اسلام آباد میں مذہبی رواداری کے نام پر حکومت۔۔۔وفاقی دارالحکومت میں مندر کی تعمیر کے خلاف سینیٹر ساجد میر کھل کر بول پڑے

اسلام آباد میں مذہبی رواداری کے نام پر حکومت۔۔۔وفاقی دارالحکومت میں مندر ...
اسلام آباد میں مذہبی رواداری کے نام پر حکومت۔۔۔وفاقی دارالحکومت میں مندر کی تعمیر کے خلاف سینیٹر ساجد میر کھل کر بول پڑے

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر علامہ ساجد میر نے کہا ہے کہ مذہبی رواداری کے نام پر اسلام آبادمیں شرک کا اڈا تعمیر کیا جارہا ہے،اسلامی ریاست کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنے خرچ پر مندر تعمیر کرے، خاص طورپر ایسی جگہ جہاں ہندو برادری کی آبادی بہت کم ہو، اس سے مذہبی رواداری کی بجائے انتشار پیدا ہوگا۔

علامہ ساجد میر کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں جب پہلے سے سید پور ویلج  میں ایک تاریخی مندر موجود ہے، مندر کی حالت بھی اچھی ہے وہاں کوئی پوجا کے لیے نہیں آیا،سوال ہے کہ اگر موجود مندر میں کوئی پوجا کے لیے نہیں آتا تو پھر نیا مندر کس کے لیے ہے؟ اسلام اقلیتوں کے جائز حقوق کامحافظ اور مذہبی رواداری کا حامی ہے مگر اسلام نے شرک کو بالکل حرام قرار دیا ہے اور اس کی تبلیغ پہ بھی پابندی عائد کی ہے اور اس کو ظلم عظیم بتایا ہے کہ اللہ سے شرک روا رکھا جائے،اگرچہ اسلام میں زبردستی نہیں لیکن شرک کا اڈا بنانا یا اسکا ساتھ دینا بھی جائز نہیں،مختلف ممالک پر اسلامی فوجوں کی یلغار کے بعد وہاں لوگوں کی عبادت گاہوں کو بلاجواز مسمار نہیں کیا گیا ،مکہ میں بتوں کی تباہی سے ایران کے آتش کدے کے بجھنے اور محمود غزنوی کے بت شکن بننے کے واقعات موجود ہیں، اسکے برعکس عیسائیوں اور یہودیوں کی عبادت گاہوں کو مکمل تحفظ دیا گیا مگر تعمیر تو ان کی بھی نہیں کی گئی حالانکہ وہاں اللہ کی عبادت ہوتی تھی جبکہ مندر تعمیر کرنا تو بالکل محال ہے۔

انہوں نےکہاکہ اسلامی حکومت نےکسی ملک پر زور نہیں دیا کہ وہ مساجد تعمیر کروائے،لوگ اپنی مدد کے تحت مساجد تعمیر کرتے ہیں،اسی طرح اسلامی حکومت پربالکل فرض نہیں کہ ان کی عبادت گاہوں کو تعمیر کرے اور شرک کے اڈے بنائے اور کفار کی مدد کرے،اسلام میں کفار کے لیے اعلانیہ اپنے مذہب کی تبلیغ اور مزید مذہبی ادارے بنانا منع ہے،اسلام آباد جہاں اسلام کو آباد ہونا تھا وہاں پر توحید مسجد کو حکومت گرا دیاگیا جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے،اس ناپاک جسارت سے حکومتی صفوں میں ناعاقبت اندیش لوگوں نے انتشار کو ہوا دی،اب اسی سرکاری خزانے سے شر ک کے اڈوں کو کھولا جارہا ہے جبکہ مسجد دشمنی میں بجلی کے بل میں ٹی وی کا ٹیکس لگا کر بھیجا جارہا ہے۔

مزید :

علاقائی -پنجاب -لاہور -