"ہماری اس مسجد سے متعلق بیان بازی کو ترکی پر حملہ سمجھیں گے" طیب ایردوان نے دنیا کو واضح پیغام دے دیا

"ہماری اس مسجد سے متعلق بیان بازی کو ترکی پر حملہ سمجھیں گے" طیب ایردوان نے ...

  

استنبول (ڈیلی پاکستان آن لائن) ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ہم  جس طرح دیگر ممالک میں قائم کی جانے والی مختلف مذاہب کی عبادت گاہوں کی تعظیم  مقدم سمجھتے ہیں اسی طرح ہم  چاہتے ہیں کہ  ہماری عبادت  گاہوں کے معاملات میں بھی کوئی ریاست دخل اندازی نہ کرے۔

استنبول  کے علاقے لیونت میں ایک نئی  مسجد کے سنگ بنیاد  کی تقریب سے خطاب کرتےہوئے ترک صدر  نے کہا کہ ترکی میں اکثریت مسلمانوں کی ہے  یہاں  دیگر مذاہب کے پیروکار بھی آباد ہیں وہ  اپنے عقائد کے مطابق آزادانہ طور پر اپنی عبادت کرتے ہیں اور تہوار منانے کا حق رکھتے ہیں جن کا تحفظ ہماری اولین  ذمے داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا میں کروڑوں افراد  مذہبی عقائد  کی وجہ سے  قتل کیے جاتے  یامختلف اذیتوں  اور مصائب کا شکار  ہیں ۔ ایسے واقعات میں ملوث عناصرسے باز پرس کرنا اور انہیں روکنا زیادہ  ضروری ہے۔اس ضمن میں ہرریاست اپنی  بنیادی ذمہ داریاں پوری کرے۔

 " آیا صوفیہ " کے  متعلق ان کاکہناتھا کہ اس بارے میں بیان بازی کو  ترکی کی سالمیت پر حملہ  تصور کیا جائے گا ۔

خیال رہے کہ آیا صوفیہ قسطنطنیہ (موجودہ نام استنبول) کی فتح کے وقت ایک گرجا گھر تھا جسے عثمانی ترکوں نے مسجد میں تبدیل کردیا تھا، بعد ازاں 1935 میں جدید ترکی کے بانی مصطفیٰ کمال پاشا نے اسے میوزیم بنادیا تھا۔ موجودہ ترک صدر رجب طیب ایردوان اس کو دوبارہ سے مسجد بنانا چاہتے ہیں جس کی دنیا بھر میں مخالفت کی جارہی ہے۔

جمعرات کو ترک کونسل آف سٹیٹ نے آیا صوفیہ کے میوزیم برقرار رہنے یا اسے دوبارہ مسجد بنائے جانے کے حوالے سے کیس کی سماعت کی اور کہا کہ وہ 15 دن میں اس کا فیصلہ سنادیں گے۔

مزید :

بین الاقوامی -