”بابراعظم کو کپتان بنایا ہے تو اعتماد دیں، اچھی کارکردگی دکھائے تو 10 سال چلائیں“

”بابراعظم کو کپتان بنایا ہے تو اعتماد دیں، اچھی کارکردگی دکھائے تو 10 سال ...
”بابراعظم کو کپتان بنایا ہے تو اعتماد دیں، اچھی کارکردگی دکھائے تو 10 سال چلائیں“

  

لاہور (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق چیف سلیکٹر اور کپتان انضمام الحق نے کہا ہے کہ سرفراز احمد نے ٹیم کو چیمپئنز ٹرافی جتوائی، ٹی 20میں نمبر ون بنایا، انہیں بطور کپتان مزید وقت ملنا چاہیے تھا لیکن اب اگر بابراعظم کو کپتان بنایا ہے تو اسے اعتماد دیں، اگر وہ اچھی کارکردگی دکھائے تو 10 سال چلائیں۔

تفصیلات کے مطابق انضمام الحق کا ماننا ہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سرفراز کو جلدی ہٹادیا کیونکہ کپتان تجربوں سے ہی سیکھتا ہے اور جب سیکھتا ہے اس کو ہٹادیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کرکٹ ٹیم میں تسلسل نہ ہونے پر کھل کر بات کی اور کہا کہ جب پلیئرز اور کپتانوں کو یہ خوف ہوگا کہ وہ آج ہیں، کل نہیں تو ان کی کارکردگی متاثر ضرور ہوگی۔ کھلاڑی ایک یا دو سیریز سے ٹاپ پلیئرز نہیں بن جاتے، جب صلاحیتیں سامنے آجائیں تو ان کو ثابت کرنے کا پورا موقع دیا جائے، ایسے میں سلیکٹر کی نظر کا کردار بھی کافی اہم ہوتا ہے۔

سابق کپتان نے کہا کہ نوجوان کرکٹرز کو موقع کیساتھ ساتھ اعتماد دینا بھی ضروری ہوتا ہے تاکہ وہ بھرپور انداز میں اپنی صلاحیتوں کا استعمال کر سکیں۔ بابر اعظم شروع میں ٹیسٹ کرکٹ میں مشکلات کا شکار رہے لیکن ان کی صلاحیت سے کسی کو انکار نہیں تھا اس لئے ہر کسی نے بابر اعظم کو اعتماد دیا اور آج وہ ہر فارمیٹ میں اچھا پرفارم کررہا ہے۔

سابق کپتان نے سرفراز احمد کو کپتانی سے ہٹائے جانے کے فیصلے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ایک ایسے کپتان کو ہٹادیا گیا جس نے تین سال سے ٹیم کو ٹی 20 میں نمبر ون رکھا تھا، چیمپئنز ٹرافی جتوائی، لاتعداد میچز میں فتح دلوائی، جس کا مطلب یہ تھا کہ اس کو کپتانی آتی تھی، ٹورنامنٹ میں اچھی بری پرفارمنس ہوتی رہتی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ جب کپتان کو یہ پیغام ملنا شروع ہوجائے کہ آپ ڈراپ ہوسکتے ہو، تو یہ دل میں خوف بٹھا دیتا ہے جس سے پرفارمنس نیچے چلی جاتی ہے اور کپتان کی اپنی اور ٹیم کی پرفارمنس متاثر ہوجاتی ہے۔ ورلڈ کپ میں بھی کھلاڑیوں کے ذہن میں خوف تھا کہ اگر اچھا نہیں کھیلا تو ہٹادیا جائے گا، کپتان کو بھی یہ ڈر تھا کہ اگر ٹیم نے پرفارم نہیں کیا تو ہٹا دیا جائے گا، یہی رویہ رہا تو کرکٹ آگے نہیں جائے گی۔

اس موقع پر انہوں نے ورلڈ کپ 1992ءکی فاتح ٹیم کے کپتان عمران خان کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے بھی 10 سال بعد تیسرے ورلڈ کپ میں جاکر ٹیم کو کامیابی دلوائی کیونکہ اس وقت تک انہیں ٹیم لڑانے کا بھرپور تجربہ ہوچکا تھا، اب ہم دو تین سال میں کپتان بدل دیں گے تو اس کو تجربہ کیسے حاصل ہوگا؟ کپتان مار کھاکر ہی تجربہ حاصل کرتے ہیں اور جب کپتان تجربہ حاصل کرنے لگتا ہے تو اسکا ہٹا دیا جاتا ہے جو پاکستان کرکٹ کیلئے بہت تکلیف دہ ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ اب بابر اعظم کو کپتان بنایا ہے تو اسے اعتماد دیں اور لمبا چلائیں، اگر اچھا کپتان ثابت ہوتا ہے تو 8 سے 10 سال اس کے ساتھ چلائیں۔ مجھے نہیں لگتا کہ بابر اعظم ڈمی کپتان ثابت ہوں گے کیونکہ انہیں کرکٹ کی سمجھ بوجھ ہے اور وہ جانتے ہیں کہ ٹیم کس طرح چلانی ہے لیکن ایک چیز ضروری ہے کہ کپتان اپنی پرفارمنس پر بھی توجہ رکھے کیونکہ پورے سکواڈ میں سب سے اہم بندہ کپتان ہوتا ہے نہ کہ کوچ یا کوئی اور ، کپتان ہی ہوتا ہے جو فیلڈ میں پلیئرز کو لڑاتا ہے اس لئے کپتان کا مضبوط ہونا ضروری ہے۔

مزید :

کھیل -