سلامتی کونسل نے متنازعہ کوروناوائرس قرارداد کی منظوری دے دی

    سلامتی کونسل نے متنازعہ کوروناوائرس قرارداد کی منظوری دے دی

  

نیویارک (آن لائن)کورونا بحران کے دوران دنیا بھر میں ہتھیاروں کی خاموشی کو یقینی بنایا جائے۔ یہ وہ قرارداد ہے جس پر امریکہ اور چین کے مابین ایک طویل عرصے سے تنازع چلا آ رہا تھا۔ سلامتی کونسل نے جرمنی کی قیادت میں اس کی منظوری دے دی۔کورونا بحران کے دوران دنیا بھر میں ہتھیاروں کی خاموشی کو یقینی بنانے سے متعلق قرارداد کی منظوری دے کر سلامتی کونسل نے مہینوں سے امریکہ اور چین کے مابین تنازع کا باعث بنے ہوئے ایک اہم موضوع پرعالمی برادری کی تشویش دور کرنے کی کوشش کی ہے۔ تین ماہ سے زیادہ عرصے سے بحث و مباحثے کے بعد، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے متفقہ طور پر متنازعہ کورونا قرار داد کو منظور کر لیا ہے۔فرانس اور تیونس کی طرف سے پیش کردہ قرارداد کے متن میں بنیادی طور پر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرش کی طرف سے کورونا وائرس کی وباکے دوران مسلح تنازعات روکنے کے مطالبے کی حمایت کی گئی ہے۔ استثنائی طور پر صرف جہادیوں کے خلاف فوجی آپریشن کی اجازت ہو گی۔ اس کے علاوہ اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ کورونا کے موجودہ بحران کے دوران کم سے کم 90 دن کا ''انسان دوست وقفہ“ بھی ضروری ہے تاکہ متاثرہ علاقوں میں لوگوں کو امدادی سامان پہنچایا جاسکے۔سلامتی کونسل کی دو ویٹو طاقتوں امریکا اور چین کے مابین پائی جانے والی کشیدگی اور تنازع اس قرارداد کی منظوری کی راہ میں رکاوٹ بنا ہوا تھا۔ دیگر موضوعات کے علاوہ مرکزی نکتہ جس پر سوال اٹھایا جا رہا تھا وہ یہ تھا کہ آیا اس قرارداد کی متن میں عالمی ادارہ صحت ڈبلیو ایچ او کا ذکر شامل ہونا چاہیے یا نہیں؟ ویٹو پاور امریکا، جو ڈبلیو ایچ او پر الزام عائد کرتا رہا ہے کہ یہ عالمی ادارہ کورونا بحران سے مؤثر طریقے سے نمٹنے میں ناکام رہا ہے، جبکہ چین آخری لمحوں تک اس کی وکالت اور حمایت کرتا رہا۔

کورونا قرارداد

مزید :

صفحہ آخر -