کسی بھی اسلامی فرقے کو کافر، خلفائے راشدین کی توہین نہ کی جائے

کسی بھی اسلامی فرقے کو کافر، خلفائے راشدین کی توہین نہ کی جائے

  

فیصل آباد(سپیشل رپورٹر) چیئرمین پاکستان علماء کونسل حافظ محمدطاہر محمود اشرفی نے کہا ہے کہ قرآن و سنت کی تعلیمات کے خلاف ہر قسم کے فتوے بازی کو روکا جائے گا اور انتشار اور فساد پھیلانے والے فتویٰ بازوں کے خلاف کارروائی کی جائے۔کسی بھی فرد، جماعت یا گروہ کووطن عزیز میں انتشار پیدانہیں کرنے دیا جائے گا۔پاکستان دشمن قوتیں ملک میں فرقہ وارانہ تشدد پیدا کرنا چاہتی ہیں۔ باہمی اتحاد سے ان سازشوں کوناکام بنائیں گے، پنجاب کے تمام شہروں میں امن کمیٹیوں اور تمام مکاتب فکر کے علماء و مشائخ کے اجلاس منعقد کیے جائیں گے اور فعال بنایا جائے گا۔جامعہ عثمانیہ رضا آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے حافظ محمدطاہر محمود اشرفی نے کہا کہ ملک کی 25 سے زائد مختلف سیاسی ومذہبی جماعتوں کی قیادت نے متحدہ علما بورڈ کے ضابطہ اخلاق کی مکمل تائید کی ہے اور ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاتفریق کاروائی کی جائے گی۔ مساجد، امام بارگاہوں کی انتظامیہ ذہبی منافرت پھیلانے والے خطباء، ذاکرین واعظین کو اجتماعات میں نہ لائیں۔ دیگر علماء و مشائخ نے کہا کہ پیغام پاکستان اور متحدہ علما بورڈ کا جاری کردہ ضابطہ اخلاق تمام مکاتب فکر کی مشترکہ دستاویز ہے حکومت کو اصحاب رسولؐ و اہل بیت ؑکی توہین کرنے والے افراد کے خلاف بلاتفریق قومی ایکشن پلان اور دہشت گردی ایکٹ کے تحت کاروائی کرنی چاہیے۔اجلاس میں متفقہ طور پرضابطہ اخلاق کی منظوری دی گئی اور کہا گیا کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف بلاتفریق کاروائی کی جائیگی۔مذہب کے نام پر دہشت گردی، انتہا پسندی، فرقہ واران تشد دقتل وغارت گری خلاف اسلام ہے اور تمام مکاتب فکر اور تمام مذاہب کی قیادت اس سے مکمل اعلان برات کرتی ہے۔کوئی خطیب، ذاکر یا واعظ اپنی تقریر میں انبیا علیہ السلام، اہل بیت اطہار، اصحاب رسول، خلفائے راشدین، ازواج مطہرات، آئمہ اطہارؑ اور حضرت امام مہدیؑ کی توہین نہ کرے اوراگر کوئی ایس کرتا ہے تو تمام مکاتب فکر اس سے اعلان برات کرتے ہیں۔کسی بھی اسلامی فرقے کوکافرقرار نہ دیا جائے اور کسی بھی مسلم یا غیرمسلم کو ماورائے عدالت واجب القتل قرارنہ دیا جائے اور پاکستان کے آئین کے مطابق تمام مذاہب اور مسالک کے لوگ اپنی ذاتی اور مذہبی زندگی گزاریں۔شر انگیز اور دل آزار کتابوں پمفلٹس،تحریروں کی اشاعت،تقسیم وترسیل نہ ہو،اشتعال انگیز اور نفرت آمیز مود پر مبنی کیسٹوں اور انٹرنیٹ ویب سائیٹس پر مکمل پابندی عائد کی جائے۔پاکستان میں مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم بھی رہتے ہیں لہذا شریعت اسلامیہ کی رو سے غیر مسلموں کی عبادت گاہوں،ان کے مقدسات اور ان کی جان ومال کا تحفظ بھی مسلمانوں اور حکومت پاکستان کی ذمہ داری ہے لہٰذا غیر مسلموں کی عبادت گاہوں،ان کے مقدسات اوران کے لئے جان ومال کی توہین کرنے والوں سے بھی سختی کیساتھ حکومت کو نپٹنا چاہیے۔

ضابطہ اخلاق

مزید :

صفحہ آخر -