کورونا کے سدباب کیلئے سمارٹ لاک ڈاؤن کی موثر پالیسی پر گامزن ہیں، اجمل خان وزیر

کورونا کے سدباب کیلئے سمارٹ لاک ڈاؤن کی موثر پالیسی پر گامزن ہیں، اجمل خان ...

  

  

پشاور(سٹاف رپورٹر)وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کے مشیر برائے اطلاعات و تعلقاتِ عامہ اجمل خان وزیر نے کہا ہے کہ کرونا کے سدباب کے لیے سمارٹ لاک ڈاؤن کی موثر پالیسی پر عمل پیرا ہیں,مختلف اضلاع میں کل 214 متاثرہ علاقوں میں سمارٹ لاک ڈاون لگایاگیا ہے, ان علاقوں میں متاثرہ افراد کی تعداد 2ہزار 410 ہے,اسی طرح سمارٹ لاک ڈاوٗن کی وجہ سے 8 لاکھ 5ہزار877 افراد گھروں تک محدود ہیں۔ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز اطلاع سیل سول سیکرٹریٹ پشاور میں میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کیا۔ اجمل وزیر نے وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا کی ہدایات پر چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز، ان سمارٹ لاک ڈاؤن والے علاقوں میں انتظامات کی نگرانی کررہے ہیں۔ مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ جون کے وسط میں لگائے گئے لاک ڈاؤن کی مدت پوری ہونے پر بہت سے علاقوں سے ہٹادیا گیا ہے,یکم جولائی تک مختلف اضلاع کے 89 علاقوں سے سمارٹ لاک ڈاؤن ہٹا دیا گیا ہے۔ ان علاقوں میں 677 افراد کورونا سے متاثر تھے۔ ان علاقوں میں 35ہزار 752افراد کی نقل و حرکت محدود کی گئی تھی۔ مشیر اطلاعات نے کہا کہ جن علاقوں سے لاک ڈاؤن ہٹایا گیا ہے ان میں ضلع نوشہرہ کے ٹوٹل 15 علاقے، باجوڑ کے 12 علاقے، ایبٹ آباد کے 8 علاقے شامل ہیں۔ جبکہ بنوں کے 2 علاقوں، بونیر کے 4 علاقوں، چارسدہ کے 4، چترال اپر کے 2، مرادن کے 5 اور پشاور کے 4 علاقوں سے اب تک سمارٹ لاک ڈاؤن ہٹایا گیا ہے.اسی طرح جنوبی وزیرستان کا ایک علاقہ اور سوات کے تین علاقوں سے بھی سمارٹ لاک ڈاؤن ہٹایا گیا ہے۔سمارٹ لاک ڈاؤن کے حوالے سے مشیر اطلاعات نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں کورونا کے سدباب کے لیے حکومتی اقدامات جاری ہیں سمارٹ لاک ڈاؤن کے حوصلہ افزاء نتائج سامنے آرہے ہیں,سمارٹ لاک ڈاؤن کیوجہ سے کسی کا روزگار یا کاروبار زندگی متاثر نہیں ہورہا کیونکہ یہ مخصوص علاقے تک محدود ہے۔ صوبے کے ساتوں ڈویژن میں کیسز کی شرح کو مانیٹر کرکے سمارٹ لاک ڈاؤن نافذ کیا جارہا ہے.ضم شدہ اضلاع بارے میں بات کرتے ہوئے مشیر اطلاعات نے کہا کہ ملک کی 72 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ قبائلی عوام کی محرومیوں کا ازالہ کیا جا رہا ہے,قبائلی اضلاع کا انضمام مشکل کام تھا لیکن وزیر اعظم عمران خان کی قیادت میں ہم نے اسے مکمل کیا ہے,ہماری حکومت نے 5 سال کا کام 15 ماہ میں کیا۔ ضم اضلاع کی ترقی کے لیے اٹھائے گئے اقدامات کے بارے میں اجمل وزیر نے کہا کہ پہلی مرتبہ نئے ضم اضلاع میں شفاف انتخابات کروائے گئے جن کی بدولت آج قبائلی عوام کی آواز کو ایوانوں تک پہنچایا جا رہا ہے. انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی اضلاع میں صحت انصاف کارڈ کے ذریعے لوگوں کو صحت کی سہولت دے رہے ہیں۔ اسی طرح خاصہ دار فورس کو پولیس میں ضم کیا گیا ہے اور اس اقدام سے کسی کو بے روزگار ہونے نہیں دیا۔ اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومتیں اداروں کو مزید فعال اور مضبوط بنا رہی ہیں۔ملک کی تاریخ میں پہلی بار قبائلی عوام کو وکیل، دلیل اور اپیل کا حق ملا ہے۔ وزیراعظم عمران خان پہلے وزیراعظم ہیں جو قبائلی عوام کے پاس خود گئے ہیں۔ اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ سندھ ضم اضلاع کی ترقی کے لیے این ایف سی ایوارڈ کے تحت 3 فیصد حصہ نہیں دے رہا۔ ضم شدہ اضلاع کی ترقی کے لیے خیبر پختونخوا تمام وسائل بروئے کار لا رہا ہے۔ صوبے میں شعبہ تعلیم کے مختلف منصوبوں کے بارے میں بات کرتے ہوئے مشیر اطلاعات کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا میں خصوصی بچوں کی تعلیم کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں,خصوصی بچوں کے سیکنڈری اور ہائیر سیکنڈری لیول کے آئندہ تعلیمی سیشن کے امتحانات پشاور بورڈ کے تحت منعقد کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔اس سے پہلے خصوصی بچوں کے امتحانات وفاقی بورڈ برائے انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن کی زیر نگرانی ہوتے تھے.انکا کہنا تھا کہ خصوصی بچوں کو تعلیم اور دیگر ضروری ٹریننگ فراہم کی جائے گی تا کہ وہ ملک کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔انکا کہنا تھا کہ اس وقت تین ہزار تین سو خصوصی بچے سرکاری اداروں میں زیر تعلیم ہیں,خصوصی بچوں کے امتحانات منعقد کرنے کے حوالے سے اسٹیرنگ کمیٹی بنا دی گئی ہے۔ جو اس سارے عمل کی نگرانی کرے گی۔اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ صوبے کے سرکاری سکولوں میں بچوں کی نفسیاتی الجھنوں کے سلجھاؤ کے لیے صوبائی حکومت نے اساتذہ کو سایئکلوجیکل ٹریننگ دینے کا فیصلہ کیا ہے,صوبے کے 34 ہزار سکولوں میں ایک ایک ٹیچر کو محکمہ صحت کے تعاون سے سائیکلوجیکل ٹریننگ دی جائی گی۔انھوں نے کہا کہ فیصلہ کا مقصد بچوں کو نفسیاتی طور پر مضبوط بنانا اور انکو نفسیاتی دباو سے نکالنا ہے,موجودہ حالات میں یہ منصوبہ سود مند ثابت ہوگا تربیت حاصل کرنے والے اساتذہ کو بچے کے نفسیات سمجھنے میں آسانی ہوگی۔ مشیر اطلاعات اجمل وزیر کا کہنا تھا کہ صوبائی وزیر تعلیم اکبر ایوب اور چیف سیکرٹری ڈاکٹر کاظم نیاز کی زیرنگرانی اس منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے جو بہت جلد پایہ تکمیل تک پہنچ جائیگا۔

مزید :

صفحہ اول -