" پی آئی اے وہ ایئر لائن ہے جس نے 71 کی جنگ میں ۔۔۔ "  ایمریٹس ایئر لائن شروع کرانے والے پاکستانی پائلٹ جونی صادق میدان میں آگئے

" پی آئی اے وہ ایئر لائن ہے جس نے 71 کی جنگ میں ۔۔۔ "  ایمریٹس ایئر لائن شروع ...

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے سابق پائلٹ جان محمد عرف کیپٹن جونی صادق نے پی آئی اے کو ٹھیک کرنے کیلئے اپنی خدمات پیش کردیں۔

کیپٹن جونی صادق نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ پائلٹس کے بارے میں جو کچھ کہا گیا اس کا اکثر حصہ حقیقت پر مبنی ہے لیکن وہ پی آئی اے کو تباہ کرنے کے معاملے سے اتفاق نہیں کرتے ، یہ شکست خوردگی ہے۔ جب وہ بطور پائلٹ کام کرتے تھے تو اس وقت بوئنگ کمپنی سے ہر سال پائلٹس اور انجینئرز کو بلایا جاتا تھا جو پاکستانی پائلٹس کے ٹیسٹ لیا کرتے تھے، اگر پی آئی اے کو بہتر بنانے کیلئے ادارے سے باہر بیٹھے لوگوں کی مدد حاصل کی جائے تو اس کے مسائل حل کیے جاسکتے ہیں۔

جان محمد صادق کے مطابق پی آئی اے کو بہت سی حکومتوں نے اپنا اپنا کچرا پھینک کر آلودہ کیا جس کی وجہ سے بہت سے پروفیشنلز اس کو چھوڑ کر چلے گئے، ہمیں یہ سوچنے کی ضرورت ہے کہ آخر انٹرنیشنل مسافر پی آئی اے میں پرواز کیوں نہیں کرتے؟ اس سوال کا جواب دیتے ہوئے جونی صادق کہتے ہیں کہ صدر ضیاء الحق نے قومی ایئر لائن میں شراب کی فراہمی پر پابندی عائد کردی تھی جو آج تک برقرار ہے جبکہ برادر اسلامی ممالک کی فلائٹس میں آج بھی شراب مہیا کی جاتی ہے، یہی وجہ ہے کہ راتوں رات ہماری ایئر لائن کے ایک تہائی مسافر کم ہوگئے۔

انہوں نے کہا ہم اس ضیاء الحق کی بات کر رہے ہیں جو عمان میں اپنے گھر میں اپنے ہاتھوں سے مجھے شراب پلایا کرتا تھا، اس کا ایک بیٹا اور داماد بھی مشروب مغرب کے رسیا ہیں، ان کے داماد کو پی آئی اے میں اس لیے ڈال دیا گیا تھا تاکہ وہ اپنے سسر کی امریکہ وغیرہ میں جائیدادوں کا تحفظ کرسکے۔ یہ وہی شخص تھا جس نے ایک امریکی خاتون کو جنسی ہراساں کیا جس پر پی آئی اے کو عدالت کے باہر کیس سیٹل کرنے کیلئے ایک لاکھ ڈالر ادا کرنا پڑے تھے۔

جونی صادق کے مطابق انہوں نے چیف پائلٹ ہونے کی حیثیت سے ایمریٹس کے ابتدائی پائلٹس کو بھرتی کیا تھا، ان لوگوں کو شرم آنی چاہیے جو جنگ میں پی آئی اے کے کردار کو بھول جاتے ہیں۔1971 کی جنگ میں ہمارے پائلٹس نیوی کے مشن کی تکمیل میں شہید ہوئے، 1965 میں میں خود انتہائی ضروری اسلحہ لے کر آیا، آپ کے خیال میں 1971 میں 14 سکواڈرن پائلٹس کو برما لے کر کون گیا تھا؟

جونی صادق کہتے ہیں "اتنی خدمات کے باوجود آپ لوگ چاہتے ہیں کہ پی آئی اے کے مسائل حل کرنے کی بجائے اسے ختم کردیا جائے، نور خان اور اصغر خان زندہ ہوتے تو وہ اس کا مختصر اور منہ توڑ جواب دیتے، مجھے پی آئی اے کے ساتھ اپنی رفاقت پر فخر ہے۔81 سال کی عمر میں بھی میں 777 اڑا سکتا ہوں، ایئر لائن کی مشاورت کیلئے میں ہمیشہ دستیاب ہوں، لیکن بوڑھوں کی کسے ضرورت ہے؟ "

مزید :

علاقائی -اسلام آباد -