) لاہور ہائی کورٹ کی جسٹس عائشہ اے ملک نے سندھ میٹیاری سے ننکانہ صاحب تک ڈائریکٹ کرنٹ (ڈی سی)کی ٹرانسمیشن لائن بچھانے کے خلاف دائردرخواست پرتحفظ ماحولیات ایجنسی، این ٹی ڈی سی، نیپرا، سیکرٹری صحت، واپڈا سمیت تمام فریقین کو 8 جولائی کو مزید بحث کے لئے طلب کر لیاہے،درخواست گزارعائشہ وارثی کی طرف سے آمنہ وارثی ایڈووکیٹ نے موقف اختیار کیا ہے کہ سندھ مٹیاری سے ننکانہ صاحب تک 878 کلو میٹر لمبی ڈائریکٹ کرنٹ بجلی کی ٹرانسمیشن لائن بچھائی جا رہی ہے، ای ٹی ڈی سی ایل اور پاک میٹیاری کمپنی نے اپنے جواب میں 346 کلو میٹر ٹرانسمیشن لائن کا روٹ تبدیل کرنے کا اقدام تسلیم کیا ہے،ڈائریکٹ کرنٹ ٹرانسمیشن لائن کو گھوٹکی، رحیم یار خان اور بہاولپور کی آبادیوں کے اوپر سے گزارے جانے کو ای ٹی ڈی سی ایل کے جواب میں تسلیم کیا گیا ہے، بڑے فاصلے کی ہائی وولٹیج بجلی ٹرانسمیشن لائنز کے الیکٹرک اور میگنیٹک شعائیں مضر صحت ہیں، محکمہ صحت مٹیاری سے ننکانہ صاحب تک بجلی ٹرانسمیشن لائن بچھانے پر انسانوں پر مضر اثرات کے خدشات کا اظہار کر چکا ہے، ڈائریکٹ کرنٹ بجلی ٹرانسمیشن لائن بچھانے کیلئے وفاقی اور صوبائی تحفظ ماحولیات ایجنسی منظوری نہیں لی گئی، نیپرا نے بجلی ٹرانسمیشن لائن کیلئے ٹیرف بھی پالیسی اور قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے طے کیا ہے، فاضل جج نے استفسار کیا کہ کیا عدالت کو مفاد عامہ کی درخواست میں نیپرا کے ٹیرف پالیسی کا جائزہ لینے کا اختیار ہے؟ وکیل نے کہا کہ آئین میں دیئے گئے اختیارات کے تحت عدالت کو انتظامی معاملات پر جوڈیشل ریویو کا اختیار حاصل ہے، مٹیاری تا ننکانہ صاحب بجلی ٹرانسمیشن لائن کا پہلا روٹ صحرا سے گزر رہا تھا جسے تبدیل کر دیا گیا، مٹیاری تا ننکانہ صاحب بجلی ٹرانسمیشن لائن میں کئی کھیت، دیہاتی و شہری آبادی بھی آ رہی ہے، ہائی وولیٹج بجلی ٹرانسمیشن لائنز سے نہ صرف انسان بلکہ جانور، فصلوں، مٹی، پانی اور ماحول پر مضر اثرات مرتب ہوں گے، ٹرانسمیشن لائن بچھانے کا ٹھیکہ بھی غیر قانونی طور پر دیا گیا ہے، پاک مٹیاری لاہور ٹرانسمیشن کمپنی کے تمام شیئرز غیر ملکی ہیں، پاک مٹیاری،لاہور ٹرانسمیشن کمپنی کو ٹھیکہ 25 برس کیلئے دیا گیا جو پیپرا رولز کی خلاف ورزی ہے، ڈائریکٹ کرنٹ بجلی ٹرانسمیشن لائن بچھانے والی کمپنی کو ٹھیکہ ٹینڈر جاری کئے بغیر دیا گیا،عدالت سے استدعاہے کہ حکومت کی پاور سیکٹر کی رپورٹ کو ریکارڈ کا حصہ بنایا جائے،درخواست میں مزید استدعا کی گئی ہے کہ حکومتی رپورٹ کی روشنی میں لاہور-میٹیاری ٹرانسمیشن لائن پر آنے والے اخراجات پر انکوائری کمیشن بنا کر فرانزک آڈٹ بھی کروایا جائے، محکمہ ماحولیات کی منظوری کے بغیر شروع کیا گیا بجلی ٹرانسمیشن لائن کا پراجیکٹ غیر قانونی قرار دیا جائے، پاک مٹیاری-لاہور ٹرانسمیشن کمپنی کو 25 برس کیلئے دیا گیا لائسنس غیر قانونی قرار دیا جائے اورمحکمہ ماحولیات کو این ٹی ڈی سی، ہراجیکٹ ڈائریکٹر اور چیف انجینئر کے خلاف بھی کارروائی کا حکم دیا جائے جبکہ مٹیاری سے ننکانہ صاحب تک بجلی ٹرانسمیشن لائن کا پراجیکٹ غیر قانونی اور آئینی قرار دے کر کالعدم کیا جائے۔

ٹرانسمیشن لائن

مزید :

صفحہ آخر -