ہانگ کانگ کی قومی سلامتی کے قانون پر مغربی پراپیگنڈہ یکسر مسترد

ہانگ کانگ کی قومی سلامتی کے قانون پر مغربی پراپیگنڈہ یکسر مسترد
ہانگ کانگ کی قومی سلامتی کے قانون پر مغربی پراپیگنڈہ یکسر مسترد

  

تیس جون کو چین کی قومی عوامی کانگریس کی مجلس قائمہ نے ہانگ کانگ میں قومی سلامتی سے متعلق قانون کی منظوری دی اور یہ قانون  اسی روز سے نافذ العمل ہوگیا۔قومی سلامتی کے اس قانون کے حوالے سے دنیا بھر سے پیغامات، بیانات اور تبصروں کا سلسلہ جاری ہے۔ ایسے ہی کچھ بیانات چند مغربی میڈیا کی زینت بھی بنے ہیں۔ ان بیانات نے آزادی اظہار رائے کے ان نام نہاد علمبرداروں کے دوہرے چہروں کو ایک بار پھر دنیا پر عیاں کردیا ہے۔  

امریکی جریدے "فارن پالیسی" نے الزام نما بیان میں کہا کہ اس قانون سے ہانگ کانگ جو کہ ایک ملک دونظام کے تحت مثالی خود مختاری سے لطف اندوز ہورہا تھا اب وہاں شہری آزادیاں سلب ہو جائیں گی۔

سی این این کو بھی ایسا لگتا ہے کہ یہ قانون ہانگ کانگ کو ہمیشہ کے لئے بدل دے گا ، شہر کی سیاسی آزادیاں ختم ہو جائیں گی۔ روئٹرز نے بدھ کے روز ایک سرخی میں کہا ہے کہ "چین نے آمرانہ دور کی یاد دلاتے ہوئے ہانگ کانگ کی قومی سلامتی کے قانون منظوری دے دی ہے"۔ جبکہ امریکی وزیر خارجہ مائک پومپیو جیسے مغربی عہدے داروں نے اس قانون کو نافذ کرنے کے اقدام پر سختی سے تنقید کرتے ہوئے یہ دعوی کیا ہے کہ امریکہ اس پر خاموش تماشائی نہیں بنے گا۔

کیا ہانگ کانگ کی اکثریت کو یہ فکر ہے کہ اس قانون کے ذریعے وہ اپنے انفرادی حقوق اور آزادی کو کھو دیں گے؟ کیا واقعی ہانگ کانگ کے شہریوں کو یہ خطرہ ہے کہ خطہ پولیس اسٹیٹ میں تبدیل ہو جائے گا؟ ایسا بالکل نہیں ہے۔ ہانگ کانگ کے شہریوں اور مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے مغربی میڈیا کے ان بیانات کو یکسر مسترد کردیا ہے اور ہانگ کانگ کے قومی سلامتی کے قانون کی مکمل حمایت کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کی مختلف شخصیات نے قومی سلامتی کے قانون کے نفاذ کے لئے اپنی بھرپور حمایت کااظہار کیا ہے۔ یکم جولائی کو ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کی چیف ایگزیکٹو کیری لیم نے ہانگ کانگ کی قومی سلامتی کے قانون کے حوالے سے منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی حکومت قانون سازی سے متعلق امور کو بر وقت آگے بڑھا رہی ہے۔ ہانگ  کانگ خصوصی انتظامی علاقہ اس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے تمام وسائل بروئے کار لائے گا۔

کیری لیم نے کہا کہ گزشتہ سال جون سے ہانگ کانگ میں ہونے والے تشدد نے ہانگ کانگ کے امن کو خطرے میں ڈال دیا ہے ۔خاص طور پر یہاں بیرونی قوتوں  کی  مداخلت نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنادیا۔ مرکزی حکومت نے ہانگ کانگ کی قومی سلامتی سے متعلق قانون سازی کے عمل کو آگے بڑھانے کے لئے بروقت کارروائی کی۔

کیری لیم  نے اس بات پر زور دیا کہ یہ قانون مرکزی حکومت کے ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے پر اعلیٰ سطح کے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ متعلقہ قوانین کو اچھی طرح نافذ کیا جانا چاہئے ، قانون سازی کے مقصد کے حصول کے لئے ہر ممکن کوشش کی جائے گی اور ہانگ کانگ کی قومی سلامتی کے نظام کو بہتر بنایا جائے گا۔

ہانگ کانگ کے خصوصی انتظامی علاقے کی سکریٹری برائے انصاف ، ٹریسا چھنگ نے 30 جون کو ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ وہ قومی سلامتی کو برقرار رکھنے کے عمل کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور اپنےفرائض ادا کرنے کے لئے محکمہ انصاف کی قیادت جاری رکھیں گے۔ ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کے دیگر بہت سے محکموں کے سربراہان نے بھی اس قانون کی بھر پور حمایت کا اظہار کیا۔

اس کے علاوہ ، ہانگ کانگ  خصوصی انتظامی  علاقے کی قانون ساز کونسل کے چیئرمین ، اینڈریو لیونگ نے کہا کہ ہانگ کانگ کی قومی سلامتی کے قانون کا نافذ "ایک ملک ، دو نظام" ، "ہانگ کانگ کے عوام ہانگ کانگ پر حکمرانی" ، اور ہانگ کانگ کے طویل مدتی استحکام اور خوشحالی کے تحفظ کے لئےنہایت اہم ہے۔

ہانگ کانگ خصوصی انتظامی علاقے کی قانون ساز کونسل کے اکتالیس ممبروں نے ایک مشترکہ بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ متعلقہ قوانین نے ہانگ کانگ کی قومی سلامتی کے تحفظ میں موجود  نقائص کو دورکر دیا ہے ۔یہ قانون معاشرتی استحکام اور خوشحالی کی ایک اہم ضمانت ہے۔

"ہانگ کانگ کولیشن" نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے کہ ہانگ کانگ کی قومی سلامتی کا قانون ہانگ کانگ کے باشندوں کے جائز حقوق اور مفادات کی حفاظت کرتا ہے اور "ایک ملک ، دو نظام" کے اصول کی پاسداری کرتا ہے۔

۔

   نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں ۔

۔

اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.

مزید :

بلاگ -