ہمیں عالمی چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے بین الاقوامی تحقیق کومنظر عام پر لانا ہو گا: شاہ محمود قریشی

      ہمیں عالمی چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے بین الاقوامی تحقیق کومنظر عام پر ...

  

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر، مانیٹرنگ ڈیسک)وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہمیں علاقائی اور عالمی چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے بین الاقوامی سطح کی تحقیق کو منظر عام پر لانا ہو گا،کوووڈ 19 نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا ہے پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کیلئے اس عالمی چیلنج سے نمٹنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے،انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کے تحقیقاتی کام کی خود نگرانی کروں گا۔وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی کی زیر صدارت آنسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز سے وابستہ محققین کا اجلاس ہوا جس میں سیکرٹری خارجہ سہیل محمود، اسپیشل سیکرٹری معظم احمد خان، ڈی جی فارن سروس اکیڈمی ندیم ریاض کے علاوہ وزارت خارجہ کے سینئر افسران نے شرکت کی۔وزیر خارجہ کو انسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کی کارکردگی اور پبلیکیشنز کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی ۔ وزیر خارجہ نے کہاکہ آنسٹیٹیوٹ آف ریجنل اسٹڈیز کی ذمہ داریوں میں کء گنا اضافہ ہو چکا ہے۔وزیر خارجہ نے کہاکہ ہمیں علاقائی اور عالمی چیلنجز کو سامنے رکھتے ہوئے بین الاقوامی سطح کی تحقیق کو منظر عام پر لانا ہو گا۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ممالک کیلئے اس عالمی چیلنج سے نمٹنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔وزیر خارجہ شاہ محمود قویشی نے کرونا وبا کے تناظر میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں جاری دوہرے لاک ڈاؤن اور 80 لاکھ نہتے کشمیریوں کی حالت زار سے ڈنمارک کے وزیر خارجہ کو آگاہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ نہتے کشمیریوں کو بھارتی استبداد سے نجات دلانے کیلئے ڈنمارک سمیت عالمی برادری کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا،بھارت، اقوام متحدہ کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کو پس پشت ڈالتے ہوئے ڈومیسائل ضوابط میں تبدیلی کے ذریعے مقبوضہ جموں و کشمیر میں آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنا چاہتا ہے،عالمی برادری کو بھارتی رویے کا فوری نوٹس لیناچاہیے۔ جمعرات کو وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے ڈنمارک کے وزیر خارجہ جیب کوفوڈ کے ساتھ ویڈیو لنک کے ذریعے رابطہ کیا جس میں دونوں وزرائے خارجہ کے مابین دو طرفہ تعلقات، کرونا وبائی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ڈنمارک کے وزیر خارجہ نے پاکستان کے ساتھ گذشتہ سات دہائیوں سے قائم دو طرفہ تعلقات کی نوعیت پر اطمینان کا اظہار کیا۔وزیر خارجہ نے اپنے ڈینش ہم منصب کو، پاکستان کی طرف سے اس عالمی وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے اٹھائے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔ شاہ محمود قریشین ے کہاکہ پاکستان، جیسے ترقی پذیر ممالک کیلئے کرونا وبا کے معاشی مضمرات سے نمٹنا ایک بہت بڑا چیلنج ہے۔ انہوں نے کہاکہ کرونا عالمی وبائی صورتحال کے پیش نظر ترقی پذیر ممالک کی معیشتوں کو سہارا دینے کیلئے وزیراعظم عمران خان نے ترقی پذیر ممالک کیلئے عالمی سطح پر ڈیٹ ریلیف کی فراہمی کی تجویز دی ہے تاکہ یہ ممالک اپنے وسائل، کورونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے اور انسانی زندگیوں کو بچانے کیلئے بروئے کار لا سکیں۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں توقع ہے کہ ڈنمارک ڈیٹ ریلیف تجویز کو آگے بڑھانے میں اپنا موثر کردار ادا کرے گا۔ڈینش وزیر خارجہ نے ترقی پذیر ممالک کیلئے ڈیٹ ریلیف کی تجویز کو سراہتے ہوئے اس ضمن میں ممکنہ تعاون کا عندیہ دیا۔۔وزیر خارجہ نے پاکستان کیلئے جی ایس پی پلس اسٹیٹس اور فاٹف کے معاملے پر پاکستان کی حمایت پر ڈنمارک وزیر خارجہ کا شکریہ ادا کیا۔ شاہ محمود قریشی نے کہاکہ پاکستان فاٹف کے حوالے سے تحفظات کو دور کرنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھا رہا ہے ۔وزیر خارجہ نے اپنے ڈینش ہم منصب کو آگاہ کیا کہ پی آئی اے میں زیادہ تر پائلٹس باقاعدہ لائسنس یافتہ ہیں تاہم مسافروں کی جانوں کے تحفظ اور سفری سہولیات کو بین الاقوامی معیار کے مطابق بنانے کیلئے پی آئی اے میں جامع اصلاحات کی جا رہی ہیں۔وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے امور نوجوانان عثمان ڈار نے وزارت خارجہ میں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی سے ملاقات کی جس میں وزیر اعظم کرونا ریلیف ٹائیگر فورس کی کارکردگی کا دائرہ کار بڑھانے اور ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کے استعمال کو بروئے کار لانے کے حوالے سے تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔عثمان ڈار نے وزیر خارجہ کو کرونا ریلیف ٹائیگر فورس کیلئے متعارف کروائی جانے والی ڈیجیٹل ایپلیکیشن کے خدوخال کے حوالے سے مفصل بریفنگ دی۔

شاہ محمود قریشی

مزید :

صفحہ اول -