عدالت نے حکومت کو ایئرایمبولینس خریدنے اور روسی ساختہ ہیلی کاپٹر پر مزید اخراجات سے روک دیا کیونکہ۔۔۔

عدالت نے حکومت کو ایئرایمبولینس خریدنے اور روسی ساختہ ہیلی کاپٹر پر مزید ...
عدالت نے حکومت کو ایئرایمبولینس خریدنے اور روسی ساختہ ہیلی کاپٹر پر مزید اخراجات سے روک دیا کیونکہ۔۔۔

  

کوئٹہ(ویب ڈیسک) بلوچستان ہائی کورٹ نے صوبائی حکومت کو فی الحال ائیر ایمبولینس کی خریداری اور گزشتہ دور حکومت میں خریدے گئے روسی ساختہ ہیلی کاپٹر پر مختلف مد میں مزید اخراجات سے روک دیا۔یہ حکم بلوچستان ہائی کورٹ کے جسٹس کامران ملاخیل اور عبدالحمید بلوچ پر مشتمل ڈویژنل بینچ نے تربت ڈسٹرکٹ ہسپتال کی حالت زار کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران دیا۔

عدالت نے ڈسٹرکٹ ہسپتال تربت کی حالت بہتر نہ بنائے جانے پر برہمی کا اظہار کیا اور کہا کہ ایک سال سے ہم اس ہسپتال کی حالت بہتر بنانے کے لیے کہہ رہے ہیں مگر عمل درآمد نہیں ہورہا ہے۔دوران سماعت عدالت کوبتایا گیا کہ تربت ڈسٹرکٹ ہسپتال میں 72 ڈاکٹرز تعینات ہیں مگر صرف 2 آپریشن ٹیبلز ہیں جب کہ ایک سال گزرنے کے باوجود ہسپتال میں بجلی کی مسلسل فراہمی اورصفائی کی صورتحال بہتر نہیں بنائی گئی۔

اس موقع پر عدالت نے اپنے ریمارکس میں کہا صوبے میں صحت کی سہولیات کا یہ عالم ہے کہ کوئٹہ کا شیخ زید ہسپتال جو صرف کورونا کے مریضوں کے علاج کے لیے ہے وہاں کورونا میں مبتلا اسسٹنٹ کمشنر وکیل احمد کاکٹر آکسیجن کا درست پریشر نہ ملنے کی وجہ سے انتقال کرگئے۔

دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ حکومت بلوچستان رواں مالی سال کے بجٹ میں ائیر ایمبولینس خریدنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس پر عدالت نے بلوچستان حکومت کو ائیر ایمبولینس خریدنے اور گزشتہ دور حکومت میں خریدے گئے روسی ساختہ ہیلی کاپٹر پر مختلف مد میں مزید اخراجات سے روک دیا۔عدالت نے سول ایوی ایشن سے ایک سال کے دوران بلوچستان حکومت کے جہازوں اور ہیلی کاپٹروں کے استعمال، اخراجات اور لوگوں و مریضوں کو فراہم سہولیات کی تفصیلات بھی طلب کرلیں جب کہ کیس کی آئندہ سماعت 27 جولائی کو ہوگی۔

مزید :

علاقائی -بلوچستان -کوئٹہ -