سوشل میڈیا پر سیاستدانوں کی کردار کشی، سینیٹ قائمہ کمیٹی آئی ٹی کا شدید تحفظات کا اظہار

  سوشل میڈیا پر سیاستدانوں کی کردار کشی، سینیٹ قائمہ کمیٹی آئی ٹی کا شدید ...

  

اسلام آباد (این این آئی)سینیٹ قائمہ کمیٹی آئی ٹی نے سوشل میڈیا پر سیاستدانوں کی کردارکشی پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ حکومت اپوزیشن اراکین و سیاسی قیادت کیخلاف سوشل میڈیاپر پروپیگنڈہ کرنیوالوں کیخلاف اقدامات اٹھائے،کسی کو بھی کسی لیڈر یا شہری کی کردار کشی کی اجازت نہیں دینگے، اگرآج بلاول بھٹو زرداری کیخلاف جا ر ی کردارکشی مہم نہ روکا گیا تو یہی لوگ کل عمران خان اور نوازشریف کیخلاف مہم چلائینگے، اسطرح کے پروپیگنڈہ اور جھوٹے الزامات لگانیوالوں کیخلاف سخت اقدامات لئے جائیں۔ایوان بالاء کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونی کیشن کا اجلاس چیئر پرسن کمیٹی سینیٹر روبینہ خالد کی زیر صدارت پارلیمنٹ ہاؤس میں منعقد ہوا۔ قائمہ کمیٹی کے اجلا س میں ملک کے پسماندہ اور دور دراز علاقوں کے طلبہ کو آن لائن کلاسزاور انٹرنیٹ سروسز سے متعلق درپیش مسائل کے حوالے سے بھی معاملات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ چیئر پر سن کمیٹی سینیٹر روبینہ خالد نے کہا کہ کورونا وباء کی وجہ سے دنیا کے حالات تبدیل ہو چکے ہیں،چیئرمین سینیٹ صادق سنجرانی کے مشکور ہیں جنہوں نے ملک کو درپیش چیلنج کے حوالے سے پاپندیوں کے باوجود کمیٹی کے اجلاس کی اجازت دی۔ پڑھی لکھی نسل کسی بھی ملک کے روشن مستقبل کی ضمانت ہوتی ہے،افسوس کی بات ہے کاروبار کے حوالے سے لوگوں کو تحفظا ت ضرور ہیں مگر ملک کے بچوں کی تعلیم کیلئے آواز نہیں اٹھائی جا رہی، کئی ماہ سے تعلیمی ادارے بند ہیں، آن لائن کلاسز اور امتحانات کے حوالے سے بے شمار مسائل سامنے آ رہے ہیں لیکن کوئی اقدامات نہیں اٹھائے جا رہے۔ وزارت تعلیم، ہائر ایجوکیشن، وزارت انفارمیشن ٹیکنالوجی اینڈ ٹیلی کمیونی کیشن موثر طریقہ کار مرتب کریں تا کہ بچوں کو تعلیم کے بہترمواقع میسر ہو سکیں۔ آن لائن کلاسز کیلئے بیشمار لوگوں کو رسائی میسر اورنہ ہی کثیر تعدادسہولیات خریدنے کی استعدادکے حامل،ایسے میں حکومت کو موبائل فون اور لیپ ٹاپ سستا کرنا ہونگے، اس حوالے سے ایف بی آر بھی کمیٹی کو آگاہ کرے اور ایمپورٹ ڈیوٹی کم کرنے کیساتھ ساتھ فون رجسٹریشن فیس بھی کم ہونی چاہئے۔ سب سے بڑا مسئلہ سرکاری سکولوں کے وہ غریب بچے اور اساتذہ ہیں جن کی اتنی موثر قابلیت نہیں کہ وہ آن لائن کلاسز کے ذریعے موثر مستفید کر سکیں،اساتذہ کی آن لائن کلاسز کیلئے تربیت اور غریب طلبہ کو آئی ٹی سہولیات میسرکرنا جہاں وقت تقاضا ہے،وہیں اس مسئلے کو فوری حل کرناناگزیر ہے۔اس موقع پر سینیٹ میں قائد ایوان سینیٹر ڈاکٹر شہزاد وسیم نے دور دراز علاقوں میں آن لائن کلاسز میں مشکلات کے فوری حل کیلئے سٹیزن ڈیجیٹل کونیکٹیوٹی ہاٹ سپاٹCitizen Digital Connectivity HotSpotبنانے کی تجویز دی تا کہ دور دراز علاقوں میں عام لوگوں کی ڈیجیٹل ٹیکنا لوجی تک رسائی آسان بنائی جا سکے۔ انکاکہنا تھا کویڈ 19کے دوران حکومت نے ڈیجیٹل ٹیکنا لوجی کا موثر استعمال کیا ہے، سمارٹ فون کی ملک میں تیاری کے منصوبے کے دور رس نتائج نکلیں گے۔حکومت ڈیجیٹل کی اہمیت سے پہلے ہی واقف تھی یہی وجہ ہے کہ ڈیجیٹل پاکستان جس کا کورونا کے چیلنج کے دوران استعمال کیا گیا پی ٹی آئی حکومت کی دوراندیشی کا ثبوت ہے، تاہم ڈیجیٹل پاکستان کے ویژن پر کام مزید تیز کرنا ہو گا۔اجلاس میں کمیٹی کے ارکان نے ڈیجیٹل کونیکٹیوٹی کے حوالے سے قائدایوان کی تجویز کی بھر ستائش اور تائید کی اور اس پر فوری طور پر عمل درامد کا مطالبہ کیا۔سینیٹر رحمان ملک نے کہا پہلے ہمیں اسٹیڈی کرنی چاہئے کہ کونسے پسماندہ علاقے ہیں اور کن علاقوں میں انٹرنیٹ کی سہولیت میسر نہیں ہے۔ انہوں نے کہا مختلف نیٹ ورک سروسز کے ٹاورز غیر ملکیوں کو فروخت کئے جا رہے ہیں اگر یہ سچ ہے تو یہ سکیورٹی رسک ہو گا۔ ہمیں اپنی ذمہ داریوں سے غافل نہیں ہونا چاہئے تا کہ کوئی دشمن ملک ہمارے ٹاورز کو استعمال نہ کر سکے۔ جس پر سینیٹر شہزاد وسیم نے کہا دنیا میں ایک نیا کنسپٹ ٹاور شیئرینگ رائج ہو چکا ہے جس سے کیپٹیل کاسٹ کم ہوتی ہے اور ہر کمپنی کو ٹاور لگانے کی ضرورت نہیں پڑتی اس سے فائدہ زیاد ہ اور نقصان کم ہوتا ہے البتہ ان معاملات میں سیکورٹی کو بھی ملحوظ خاطر رکھنا ہو گا۔ سینیٹر ز کلثوم پروین، ثنا ء جمالی، تاج محمد آفریدی، فدا محمد، فیصل جاوید اور نصیب اللہ بازئی کے علاوہ وفاقی وزیر آئی ٹی سید امین الحق، ایڈیشنل سیکرٹری وزارت آئی ٹی، چیئرمین پی ٹی اے، ایم ڈی ایچ ای سی اور دیگر اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔ اس موقع پر چیئرمین پی ٹی اے نے کہا کہ پاکستان کی 80فیصد آبادی کیلئے انٹرنیٹ کی سہولت موجود ہے اور صرف 40سے 45 فیصدلوگ انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں۔ فاٹا میں یو ایس ایف نے بڑا کا م کیا ہے اور سیکورٹی کی وجہ سے چند علاقوں میں ڈیٹا سروسز بند ہیں لوگوں کو ریلیف دینے کیلئے فکسڈ انٹرنیٹ چل رہا تھا جس کے 9ہزار کنکشن تھے اور 4900کا مزید اضافہ کر دیا ہے سیکورٹی اداروں کیساتھ جائزہ لے رہے ہیں جہاں سکیورٹی کے مسائل نہیں ہیں وہا ں سہولت فراہم کر دی جائے گی۔ پب جی گیم کے حوالے سے پی ٹی اے کو شکایات موصول ہو رہی تھی جس کو عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ ایم ڈی ایچ ای سی ڈاکٹر نادیہ طاہر نے کمیٹی کو بتایا یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر سے متعدد تفصیلی متعدد کی ہیں ملک میں 20 لاکھ بچے یونیورسٹیوں میں زیر تعلیم ہیں ایچ ای سی نے تمام پرائیویٹ یونیورسٹیوں کا سروے کیا ہے کہ وہ آن لائن تعلیم دے سکتے ہیں اس کیلئے 6 گائیڈلائنز کیساتھ آن لائن کلاسز شروع کی ہیں،تاہم بیس لاکھ طلبہ میں سے پانچ لاکھ کے پاس انٹرنیٹ کی سہولت نہیں،ان کیلئے حکومت کو پلان دیدیا ہے۔ بچوں کو تعلیمی اداروں میں آنے جانے کے علاوہ دیگر مسائل بھی ہیں ملک میں صرف 4فیصد بچے ہی اعلیٰ تعلیم حا صل کرتے ہیں 10تا 15فیصد ہونا چاہئے،کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایچ ای سی نے 53ہزار اساتذہ کی آن لائن تعلیم کیلئے ٹریننگ کرائی ہے پہلے 209یونیورسٹیوں میں سے 35آن لائن کی سہولت فراہم کر سکتی تھی اب 135 آن لائن تعلیم دے سکتی ہے اور ہر بچے کے امتحانات کے حوالے سے مسائل بھی سننے جا رہے ہیں یونیورسٹیوں کو پابند کیا ہے کہ بجلی یا کسی انٹرنیٹ کی وجہ سے اگر کوئی بچہ امتحان نہیں دے سکا تو اس کا دوبارہ امتحا ن لیا جائے۔ وزارت تعلیم کے حکام نے کمیٹی کو بتایا کہ ایک ٹی وی چینل کے ذریعے ماہر اساتذہ کی ایک ٹیم بنائی ہے جو ہر کلاس کے بچوں کوآن لائن تعلیم دے رہی ہے 5فیصد ایسے پرائیویٹ سکول ہیں جن کی فیس پانچ ہزار سے زیادہ ہے کمیٹی کو بتایا گیا کہ سرکاری اسکولوں کے اساتذہ کی آن لائن کلاسز کیلئے تربیتی پروگرام بھی ترتیب دیئے گئے ہیں۔

سینیٹ قائمہ کمیٹی

مزید :

صفحہ آخر -